فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 15 از 18

بہیقی نے اور دیگر محدثین نے اسے غلط کہا ہے؛ اور صحیح یہ ہے کہ آپ نے یہ جملہ تعمیر مسجد کے موقع پر ارشاد فرمایا۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا احتمال ہے کہ آپ نے یہ جملہ دوبار ارشاد فرمایا ہو ۔ یہ حدیث اس کے علاوہ دیگر اسناد سے بھی روایت کی گئی ہے۔جن میں حضرت عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے عبداللہ کی روایات بھی ہیں ۔اور حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے؛ اور خود حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کی ہے۔ یہ تمام اسناد قریب قریب ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی اس کی دیگر کمزور اسناد بھی ہیں ۔ لیکن صحیح روایت دوسری تمام روایات سے مستغنی کردیتی ہے۔[سنن الترمذي ۳۳۳؍۵؛ کتاب المناقب ؛ باب مناقب عمار بن یاسر؛ عن ابی ہریرۃ۔ وصحح الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲۶۹؍۲ ؍ برقم ۷۱۰۔ وذکر اسنادہ ؛ وتکلم علی طریقہ و الفاظہ ۔ ] محدثین رحمہم اللہ کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ثابت ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے آپ کو قتل کیا؛ وہی تھے جو براہ راست آپ کے قتل کے مرتکب ہوئے۔حدیث میں مطلق ’’باغی‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسے کسی مفعول کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلًا﴾ (الکہف ۱۰۸)

’’ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان گرامی ہے:

((الذِین ہم فِیکم تبع لا یبغون أہلا ولا مالا۔))[ہذا جزء مِن حدِیث رواہ مسلِم فِی صحِیحِہِ عن عِیاضِ بنِ حِمار المجاشِعِیِ رضی اللّٰہ عنہ فِی:۴؍۲۱۹۷، ۲۱۹۹ِ ؛ کتابِ الجنۃِ وصِفۃِ نعِیمِہا وأہلِہا، بابِ الصِفاتِ التِی یعرف بِہا فِی الدنیا أہل الجنۃِ وأہل النارِ ونصہ فِیہِ: (( أن رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ قال ذات یوم فِی خطبتِہِ:(( ألا ِإن ربِی أمرنِی أن أعلِمکم ما جہِلتم مِما علمنِی یومِی ہذا۔کل مال نحلتہ عبداً حلال وِإنِی خلقت عِبادِی حنفاء کلہم ....الحدِیث وفِیہِ....وأہل النارِ خمس: الضعِیف الذِی لا زبر لہ، الذِین ہم فِیکم تبعا ولا یبغون أہلا ولا مالا....الحدِیث۔وذکر مسلِم لہ طرِیقا آخر جاء فِیہِ: (( وہم فِیکم تبعا لا یبغون أہلا ولا مالا ))۔ ومعنی لا زبر لہ: أی لا عقل لہ یزبرہ ویمنعہ مِما لا ینبغِی۔]

’’وہ لوگ جو تم میں تمہارے تابع ہیں ؛ وہ نہ اپنا گھر چاہتے ہیں نہ ہی مال۔‘‘

جب لفظ بغی کااطلاق کیا جاتا ہے؛تو اس سے مراد ظلم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی ﴾ (الحجرات ۹)

’’ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان گرامی ہے:

﴿، فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ ﴾ (البقرہ ۱۷۳)

’’پھر جو مجبور کر دیا جائے، اور وہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا۔‘‘

مزید برآں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملے اس وقت ارشاد فرمائے جب وہ مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے۔ جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لاتے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ افسوس ! عمارتم انہیں جنت کی دعوت دو گے اور وہ تمہیں جہنم کی دعوت دے رہے ہوں گے۔‘‘

اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی مذمت کا کوئی پہلو نہیں ؛ بلکہ آپ کی مدح و تعریف ہے۔ اور اگر آپ کو قتل کرنے والے حق پر ہوتے تو اس میں حضرت عمار کی کوئی مدح و تعریف کی بات نہ تھی۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر ان کی مدح و تعریف واجب ہوتی ہو۔

ایسے ہی جن لوگوں نے آپ کے قاتل کے بارے میں تاویل کی ؛ کہ اس سے مراد وہ جماعت ہوگی جس کے ساتھ ان کا قاتل ہو گا۔ اس تاویل میں کھلم کھلا خرابی پائی جاتی ہے۔اور ان پروہی لازم آتا ہے جو وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لازم کر رہے ہیں ۔وہ یہ کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غزوات میں اپنے ساتھیوں جیسے حضرت حمزہ وغیرہ کو قتل کیا ہو۔ اوریہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ:فلاں نے فلاں کو قتل کیا ۔ کیونکہ انہوں نے ان کو ایسا حکم دیا جو ان کی موت کا سبب بنا۔ مگر یہ بات قرینہ پر مبنی ہوتی ہے؛ عند الاطلاق یہ بات نہیں کہی جاسکتی ۔ بلکہ عند الاطلاق قاتل وہی ہوگا جس نے قتل کیا ہے؛ نہ کہ حکم دینے والا ۔

پھر یہ بات اس سے کہی جاسکتی ہے جس نے غیر کو حکم دیا ہو۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کسی ایک نے بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب سے لڑنے کا نہیں کہا تھا۔ بلکہ آپ لوگوں سے بڑھ کر ان سے لڑنے کے حریص تھے۔ اور اس میں سب سے زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ آپ کی یہ حرص کسی بھی دوسرے کی حرص سے بڑھ کر تھی۔ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کو اس جنگ کی ترغیب دیا کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ عقائد اور مقالات نقل کرنے والے علماء میں سے کسی ایک نے بھی اس رائے کو اختیار نہیں کیا ۔بلکہ حدیث کے ماہر اہل علم کے اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں :

۱۔ ایک گروہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک یہ حدیث ایسی اسانید سے روایت کی گئی ہے جو ثابت نہیں ہیں ۔ لیکن اہل صحیح نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ امام بخاری نے بھی اسے حضرت ابو سعید سے روایت کیا ہے؛ جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ امام مسلم نے حضرت حسن کی والدہ کی سند سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو سعید اور قتادہ اور دیگر حضرات کی اسانید سے روایت کی گئی ہے۔

۲۔ ان میں سے کچھ حضرات کہتے ہیں : یہ اس بات کی دلیل حضرت امیر معاویہ ان کے ساتھی باغی تھے۔ اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو ان سے قتال کیا ؛ وہ اہل عدل کا اہل بغی سے قتال تھا۔ لیکن یہ باغی متاول تھے ۔ انہیں کافر یا فاسق نہیں کہا جاسکتا۔

صفحہ 15 از 18