فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 18

اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہم اللہ نے کئی کئی اسناد سے نقل کیا ہے ۔ جن لوگوں نے اس میں تاویل کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے انہیں قتل کیا ۔اور باغی جماعت سے مراد دم عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ کرنے والے ہیں ۔ ان تاویلات کا فاسد ہوناہر خاص و عام کے لیے ظاہر ہے ۔یہ روایت بخاری اورمسلم میں صحیح اسناد کے ساتھ منقول ہے۔ اسے امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ نے صحیح کہا ہے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ آپ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ لیکن آخر میں انہوں نے اس حدیث کی تصحیح کردی تھی۔

یعقوب بن شیبہ نے اپنی مسند میں [مسند اہل مکہ] میں مسند حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے احوال میں کہا ہے: ’’ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا ؛ آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے متعلق پوچھا گیا:’’ اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ انہیں باغی گروہ نے ہی قتل کیا؛ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اوراس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث منقول ہیں ۔لیکن آپ نے اس بارے میں اس سے زیادہ بات کرنے کو ناپسند کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے :’’ ہم سے مسدد نے حدیث بیان کی ؛ ان سے عبدالعزیز بن المختار نے ؛ اور ان سے خالد الحذاء نے حدیث بیان کی ؛ وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں ؛وہ کہتے ہیں : مجھ سے اور اپنے صاحبزادے علی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان کی احادیث سنو ۔ ہم گئے ۔ دیکھا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے باغ کو درست کر رہے تھے ۔ ہم کو دیکھ کر آپ نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے ۔ پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے ۔ جب مسجد نبوی کے بنانے کا ذکر آیا تو آپ نے بتایا کہ ہم تو [مسجد کے بنانے میں حصہ لیتے وقت] ایک ایک اینٹ اٹھاتے ۔ لیکن عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا:

’’ افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی ۔‘‘

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ [صحیح البخاری ۴؍ ۲۱؛ کتاب الجہاد ؛ باب مسح الغبار عن الرأس في سبیل اللّٰہ۔]

امام بخاری نے اسے ایک دوسری سند سے بھی حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے۔لیکن بہت سارے نسخوں میں پوری حدیث کو ذکر نہیں کیا گیا ہے؛بلکہ ان میں اتنا ہی ہے:

’’ افسوس ! عمارتم انہیں جنت کی دعوت دو گے اور وہ تمہیں جہنم کی دعوت دے رہے ہوں گے۔‘‘

لیکن اس بارے میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ حدیث میں وارد یہ الفاظ زیادہ ہیں ۔

امام ابو بکر البیہقی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے کہا ہے: ’’ یہ روایت کئی حضرات نے خالد الحذاء سے روایت کی ہے؛ وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔ امام بہیقی رحمہ اللہ کے مطابق امام بخاری نے یہ زیادہ الفاظ ذکر نہیں کئے۔ اور اس کا عذر یہ پیش کیا ہے کہ یہ زیادہ الفاظ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے۔ لیکن آپ سے آپ کے ایک ساتھی ابو قتادہ نے بیان کئے۔

جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت شعبہ کی ابو نضرہ سے روایت میں ہے؛ وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ؛ آپ نے فرمایا؛ ’’ مجھے اس نے خبر دی جو مجھ سے بہتر ہیں ؛ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

داؤدبن ابی ہند کی ابو نضرہ سے روایت ابوسعید خدری سے؛ اس میں ہے؛ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ایک گروہ خروج کرے گا؛ انہیں وہ جماعت قتل کرے گی؛ جو اللہ کے نزدیک زیادہ حق پر ہوگی۔‘‘[سبق الحدیث؛ و ہذہ الروایۃ في مسلم و سندھا فیہ ۲؍۷۴۶ محمد بن المثنی ؛ حدثنا عبد الأعلی ؛ حدثنا داؤد بن أبي نضرۃ ....‘‘]

حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ میں نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا؛ لیکن جب میں آیا تو میرے ساتھی کہہ رہے تھے؛ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا:

’’اے ابن سمیہ ! افسوس ہے کہ تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘[مسلم برقم ۷۰]

یہ حدیث امام مسلم روایت کی ہے۔سنن نسائی اوردیگر کتب میں ہے یہ حدیث ابن عون کی سند سے حسن بصری سے مروی ہے؛ وہ اپنی والدہ سے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ۔فرماتی ہیں ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘[مسلم برقم ۷۳]

یہ حدیث شعبہ نے خالد سے ؛ اس نے سعید بن ابی الحسین اور حسن سے روایت کی؛ وہ دونوں اپنی والدہ سے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ۔

اس کی بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ غزوہ یوم خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا۔‘‘

صفحہ 14 از 18