فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 18

اہل سنت والجماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال نہ کرنے والوں سے ان لوگوں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا۔ اور جن لوگوں نے آپ سے قتال نہیں کیا انہیں قتال کرنے والوں پر فضیلت دیتے ہیں ؛ جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص؛ اسامہ بن زید؛ محمد بن مسلمہ ؛ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ۔اہل سنت و الجماعت کے نزدیک یہ حضرات ان لوگوں سے افضل ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی۔ نیزاہل سنت یہ بھی کہتے ہیں : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھنا ؛اور جنگ کو ترک کرنا ؛آپ سے بغض رکھنے اور جنگ کرنے سے بہتر تھا؛ اس پر اہل سنت کا اجماع ہے۔ نیز اہل سنت کا یہ بھی اتفاقی مسئلہ ہے : آپ سے محبت رکھنا اور دوستی کرنا واجب ہے۔اہل سنت آپ کے دفاع میں ہر جگہ پیش پیش رہتے ہیں ۔ اور خوارج و نواصب کے طعنوں کا جواب دیتے ہیں لیکن ہر بات کے لیے ایک مناسب موقع محل ہوتا ہے۔

جس طرح اہل سنت والجماعت آپ سے محبت کے وجوب کو [دلیل کی روشنی میں ] ثابت کرتے ہیں ؛روافض کے لیے ایسے ثابت کرنا ہر گز ممکن نہیں ۔اہل سنت والجماعت خوارج کی مذمت پر یک زبان ہیں جو کہ حضرت کے سب سے بڑے دشمن اور آپ سے بغض و عداوت رکھنے والے ہیں ۔ نیز اہل سنت والجماعت ان لوگوں کیساتھ جنگ کرنے پر بھی یک زبان ہیں ۔توپھر اس جھوٹے شیعہ مصنف نے اپنی طرف سے کیسے یہ بات گھڑ لی کہ اہل سنت ایک سے محبت اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا ‘اور دوسرے سے بغض اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے محبت کرتا تھا۔ [معاذ اللہ ]

حالانکہ اہل سنت والجماعت میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کو نیکی شمار کرتا ہو‘یا آپ سے بغض رکھنے کا حکم دیتا ہو۔ اور نہ ہی کوئی آپ سے فقط محبت رکھنے کو برائی اور معصیت کاکام کہتا ہے ‘ اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہے ۔‘‘

اہل سنت والجماعت کے تمام گروہوں کی کتب آپ کے فضائل و مناقب کے ذکر سے بھری پڑی ہیں ۔ ان میں ان تمام فرقوں کی مذمت کی گئی ہے جو آپ پر ظلم کرتے ہیں ۔ اہل سنت والجماعت ان لوگوں کا انکار کرتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیتے ہیں ؛ اور ایسے لوگوں کو ناپسند رکھتے ہیں ۔

رہا معاملہ جو ان دونوں لشکروں میں ایک دوسرے پر لعنت کی گئی ؛یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ان دونوں لشکروں کے مابین قتال کا حادثہ پیش آیا۔ اہل سنت والجماعت سب لوگوں سے بڑھ کر آپ کے خلاف قتال اور سب و شتم کے امور سے نفرت رکھنے والے ہیں ۔ تمام اہل سنت و الجماعت آپ کی قدرو منزلت پر متفق ہیں ۔ آپ امامت وخلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ اور آپ اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین کے نزدیک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے والد اور بھائی کی نسبت زیادہ افضل انسان تھے او ران لوگوں سے بہتر تھے۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے بھی افضل ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں جیسے مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ؛ جنہوں نے ببول کے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ؛ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں ؛ رضی اللہ عنہم ۔

اہل سنت والجماعت میں کو ئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی بھی صحابی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل سمجھتا ہو۔ بلکہ آپ کو[ان تین کے علاوہ] تمام باقی تمام اہل بدر ؛ اہل بیعت رضوان؛ اور مہاجرین و انصار سابقین اولین رضی اللہ عنہم سے افضل و بہتر مانتے ہیں ۔

اہل سنت والجماعت میں کوئی ایک ایسا بھی نہیں جو حضرت طلحہ ‘ زبیر ؛ سعد بن ابی وقاص عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کو آپ سے افضل سمجھتا ہو۔ بلکہ اس کی حدیہ ہے کہ بعض تو اہل شوری کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت دینے میں سکوت اختیار کرتے ہیں ۔یہ اہل شوری ان کے نزدیک سابقین اولین سے افضل ہیں ۔ اور سابقین اولین فتح کے بعد اسلام لانے والوں اور اللہ کی راہ میں انفاق اور جہاد کرنے والوں سے افضل ہیں ۔ سابقین اولین صحیح قول کے مطابق وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں شرکت کی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ اس قول کی کوئی صحت ثابت نہیں ۔

حدیبیہ کے بعد اسلام لانے والوں میں حضرت خالد بن ولید ؛ شیبہ الحجی ؛ عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہم اور دوسرے لوگ شامل ہیں ۔ جب کہ سہیل بن عمرو ؛ عکرمہ بن ابو جہل؛ ابو سفیان بن حرب؛ اس کے دونوں بیٹے یزید اورمعاویہ ؛ صفوان بن امیہ وغیرہ رضی اللہ عنہم یہ فتح مکہ کے مسلمان ہیں ۔کچھ لوگ کہتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے پہلے اسلام لے آئے تھے ؛ اس لیے انہیں پہلی قسم کے لوگوں میں شمار کیا گیا ہے ۔

صحیح بخاری اورمسلم میں ہے :’’حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اے خالد! میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ میرے صحابی کی ایک مٹھی یا آدھی مٹھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح ۱۹۸۹]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس سے منع کیا۔ جوکہ بیعت رضوان کے بعد اسلام لائے ‘ اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ؛ اورجہاد فی سبیل اللہ کیا ۔انہیں کہا گیا کہ ان لوگوں سے تعرض نہ کریں جو اس سے پہلے اسلام لائے اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا اورجہاد کیا ۔ او ریہ بھی واضح کیا کہ بعد والوں میں سے اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردیں تو سابقین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خرچ کردہ ایک مٹھی جو یا اس کے آدھے کے اجر و ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔

صفحہ 8 از 18