فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 18

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:’’ کیا تمھیں مغفرت کی امید ہے؟‘‘ مسور نے کہا:’’ ہاں ! کیوں نہیں ‘‘

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا’’ تم مجھ سے زیادہ رحمت الٰہی کے امید وار کیوں کر ہوئے؟‘‘ اللہ کی قسم! مجھے جب بھی اللہتعالیٰ اور اس کے سوا کسی دوسری چیز میں اختیار دیا گیا تو میں نے اللہتعالیٰ کی اطاعت کو ترجیح دی۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ: جہاد ، اقامت حدود، امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں میرے اعمال کاپلڑا آپ سے بھاری ہے۔ علاوہ ازیں میں ایسے دین پر عمل پیرا ہوں جس کا اللہ حسنات کو قبول کرتا اور سیئات سے درگزر کرتا ہے۔‘‘توپھر کس چیز کی بنا پر آپ مجھ سے زیادہ اللہ کی رحمت کے طلب گار ہوئے؟[البدایۃ والنھایۃ(۸؍۱۳۳۔۱۳۴) بحوالہ عبد الرزاق۔] حضرت مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ گفتگو میں مجھ پر غالب آگئے ۔‘‘

دوسری بات :یہ کہ: اس باب میں اہل سنت والجماعت اس صحیح اور سیدھی سادی اصل پر قائم ہیں ۔ جبکہ تمہارے اقوال میں تناقض پایا جاتا ہے۔اگر خوارج و نواصب اور دوسرے لوگ[معتزلہ‘ مروانیہ وغیرہ] جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کوکافرو فاسق اور ظالم کہتے ہیں ؛ اور آپ کے عادل ہونے میں شک کرتے ہیں ؛اگر شیعہ حضرات سے پوچھیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحب ایمان و امام اور عادل ہونے کی کیا دلیل ہے؟تو تم شیعہ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔

آپ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا مشرف بہ اسلام ہونا اور آپ کی کثرت عبادت تواتر سےثابت ہے۔

٭ اس کے جواب میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ:یہ تواترصحابہ و تابعین ؛خلفاء ثلاثہ ؛ خلفاء بنو امیہ؛جیسے معاویہ ؛ یزیداور عبدالملک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی ثابت ہے۔جب کہ تم ان کے ایمان پر زبان طعن دراز کرتے ہو۔ہمارا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں کے ایمان پر قدح کرنا تمہارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان پرقدح کرنے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جن کی شان میں تم قدح کرتے ہو‘ وہ ان سے بڑھ کر اور زیادہ عظمت والے ہیں جن کی شان میں ہم قدح کرتے ہیں۔

اگر شیعہ ظواہر قرآنیہ سے احتجاج کریں کہ قرآن میں ان کی مدح وتوصیف بیان ہوئی ہے ۔تو وہ جواب میں کہیں گے: قرآنی آیات عام ہیں یہ حضرت ابوبکر و عمروعثمان اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوایسے ہی شامل ہیں جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو۔ بلکہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ان آیات کے موجب مدح و ثناء کے مستحق ہیں ۔ اگر روافض پوری جماعت کو اس فضیلت سے مستثنیٰ کریں گے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان سے الگ کردینابہت آسان ہے۔[حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں بھی احادیث وارد ہیں ۔، لہٰذا ان کو بھی قبول کرنا چاہئے اور اگر شیعہ صحابہ کو مطعون کریں گے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سے بچ نہیں سکتے]

اگر شیعہ صحابہ کے بارے میں وارد شدہ فضائل و مناقب سے احتجاج کریں تو یہ فضائل جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیے ہیں ‘انہی صحابہ نے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل بھی روایت کیے ہیں ۔ اگر یہ راوی [تمہارے نزدیک ] عادل ہیں تو تمام روایات کو ماننا پڑے گا؛ اور اگر کہو کہ فاسق ہیں تو پھر جب فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کے لیے تحقیق کرنا پڑتی ہے [تا کہ حق بات واضح ہوجائے]۔کسی انسان کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ گواہوں کے بارے میں یوں کہے :

’’ اگریہ میرے حق میں گواہی دیں تو عادل ہوں گے۔ اور اگر میرے خلاف گواہی دیں تو فاسق و فاجر ہوں گے ۔‘‘ یا یوں کہے کہ : ’’ اگر ان لوگوں کی مدح میں گواہی دیں جن سے میں محبت کرتا ہوں ؛ تو پھر عادل ہوں گے۔ اور اگر ان لوگوں کی مدح میں گواہی دیں جن سے میں بغض رکھتا ہوں ‘ تو پھر فاسق ہوں گے۔‘‘

رہا امامت ِحضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسئلہ ؛ تو یہ لوگ اوردیگر فرقے [خوارج ونواصب] آپ سے اس بارے میں تنازع کرتے ہیں ۔اگر تم اپنے دعوی کے مطابق ان کے منصوص ہونے کی دلیل پیش کرتے ہو؛ تو وہ اس کے مقابلہ میں ایسی ہی دلیل پیش کریں گے؛جیسے ان کا دعوی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں ہے ‘ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں [ جیسا کہ مروانیہ کا عقیدہ ہے]۔حدیث و آثار کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا دعوی زیادہ قابل قبو ل ہے۔ ایسے ہی ان حضرات کی خلافت کے برحق ہونے پرایسے دلائل بھی پیش کیے جاسکتے ہیں جن کو سمجھنے کیلئے علم حدیث کا ہونا ضروری نہیں ۔

اگر شیعہ اس بات سے احتجاج کریں کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ توخوارج و نواصب کہہ سکتے ہیں کہ: یہ سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم خلفائے ثلاثہ کی بیعت اس بیعت سے کہیں بڑھ کر تھی،[ اس لیے کہ اہل شام اور اکثر اہل مصر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی]۔جب کہ تم ان کی بیعت کو غلط کہتے ہو۔توپھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت پر قدح کرنا بہت ہی آسان ہے۔ تم جس بھی نص سے یا اجماع سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت پر استدلال کرو گے تو وہی نص و اجماع خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی بیعت و خلافت پر زیادہ قوت سے دلالت کرے گی۔ تو اس طرح جن کی خلافت پر تم قدح کرتے ہو ‘ ان کی خلافت کااثبات اس سے زیادہ اولی ہوگا جس کی خلافت کے اثبات کے لیے تم دلیل پیش کرتے ہو۔

٭ یہ اشکال اہل سنت والجماعت پر وارد نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اہل سنت تمام خلفاء کی خلافت کو ثابت مانتے ہیں ۔اوران کی خلافت کے درست ہونے پر اس باب میں وارد ہونے والی نصوص سے استدلال کرتے ہیں ۔اہل سنت کہتے ہیں :

’’خلافت اہل حل و عقد و اصحاب شوکت کی بیعت سے منعقد ہوتی ہے ۔اہل شوکت نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ اگرچہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ایسے جمع نہ ہوسکے جیسے پہلے تین خلفاء رضی اللہ عنہم کی خلافت پر ان کا اجماع ہوا تھا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جن اہل شوکت و اصحاب قدرت نے آپ کی بیعت کی تھی اس وجہ سے آپ کو قوت و شوکت حاصل ہوگئی تھی۔اور نص بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی خلافت ‘ خلافت نبوت تھی۔‘‘

صفحہ 4 از 18