فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 18

پس جو لوگ آپ کی بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے؛ اس بارے میں ان کا عذر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے عذر سے بڑھ واضح ہے جو کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اگرچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی آپ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلا خلاف لوگوں کے سامنے آپ کی بیعت کی تھی۔مگر یہ بھی کہا گیا ہے کہ : ’’ آپ چھ ماہ تک بیعت سے پیچھے رہے ‘ اور بعد میں بیعت کرلی ۔‘‘

شیعہ میں سے بھی کچھ لوگ یہی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دوباتوں میں سے ایک ہے :

۱۔ یاتو آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہے ‘ اور پھر چھ ماہ کے بعد بیعت کرلی؛ جیسے شیعہ کا اور اہل سنت والجماعت کے ایک گروہ کا خیال ہے۔

۲۔ یا تو پھر آپ نے پہلے ہی دن سے بیعت کرلی تھی ؛ جیسے اہل سنت و الجماعت کے دوسرے گروہ کا کہنا ہے۔

٭ اگر یہ دوسرا قول درست اور حق ہے ؛ تو شیعہ کا استدلال باطل ہواکہ آپ بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ بیعت کرنے والوں میں سبقت لے جانے والے اور پہلے نمبر پر تھے۔

اگر پہلے قول کو درست مانا جائے تو پھر بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ جانے والوں کا عذر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہنے والوں کی نسبت زیادہ ظاہر اور مقبول ہے۔ اس لیے کہ جیسی نصوص اور اجماع ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت کرنے والوں کے پاس ہیں ‘ ایسی نصوص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر موجود نہیں ۔صحیحین میں ایک روایت بھی ایسی نہیں ہے جو آپ کی خلافت پر دلالت کرتی ہو۔ بلکہ یہ روایات اہل سنن نے نقل کی ہیں ۔

بعض محدثین نے حدیث ِ سفینہ پر جرح بھی کی ہے۔ جب کہ اجماع کا دعوی کرنا بھی درست نہیں ہے ؛ اس لیے کہ آپ کی بیعت سے آدھی سے زیادہ امت یا اس سے کچھ کم و بیش لوگ پیچھے رہ گئے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نصوص کے مقتضیٰ کے مطابق دونوں فریقوں کے لیے جنگ و قتال ترک کرنا ہی بہتر تھا۔ اور جنگ سے پیچھے بیٹھ جانا جنگ میں شرکت کرنے سے زیادہ افضل تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے باوجود کہ آپ حق پر تھے ‘ حق آپ کے ساتھ تھا؛ اورمعاویہ رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت آپ ہی حق خلافت رکھتے تھے ؛ پھر بھی اگر آپ جنگ ترک کردیتے ؛ تو یہ آپ کے حق میں زیادہ افضل ‘ اصلح اور بہتر تھا۔

اہل سنت والجماعت ان تمام صحابہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے اور ان کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے۔ فرمان ِ الٰہی ہے :

﴿وَالَّذِیْنَ جَائُ وْا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَحِیْمٌ﴾ (الحشر۱۰)

’’اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دل میں کہیں (بغض )نہ ڈال؛اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

جب کہ رافضی جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں طعن کریگا ‘ اور کہے گا کہ آپ ظالم اور باغی تھے ؛ تو نواصب بھی ان سے کہیں گے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی باغی تھے۔آپ اپنے دور امارت میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے ظالم بھی تھے۔ آپ نے امن عامہ میں خلل ڈالا اور لڑائی کا آغاز کرکے بلاوجہ وبلافائدہ امت کا خون بہایا؛ نہ ہی کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہوااورنہ ہی کوئی دینی فائدہ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شمشیر کفار سے دور اور مسلمانوں کے سر پر آویزاں رہی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قدح کرنے والے کئی گروہ ہیں ۔ ایک گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ جنگ کرنے والے تمام لوگوں پر قدح کرتے ہیں ۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ :علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان دونوں میں سے ایک فاسق تھا مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ کون ہے؟ ۔جیسا کہ عمرو بن عبید اور معتزلہ کی ایک جماعت کا عقیدہ ہے ۔ یہ لوگ جنگ جمل والوں کے بارے میں کہتے ہیں : ان دونوں گروہ میں سے ایک گروہ فاسق تھا؛ مگر اس کا پتہ نہیں کہ وہ کون ساگروہ تھا۔کچھ لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو فاسق کہتے ہیں ۔ ایک گروہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ظالم کہتا ہے‘ جیسا کہ مروانیہ کا عقیدہ ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے : پہلے آپ حق پر تھے ۔ جب آپ نے دو جرگہ داروں کے جرگہ [تحکیم الحکمین ] پر رضامندی کا اظہار کیا تو آپ نے کفر کا ارتکاب کیا اور اسلام سے مرتد ہوگئے ‘ اور کفر کی حالت میں موت آئی ۔ یہ خوارج کا عقیدہ ہے۔

[حدیث عمار رضی اللہ عنہ کا جواب]:

خوارج ؛ مروانیہ ؛ اور بہت سارے معتزلہ اور دوسرے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں جرح و قدح کرتے ہیں ۔ یہ تمام لوگ اس مسئلہ میں خطاء پر ؛ بدعات کا شکار اورگمراہ ہیں ۔مگر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں شیعہ کا طعن و تشنیع کرنا ان لوگوں کے جرم سے بڑا جرم اورگھمبیر خطاء ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے والاکہے : ’’جن لوگوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی وہ[یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی]باغی تھے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’ تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب التعاون فی بنا المسجد، (حدیث:۴۴۷،۲۸۱۲) ہم کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے ۔یہ الفاظ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت ارشاد فرمائے۔ باقی صحابہ ایک ایک اینٹ لارہے تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو، یہ دیکھ کر آپ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے یہ روایت ابو سعید خدری نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس اور علی بن عبداﷲ بن عباس کو سنائی رضی اللہ عنہم ] اوران لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔

صفحہ 5 از 18