فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 18

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ برحق ہونے کے بارے میں تنازع کرنے والوں کی حجتوں اور دلائل کا توڑ کرنا رافضیوں کے بس کاکام نہیں ۔ جو لوگ آپ کو امام حق تسلیم کرتے ہیں ؛ ان کا وہی عقیدہ ومسلک ہے جو اہل سنت والجماعت کا ہے۔ اہل سنت کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ امام حق کے لیے معصوم ہونا شرط نہیں ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر اس شخص سے لڑا جائے جو اس کی اطاعت کے دائرہ سے خارج ہو۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ معصیت میں بھی اس کی اطاعت کی جائے۔ اس حالت میں اس کی اطاعت کا چھوڑ دینا افضل ہے۔ اسی بنا پر صحابہ کی ایک جماعت جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں دیا تھا وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ قتال کا ترک کرناقتال میں ملوث ہونے سے بہتر ہے ۔اور بعض کا خیال تھا کہ جنگ کرنا گناہ کا کام ہے ‘ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینا ان پر واجب نہیں ۔

جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہوئے تھے وہ تین حال سے خالی نہیں :

۱۔ وہ عاصی ہوں گے ۲۔خطا کار مجتہد ہوں گے۔

۳۔ یا اپنے اجتہاد میں صحت و صواب کے حامل ہوں گے۔

بہر کیف کوئی صورت بھی ہو اس سے ان کے ایمان میں اور جنتی ہونے میں قدح وارد نہیں ہوتی۔نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ o اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴾ (الحجرات:۹۔۱۰)

’’ اگر مومنوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں توان میں صلح کرادو۔ اگر ایک فریق دوسرے پر ظلم و تعدی کا مرتکب ہو تو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ حکم الٰہی کی جانب واپس آجائے۔ اندریں صورت بہ تقاضائے عدل ان میں صلح کرادو کیوں کہ اللہتعالیٰ باانصاف لوگوں کوچاہتا ہے۔ مومن باہم بھائی بھائی ہیں ، لہٰذا بھائیوں کے درمیان صلح کرادیجیے]]۔

اس آیت میں متحارب فریقین کو ﴿اِخْوَۃٌ﴾ ’’بھائی ‘‘فرمایا گیا ہے؛ اور انہیں ایمان سے موصوف بتایاہے ؛ باوجود کہ ان کے درمیان جنگ و قتال پیش آئے۔اور آپس میں ایک دوسرے پر سرکشی کے مرتکب ہوئے۔

پس جو کوئی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرے ‘ اگر اسے باغی شمار کیا جائے تو پھر بھی اسے خارج از ایمان قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس وجہ سے اس کو جہنمی کہا جاسکتا ہے۔نہ ہی اس کے جنتی ہونے میں کوئی چیز مانع ہوسکتی ہے۔اس لیے کہ جب بغاوت کسی تاویل کی بنا پر ہو تو ایسا باغی مجتہد ہوتا ہے۔اسی لیے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ :ان دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی فاسق نہ کہا جائے۔ اگرچہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ : ان دو میں سے ایک گروہ باغی تھا؛ اور یہ باغی گروہ بھی [خواہش نفس کی وجہ سے نہیں ‘ بلکہ] اجتہاد کی بناپر بغاوت کا مرتکب ہوا تھا ۔ خطا کار مجتہد کو کافروفاسق نہیں کہا جاسکتا۔اگر انسان حق بات جانتے ہوئے بھی [بغیر کسی تاویل کے ] بغاوت پر اتر آئے؛ تب بھی یہ بغاوت فقط گناہ کا کام ہے۔اور کئی وجوہات کی بنا پر گناہوں سے معافی مل جاتی ہے جیسے : توبہ و استغفار ؛ گناہ مٹانے والی نیکیاں ؛ گنہگار کے لیے مؤمنین کی دعا؛ نیک اعمال کا ہدیہ ثواب ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت؛ وغیرہ۔

[پانچواں اعتراض]: شیعہ مصنف کہتاہے: ’’اس کاسبب یہ تھا کہ محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے تھے؛ اور اپنے باپ کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے تھے ....۔‘‘ 

[جواب]: یہ ایک کھلا ہوا واضح جھوٹ ہے۔ محمد بن ابو بکر اپنے والد کی زندگی میں محض چھوٹے سے بچے تھے جن کی عمر تین سال سے بھی کم تھی۔اپنے والد کی موت کے بعد لوگوں میں سب سے بڑھ کر اپنے والد کی تعظیم کرنے والے تھے۔ اور اس تعلق کو وہ اپنے لیے شرف سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے لوگ بھی آپ کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ 

[چھٹا اعتراض]: شیعہ مصنف کہتا ہے : ’’ محمد بن ابو بکر کو چھوڑ کر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مؤمنین کا ماموں کہنے کی وجہ یہ ہے کہ محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے؛اور امیر معاویہ ان سے بغض رکھتے تھے۔‘‘

[جواب]:یہ بھی صاف جھوٹ ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں سے بڑھ کر اس لقب کے مستحق تھے۔اس لیے کہ آپ نے نہ ایک گروہ کے ساتھ جنگ کی اور نہ ہی دوسرے گروہ کے ساتھ ۔اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے اور آپ سے محبت رکھتے تھے۔آپ کے فضائل و مناقب کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ جب لوگوں کاحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لوگوں کا اتفاق ہوگیا تو آپ نے بھی ان کی بیعت کی اور ان کے خلاف خروج نہیں کیا۔ آپ کی بہن معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے افضل ہیں ؛اور آپ کے والد معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد سے افضل ہیں ۔ اور لوگ بھی معاویہ اور محمد رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے اور آپ کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجو د یہ بات مشہور نہیں ہوئی کہ آپ کو مؤمنین کا ماموں کہا گیا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ رافضی کا ذکر کردہ سبب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ 

صفحہ 7 از 18