فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 18

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے: ’’ جب حاکم اجتہاد کرتا ہے؛ اور اس سے خطا ہوجاتی ہے؛ تو اس کے لیے ایک اجر ہے؛ اوراگروہ اجتہاد کرے اور حق کو پالے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے ۔‘‘[رواہ البخاری ۹؍۱۰۸ ؛ کتاب الاعتصام ؛ باب أجر الحاکم إذا اجتہد فأصاب ؛ أو أخطأ؛ مسلم ۵؍۱۳۱ ؛ کتاب الأقضیۃ باب بیان أجر الحاکم إذا اجتہد۔]

یہ بھی اجتہاد میں سے ہے کہ ولی امر یا اس کے نائب کو دویا اس سے زیادہ امور میں سے ایک کا اختیار ہوتا ہے۔ ان میں سے وہ زیادہ مناسب کو اختیار کرتا ہے۔ یہ اختیار شہوت کی بنا پر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ امام ؍ حاکم کو جنگی قیدیوں کے بارے میں اکثر علماء کے نزدیک تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہوتاہے: وہ ان کو قتل کردے ؛ غلام بنالے ؛ یا پھر احسان کرتے ہوئے رہا کردے ۔ بلا شک وہ شبہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :

﴿ فَاِِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِِمَّا فِدَائً﴾ (محمد ۳)

’’ پھر بعد میں یا تو احسان کرنا ہے اور یا فدیہ لے لینا۔‘‘یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔

ایسے ہی ان لوگوں کے بارے میں اختیار جو دشمن اس سالار کے فیصلہ پر راضی ہو جائیں ۔ جیسا کہ بنو قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر قلعوں سے اتر آئے تھے۔ تو اوس میں سے ان کے حلفاء نے عرض کی کہ : جیسے خزرج کے حلفاء بنو نضیر پر احسان کیا گیا تھا؛ ایسے ہی ان پر بھی احسان کرکے چھوڑ دیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہونگے کہ میں ان کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کرنے والا بنادوں ؟ تو اوس اس پر راضی ہوگئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ کے پاس آدمی بھیج کرانہیں بلالیا۔ آپ سوار ہوکر تشریف لائے۔ وہ اس وقت زخمی ہونے کی وجہ سے مسجد میں زیر علاج تھے ۔بنو قریظہ مدینہ کی مشرقی جانب آدھے دن کے فاصلے پر ؛ یا اس کے لگ بھگ دور تھے۔ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاؤ ۔‘‘تو لوگ کھڑے ہوگئے۔ راستہ میں آپ کے قرابت دارآپ سے یہی گزارش کرتے رہے کہ ان پر احسان کیا جائے۔ اور انہیں عہد جاہلیت میں ان کی مدد و نصرت یاد دلاتے رہے۔ جب آپ وہاں پہنچ گئے تو فرمایا: ’’ بیشک اب سعد کے لیے وہ وقت آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا کہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں ۔ تو آپ نے یہ فیصلہ فرمایا :

’’ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا جائے؛ اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔‘‘تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ یقیناً تم نے ان کے بارے میں سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔‘‘[یہ حدیث صحیحین میں ثابت ہے]

ایک دوسری حدیث جسے صحیح مسلم میں روایت کیا گیاہے؛ اس میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ؛ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی قلعہ والوں کو محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق قلعہ سے نکالو تو تم اللہ کے حکم کے مطابق نہ نکالو بلکہ انہیں اپنے حکم کے مطابق نکالو کیونکہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ تمہاری رائے اور اجتہاد اللہ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں ۔‘‘[رواہ مسلم ۳؍ ۱۳۵۶ ؛ کتاب الجہاد و السیر ؛ باب تأمیر الإمام الأمراء ....؛ سنن أبي داؤد ۳؍۵۱ ؛ کتاب الجہاد باب في دعاء المشرکین۔ سنن الترمذي ۳؍ ۸۵ ؛ کتاب السیر ؛ باب ماجاء في وصیۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في القتال۔ سنن ابن ماجۃ ۲؍ ۹۵۴ ؛ کتاب الجہاد باب وصیۃ الإمام۔] 

یہ دونوں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک متعین حکم ہوتاہے؛ جس میں ولی امر کو مصلحت کی بنا پرفیصلہ کا اختیارہوتاہے۔ اور اگراس کے علاوہ کوئی حکم ہوتا؛ تو اس کا حکم ظاہر میں نافذ ہو جاتا۔ پس جو کچھ قتال کے باب میں ہے؛ وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک دو محبوب ترین کاموں میں سے ایک کا انتخاب کریں ۔ خواہ وہ فعل کا بجا لانا ہو یا ترک کرنا۔ اس کی وضاحت مصلحت یا خرابی کی بنا پر ہوتی ہے۔ پس جس چیز کا وجود اس کے عدم سے بہتر ہو؛ جس سے دین میں راجح مصلحت حاصل ہوتی ہو؛ تو یہی وہ چیز ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے خواہ وہ واجب ہو یا مستحب۔ اور جس چیز کا نہ ہونا اس کے وجود سے بہتر ہو؛ تو وہ نہ ہی واجب ہوتی ہے اور نہ ہی مستحب ۔ اگرچہ اس کا اجتہاد کرنے والا اجتہاد کرنے پر ماجور ہے۔

جنگ اس گروہ سے ہوتا ہے جس کے پاس قوت ہو۔ پھر اگر وہ عدل کے ساتھ صلح پر راضی ہو جائیں ؛ تو اب وہ رکاوٹ پیدا کرنے والے باقی نہیں رہتے؛ توان سے قتال کرنا بھی جائز نہیں رہتا ۔اگرچہ وہ باغی ہی کیوں نہ ہوں ۔ یقیناً ان سے قتال کا حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں ؛ فرمایا:

﴿ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ﴾ (الحجرات)

’’ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو ۔‘‘

جیسا کہ جب ان کے مابین لڑائی کی ابتداء ہو تو ان کے مابین صلح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وقوع فتنہ کے وقت ارشاد فرمایا تھا: ’’ لوگوں نے اس آیت پر عمل کو ترک کردیا ۔‘‘اور یہ بالکل ویسے ہی ہوا تھا جیسے آپ نے فرمایا۔ اس لیے کہ جب ان دونوں گروہوں کے مابین جنگ شروع ہوئی تو صلح نہیں کروائی گئی ۔اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آپ باغی گروہ سے جنگ کر رہے تھے؛ تب بھی ان سے جنگ اس وقت کرنا تھی کہ وہ اللہ کے حکم پر لوٹ آئیں ۔ اور پھر ان کے مابین عادلانہ صلح کرادی جاتی۔اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹنے تک جنگ کرو؛ جب وہ لوٹ آئیں تو ان کے مابین صلح کرادو۔ صرف لڑائی کا ہی حکم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

صفحہ 17 از 18