فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 18

بعض محدثین نے اس حدیث پر جرح کی ہے۔ بعض نے اس کی تاویل کی ہے اور باغی سے طالب مراد لیا ہے۔ مگر یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔جب کہ ائمہ سلف جیسے: امام ابوحنیفہ، مالک اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ:

’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے رفقاء میں باغی لشکر کی شرائط نہیں پائی جاتی تھیں ۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آغاز کار میں ان سے لڑنے کا حکم نہیں دیا؛[محب الدین خطیب ’’ العواصم من القواصم‘‘ (ص:۱۷۰) میں حاشیہ پر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ جنگ صفین میں آپ کی حیثیت ایک باغی کی نہ تھی کیونکہ آپ نے اس کا آغاز نہیں کیا تھا۔ بخلاف ازیں معاویہ رضی اللہ عنہ لڑائی کے لیے اس وقت نکلے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے نکل کر شام پر حملہ کرنے کے لیے نخیلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ مارے گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ عمار رضی اللہ عنہ کے قتل کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو ان کو یہاں لائے۔‘‘ خطیب فرماتے ہیں :’’ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں جو مسلمان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد مارے گئے، ان کے قتل کے ذمہ دار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں ۔ اس لیے کہ انھوں نے فتنہ کے دروازوں کو کھولا اورلمبے عرصہ تک اس آگ کو ہوا دیتے رہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے مابین جذبات حقد و عناد کے بھڑکانے کا موجب ہوئے۔ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ خون فشاں پیش نہ آتا تو جنگ جمل و صفین و قوع پذیر نہ ہوتے۔ جس طرح یہ فتنہ پرداز احمق لوگ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے مرتکب ہوئے؛ اسی طرح اس واقعہ کے بعد تہ تیغ ہونے والے مسلمانوں کے قاتل بھی یہی لوگ ہیں ۔ مقتولین میں نہ صرف حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بلکہ ان سے افضل لوگ بھی شامل تھے، مثلاً طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما ، اس فتنہ پردازی کا انجام یہ ہوا کہ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے دم لیا۔ حالانکہ یہ آپ کے لشکر میں شامل تھے۔ (]بلکہ یہ حکم ملاکہ جب دو فریق لڑپڑیں تو ان میں صلح کرادی جائے؛پھر جو جماعت ظلم و تعدی کی مرتکب ہو اس سے لڑا جائے۔ان لوگوں سے ابتداء میں ہی؛ ان کی طرف سے جنگ شروع کرنے سے پہلے لڑا گیاہے۔‘‘

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ او رامام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اگر مانعین زکوٰۃ کہیں کہ : ہم زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے ادا کریں گے ‘ ہم حاکم وقت کو زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔تو امام [حاکم] کے لیے ان سے جنگ کرنا جائز نہیں ۔ اسی بنا پر امام احمد اور امام مالک رحمہم اللہ اسے’’ جنگ فتنہ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ باغیوں سے اس وقت لڑنا جائز ہے جب وہ حاکم وقت کے خلاف نبرد آزما ہوں ۔‘‘ مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا۔بلکہ خوارج نے جنگ کا آغاز کیا۔جب کہ خوارج سے جنگ کرنا نص اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے والا کہے کہ : آپ اس بارے میں مجتہد تھے۔

تو فریق مخالف بھی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس مسئلہ میں مجتہد تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ : آپ مجتہداور حق پر تھے ۔

تو اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ : معاویہ بھی مجتہد اور حق پر تھے۔لوگوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مجتہد برحق کہتے ہیں ۔اسکی بنیاد یہ ہے کہ ہر اجتہاد کرنے والا حق پر ہوتا ہے۔یہ امام اشعری رحمہ اللہ کا قول ہے۔

ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے مگر خطاء پر تھے۔مجتہد کی خطاء قابل مغفرت ہے۔ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے : ان دونوں میں سے ایک گروہ حق پر تھا ‘ مگر یہ پتہ نہیں کہ کون سا گروہ حق پر تھا۔

یہ اقوال امام احمد کے شاگرد ابو عبد اللہ بن حامد نے ذکر کئے ہیں ۔ لیکن خود امام صاحب اور ان کے امثال ائمہ سے منصوص یہ ہے کہ اس جنگ سے لڑائی کاترک کرنا بہتر تھا۔ یہ لڑائی فتنہ کی جنگ تھی۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس عرصہ میں اسلحہ فروخت کرنے سے منع کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے :’’ فتنہ میں اسلحہ نہیں بیچا جاسکتا ۔‘‘یہ قول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ؛ محمد بن مسلمہ ؛ ابن عمر ؛ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کا ہے۔اور اکثر ائمہ فقہ و حدیث نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔اورکرامیہ کہتے ہیں : بلکہ دونوں حضرات امام برحق تھے اور

[مذکورۃ الصدر بیان سے عیاں ہے کہ ذکر کردہ حدیث نبوی اعلام نبوت میں سے ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صفین میں لڑنے والے دونوں فریق زمرۂ مومنین میں شامل تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بلاشبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ تاہم دونوں صحابہ رسول اور دین اسلام کے رکن رکین تھے، اس دور میں جس قدر فتنے بپا ہوئے، اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے اس آگ کو ہوا دی۔ آنے والے ادوار میں تا قیام قیامت جو لوگ ان کے فعل کو سراہتے ہیں وہ ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ ہی وہ باغی ہیں جو بعد میں قتل ہونے والے سب مسلمانوں کے ذمہ دار ہیں ۔ اسی طرح بعد ازاں جو فتنے بپا ہوئے اس کا اصل سرچشمہ وہی فتنہ پرور لوگ ہیں ۔] ضرورت کے تحت ایک وقت میں دو خلفاء کی بیعت کی جاسکتی ہے۔

صفحہ 6 از 18