فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 18

لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صرف ان کے باغی ہونے میں کوئی ایسی چیز تھی جو ان سے قتال کو واجب کرتی تھی ؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر باغی سے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ باغیوں سے جنگ شروع کرنے کا حکم ہی نہیں دیا ۔ لیکن یہ ارشاد فرمایا ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَo اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَo﴾ (الحجرات]

’’ اور اگر ایمان والوں کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دونوں کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ مومن توبھائی ہی ہیں ، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

پس اللہ تعالیٰ نے باغیوں سے جنگ شروع کرنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ حکم دیا ہے کہ جب اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو انہیں کے مابین صلح کرادو ۔ یہ حکم ان سب کو شامل ہے؛ بھلے وہ دونوں گروہ باغی ہوں ؛ یا ان میں سے ایک گروہ باغی ہو۔ پھر ارشاد فرمایا :

﴿ فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ

’’ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گرامی :

﴿ فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی

’’ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔‘‘

بسا اوقات یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ: اس بغاوت سے مراد اصلاح کے بعد ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن کے الفاظ صاف ظاہر ہیں :

﴿ فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی

’’ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے۔‘‘

یہ حکم دونوں لڑنے والے گروہوں کو شامل ہے۔ خواہ ان کے مابین صلح کروائی گئی ہو یا نہ کروائی گئی ہو۔ جیسا کہ اصلاح کا حکم دونوں لڑنے والے گروہوں کو مطلق طور پر شامل ہے۔ قرآن کریم میں کہیں بھی باغیوں سے قتال شروع کرنے کا حکم نہیں ہے۔ لیکن حکم یہ ہے کہ جب دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کرادو؛ اور پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر تجاوز کرے تو ان سے لڑائی کی جائے حتی کہ وہ اپنے اس عمل سے باز آجائیں ۔ اوریہ اس وقت ہو گا جب وہ اصلاح کی بات نہ مانیں ۔لیکن اگر یہ گروہ صلح کی دعوت قبول کرلیں ؛ تو ان سے جنگ نہیں لڑی کی جائے گی۔ اور اگر ان سے لڑائی شروع ہو جائے؛ اور پھر وہ صلح کی طرف مائل ہو جائیں تو پھر بھی ان سے جنگ نہیں لڑی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہی ہے:

﴿ فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ ﴾ (الحجرات)

’’ تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

تو اس لڑائی کے بعد بھی حکم یہی ہے کہ اگر وہ صلح کی طرف پلٹ آئیں کہ ان کے مابین عدل ہو تو پھر ان کے مابین انصاف کیا جائے۔ فتنہ کی لڑائی میں یہ واقعہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ شروع کرنے کا حکم نہیں دیا۔ لیکن یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ آپس میں لڑیں ؛ اور ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے ؛ تو پھر زیادتی کرنے والے سے لڑا جائے۔ اور یقیناً اس آیت میں پہلے اصلاح کا حکم ہے؛ اور پھر سب مل کر زیادتی کرنے والے سے لڑیں ۔ ان میں سے کسی ایک کو یہ حکم نہیں ۔ کبھی ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی گروہ شروع میں زیادتی کرنے والا ہو؛ لیکن جب اس نے زیادتی کی ؛ تو اس سے لڑائی کا حکم دیا گیا۔ تو درایں صورت اسے ان سے قتال کرنے والا شمار نہیں کیا جائے گا؛ بھلے ایسا عدم قدرت کی وجہ سے ہو یا کسی دوسری وجہ سے ۔ اور بسا اوقات شروع میں باغی گروہ سے قتال کرنے سے عاجز ہوتے ہیں ؛ یا پھر ایسی لڑائی نہیں کی جاسکتی جس میں انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹایا جائے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جو کوئی بھی قتال پر قادر ہو ؛ وہ ایسے بھی قتال کرسکتا ہو کہ دوسرے کو اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے پر مجبور کردے۔ جب وہ اتنا لڑنے سے عاجز ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹا سکیں ؛ تو پھر وہ ان سے قتال کے لیے مامور بہ نہیں ہیں ۔ نہ ہی یہ حکم واجب ہے اور نہ ہی مستحب ۔ لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ گمان کرتا ہو کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہے؛ مگر آخر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس پر قادر نہیں تھا۔ یہ وہ اجتہاد ہے جس پر مجتہد کواس کی اچھی نیت اور قصد ؛ اور مامور بہ کے بجا لانے کی بنا پر ثواب ملتا ہے ۔اگروہ غلطی بھی کر جائے تب بھی اس کے لیے ایک اجر ہوتا ہے۔ یہ وہ اجتہاد نہیں ہوتا جس میں دوہرا اجر ہوتا ہے ۔ بیشک ایسا اس وقت ہوتا ہے جب اجتہاد باطن میں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو۔

صفحہ 16 از 18