فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 18

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دمشق اور دیگر بلاد شام میں بیس سال تک امیر اور بیس سال تک خلیفہ رہے۔ آپ کی رعایا آپ کے حسن سلوک، تالیف قلب اور خوبیٔ انتظام و انصرام کی مداح تھی اور آپ پر جان چھڑکتی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ صفین میں انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دیا۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نظائر و امثال سے افضل و اولیٰ بالحق تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فوجی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے معترف تھے۔اور سبھی اس بات کے معترف تھے کے خلافت کے حق دار حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ہیں ۔آپ کی فضیلت کا انکار صرف اسی کو ہوسکتا ہے جو حق کے سامنے سرکش اور خواہشات نفس کے سامنے اندھا ہو۔

ادھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی مسئلہ تحکیم سے پہلے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے خلافت کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ۔ اور نہ ہی آپ کو امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔ آپ نے تحکیم کے بعد خلافت کی طلب کی۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں کئی ایک لوگ ایسے تھے جو یہ سوال اٹھاتے تھے : ہم علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیوں کریں ؟ جب کہ آپ کو نہ ہی سابقت اسلام کا شرف حاصل ہے ‘ اور نہ ہی کوئی دیگر ایسی فضیلت ؛ او رنہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف [جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہے] اورحضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی نسبت خلافت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس چیز کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ تاہم اسکے باوجود انھوں نے جنگ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ شامل ہیں جنھوں نے سراسر ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔اور وہ اب ان سے اس سلوک کا بدلہ لینا چاہتے تھے جو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا ہے۔ لڑائی کا آغاز کرنے والے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے؛ اور حملہ آور سے لڑنا روا ہے۔یہ لوگ اس وقت تک نہ لڑتے تھے جب تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے لوگ ان پر حملہ نہ کردیتے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرگرم معاون اشتر نخعی نے کہا تھا:’’ لوگ ہمارے مخالفین کی مدد کرتے ہیں کیوں کہ ہم نے لڑائی کا آغاز کیا ہے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے لشکر میں موجود قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کی سرکوبی سے قاصر تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے امراء و اعوان آپ کی اطاعت نہیں کرتے تھے، اس کے برعکس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے رفقاء آپ کے مطیع فرمان تھے۔آپ کا خیال تھا کہ جنگ سے مسئلہ حل ہوجائے گا؛ مگرنتیجہ آپ کی سوچ کے برعکس نکلا۔ [ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ] حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ایسے لوگ بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا الزام لگاتے تھے ؛ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس چیز سے بالکل بری تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے طالبین حق یہ بھی کہتے تھے : ’’ ہم صرف اس آدمی کی ہی بیعت کرسکتے ہیں جو ہمارے ساتھ عدل و انصاف کرے ؛ اور ہم پر ظلم نہ کرے ۔‘‘

اگر ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کریں گے تو ہم پر ان کا لشکر ایسے ہی ظلم کریگا؛ جیسے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ظلم کیا ۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یاتو ہمارے ساتھ عدل و انصاف کرنے سے عاجز آگئے ہیں ؛یا پھر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ تو پھر ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ایسے انسان کی بیعت کریں جو ہمارے ساتھ عدل و انصاف کرنے سے عاجز آگیا ہو یا پھر اس نے عدل و انصاف کرنا ہی ترک کردیا ہو۔

ائمہ اہل سنت والجماعت جانتے ہیں کہ یہ قتال نہ ہی مامور بہ تھا‘ نہ ہی واجب تھااورنہ ہی مستحب ۔ لیکن اس انسان کا عذر مقبول ہے جس نے اجتہاد کیا اور غلطی کا شکار ہوگیا۔

[تیسرااعتراض]: شیعہ مضمون نگار لکھتا ہے:’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تألیف قلب والوں میں سے تھے ۔‘‘

[جواب]:درست بات ہے؛فتح مکہ پر بہت سارے آزاد کردہ لوگ تالیف قلب والوں میں سے تھے ۔ جیسے حارث بن ہشام ؛ عکرمہ بن ابو جہل؛ سہیل بن عمرو؛ صفوان بن امیہ ؛ حکیم بن حزام؛یہ لوگ بہترین مسلمانوں میں سے تھے۔ تالیف قلب والوں کی اکثر تعداد بعد میں بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔ ایسا ہوتا تھا کہ صبح کے وقت کوئی انسان دنیا کی لالچ میں مسلمان ہوتا ؛ مگر شام ہونے تک اس کی حالت یہ ہوتی کہ اسلام اس کے لیے روئے زمین کی ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہوگیا ہوتا ۔ 

[کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟]:

[چوتھااعتراض]:شیعہ مضمون نگار لکھتا ہے:’’معاویہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف صف آراء ہوئے، حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل سنت کے نزدیک چوتھے خلیفہ برحق تھے اور جو شخص خلیفہ برحق سے لڑتا ہے وہ باغی اور ظالم ہوتا ہے۔‘‘

[جواب] :پہلی بات: ہم کہتے ہیں : باغی بعض اوقات بنابر تاویل اپنے آپ کو حق پر تصور کرتا ہے۔ بعض دفعہ اس کی بغاوت جان بوجھ کر [بغیر تاویل کے ]ہوتی ہے ۔اور کبھی محرک اس کی تاویل بازی، شہوت نفس یا کوئی شک و شبہ ہوتا ہے ؛ اکثر بغاوت کی یہی وجہ ہوتی ہے۔ بہر کیف یہ اعتراض سرے سے اہل سنت والجماعت کے عقیدہ پر وارد ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بلکہ ان سے افضل لوگوں کو بھی گناہوں سے پاک تصور نہیں کرتے۔ چہ جائے کہ انہیں اجتہاد میں خطاء سے مبرا و منزہ سمجھیں ۔بلکہ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : 

’’گناہوں کی سزا معاف ہونے کے کئی اسباب ہیں ۔ ان میں : توبہ و استغفار ؛ گناہ مٹانے والی نیکیاں ؛ کفارہ بننے والے مصائب ؛ اور ان کے علاوہ دیگر امور ۔‘‘

یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوردوسرے لوگوں کے لیے عام ہے ۔

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ تاریخ میں مشہور ہے؛آپ چھوٹے صحابہ میں سے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت نشین تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ مجھ میں کیا عیب دیکھتے ہیں ؟ مسور رضی اللہ عنہ نے چند امور کا ذکر کیا۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ اے مسور! کیا آپ سے کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں ؟‘‘ کہا: ’’ہاں ۔‘‘

صفحہ 3 از 18