فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 18 از 18

﴿ فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ ﴾ (الحجرات)

’’ تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ۔‘‘

وہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع ہو جائیں ؍ لوٹ آئیں تو قتال رونما نہ ہوتا ؛ اگر یہ امر تقدیر میں ہوتا تو قتال نہ ہوتا ؛ جب آپ کو اس سے عاجز کر دیا گیاتھا تو پھر وہ اس حکم کا مخاطب نہیں رہے تھے۔

یوم احد میں جب جنگ کا تقاضا مسلمانوں کی فتح تھی؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے گناہ کی وجہ سے یہ سارا نقشہ ہی بدل گیا۔ ایسے ہی حنین کے موقع پر میدان جہاد سے فرار اختیار کرنا گناہ کا کام تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ایک گروہ کسی دوسرے گروہ پر زیادتی کرے ؛ اور زیادتی کرنے والے کے ظلم سے بغیر جنگ کے دفاع ممکن ہو ؛ تو پھر اس صورت میں جنگ کرنا جائز نہیں رہتا۔ اگر بغاوت یا زیادتی کا ازالہ وعظ یا فتوی ؛ یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہوسکتا ہو تو قتال جائز نہیں رہتا۔ اگر کسی ایک ایسے کے قتل سے بغاوت کا قلعہ قمع ہو سکتا ہو جس پر قدرت پالی گئی ہو ؛ یا حد قائم کرکے؛ یا کسی کو سزا دیکر ایسا ممکن ہو؛ جیسا کہ چور کے ہاتھ کاٹ کر ؛ یا ڈاکو کو سزا دیکر؛ یا پھر تہمت لگانے والے پر حد قائم کرکے ؛ تو پھر اس صورت میں قتال جائز نہیں رہتا۔ اور اکثر طور پر فتنہ تب واقع ہوتا ہے جب ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرتا ہے۔ جب بغیر قتال کے مظلوم کو اس کا حق دلوانا ممکن ہو تو پھر قتال جائز نہیں ہوتا۔

اس آیت مبارکہ میں کہیں بھی ایسا کچھ بھی نہیں کہ اگر کوئی گروہ کسی عادل حکمران کی بیعت کرنے سے انکار کردے تو اس سے قتال کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ انہیں امام کی اطاعت ترک کرنے کی وجہ سے باغی کہا جا رہا ہو۔ ایسا ہر گز نہیں کہ جو کوئی امام کی بات نہ مانتا ہو اس سے جنگ کی جائے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکواۃ سے جنگ اس لیے کی تھی کہ وہ زکواۃ بالکل ہی ادا نہیں کرتے تھے۔ تو کتاب و سنت کی روشنی میں ان سے جنگ کی گئی۔ ورنہ اگروہ اس کی ادائیگی کو تسلیم کرتے؛ اور یہ کہتے کہ : ہم آپ کو نہیں دیں گے؛ تو پھر ان سے جنگ جائز نہ ہوتی۔ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔

ان لوگوں کا یہ مسئلہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث عمار رضی اللہ عنہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے؛کہ بیشک حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ نے قتل کیا۔ ان کے لیے حضرت علی سے جنگ کرنا جائز نہ تھا۔ اور نہ ہی آپ کی بیعت اور اطاعت سے لیت و لعل کرنا جائز تھا۔ اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان سے قتال کے لیے مامور بہ نہ تھے۔ اور نہ ہی صرف آپ کی اطاعت گزاری سے گریز کرنے کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ان سے جنگ کرنا فرض ہوگیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ شرائع اسلام کا التزام کرتے تھے۔ اگرچہ ہر دو لڑنے والے گروہ متأول ؛ مسلمان اور اہل ایمان تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس فرمان الٰہی کی روشنی میں استغفار اور دعائے رحمت کی جائے گی :

﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَحِیْمٌ﴾ (الحشر۱۰)

’’اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دل میں کہیں (بغض )نہ ڈال؛اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘


صفحہ 18 از 18