فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 18

[جواب ]:اس میں مذمت کی کوئی بات نہیں ۔ اس لیے کہ فتح مکہ کے روز جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے، انھوں نے خلوص دل سے دین کو قبول کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [انہیں قیدی نہیں بنایا تھا بلکہ] سب کو آزاد کردیا تھا۔ان کی تعداد بارہ سو کے لگ بھگ تھی۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو بعد میں بہترین مسلمان ثابت ہوئے ؛مثلاً حارث بن ہشام اور ان کا بھتیجا حضرت عکرمہ، سہیل بن عمرو[سہیل بن عمرو خطیب قریش تھا اور بنی عامر بن لوی ّ کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کا سفیر بن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، فتح مکہ کے دن جب آپ نے اہل مکہ کو خطاب کرکے کہا تھا :’’ تم مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو؟‘‘ تو وہ سہیل ہی تھا جس نے یہ جواب دیا : ’’ہم بھلائی کی توقع رکھتے ہیں ، کیوں کہ آپ اچھے بھائی اور اچھے بھتیجے ہیں ۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے کہی تھی، آج تم پر بھی کچھ عتاب نہیں ۔‘‘ (ابن زنجویہ فی الاموال، الاصابۃ(۲؍۹۵) طبقات ابن سعد(۷؍۱۲۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف قلب کے طور پر سہیل رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا کیے۔ (مستدرک حاکم(۳؍۲۸۱)، وانظر الاصابۃ(۲؍۹۵)، مسند احمد(۳؍۲۴۶) خلافت فاروقی میں مہاجرین و انصار حضرت عمر کے دروازہ پر کھڑے تھے اور آپ انھیں مقام و مرتبہ کے مطابق باری باری اندر بلاتے جاتے تھے۔ اس موقع پر فتح مکہ کے دن مسلمان ہونے والے چند صحابہ بھی موجود تھے، وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، سہیل بن عمرو نے یہ دیکھ کر کہا تم خود قصور وار ہو۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی، تو انھوں نے جلد ی اس دعوت پر لبیک کہا اور تم نے دیر لگا دی اب اسی تاخیر کا خمیازہ بھگت رہے ہو، جب جنت کے دروازوں کی جانب دعوت دی جائے گی تو اس وقت کیا کیفیت ہو گی ۔‘‘ یہ کہہ کر سہیل جہاد کے لیے روانہ ہوئے اور کہا اﷲ کی قسم! میں نے جتنی لڑائیاں کفار کے ساتھ ہو کرلڑی ہیں اب اسی قدر مسلمانوں کی نصرت و حمایت کے لیے لڑوں گا، اورجتنا مال میں نے کفر کی حمایت میں صرف کیا تھا اتنا ہی مسلمانوں پر خرچ کروں گا۔‘‘(مستدرک حاکم(۳؍۲۸۱)، معجم کبیر طبرانی(۶۰۳۸)، و فی اسنادہ انقطاع) امام شافعی رحمہ اللہ سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں : جب سے اسلام لائے اسی وقت سے خالص الاسلام تھے۔جن لوگوں کو شیعہ اور انکے اتباع طنزاً ’’طلقاء‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں ان کے بارے میں انھیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ وہ اولیاء اللہ و اصحاب رسول میں سے تھے، ان میں بعض لوگ سہیل بن عمرو سے بھی افضل اور جہاد میں پیش پیش تھے۔ ان کے سرخیل حضرت معاویہ اور ان کے بھائی تھے، جن کے اسلام پر بڑے احسانات ہیں ۔ حضرت معاویہ کی چھوٹی سے چھوٹی فضیلت یہ ہے کہ آپ اوّلین اسلامی بحری بیڑے کے بانی اور پہلے شخص تھے جس نے سمندر میں بحری جنگ کا آغاز کیا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام قباء میں جو خواب دیکھا تھا اس میں آپ نے اس پیشین گوئی کا اظہار فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، باب من زار قوما فقال عندھم، (حدیث: ۶۲۸۲)، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الغزو فی البحر (حدیث: ۱۹۱۲)۔] صفوان بن امیہ، یزید بن ابی سفیان، حکیم بن حزام؛ابو سفیان ابن الحارث ابن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زادتھے ؛یہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے بعد میں بہترین مسلمان ثابت ہوئے۔ اور عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا والی مقرر کیا۔ ان کے نظائر و امثال یہ سب لوگ خالص الاسلام تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو دل کی سچائی سے اسلام لائے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی یزید رضی اللہ عنہ کے بعد ان کو والی ٔ شام مقرر کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ طرف داری کرنے والے نہ تھے اور نہ انھیں کسی کی ملامت کی پرواہ تھی۔یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما بہترین مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ کا شمار ان جرنیلوں میں ہوتا ہے جنہیں حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے شام فتح کرنے کے لیے روانہ فرمایا تھا۔ ان جرنیلوں میں یزید بن ابو سفیان ‘شرحبیل بن حسنہ ؛ عمرو ابن العاص ؛ابو عبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم ہیں ۔ جب یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس علاقہ پر والی مقرر فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ اور نہ ہی آپ ولایت سے محبت رکھنے والے تھے۔ مزید برآں معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے دوستانہ مراسم بھی نہ تھے۔ بلکہ اسلام سے پہلے ابو سفیان کے بڑے دشمنوں میں سے ایک تھے۔ یہاں تک کہ جب فتح مکہ کے موقع پر جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ ، ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بارگاہ نبوی میں لائے تھے تو آپ اسے قتل کرنا چاہتے تھے۔[ سیرۃ ابن ہشام(۵۴۳۔۵۴۵)۔] اسی بنا پر آپ کے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخ گفتگو بھی ہوئی۔کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ بغض رکھتے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرنا کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے نہ تھا۔ اگر آپ امیربنائے جانے کے مستحق نہ ہوتے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کبھی بھی آپ کو امیر نہ بناتے ۔ 

صفحہ 2 از 18