فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات…

فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 18

اگریہ ممانعت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان لوگوں کیلئے ہے جو حدیبیہ کے بعداسلام لائے ۔توپھر ان لوگوں کو کیا حق حاصل ہوگا جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے؟جبکہ خالد رضی اللہ عنہ مہاجرتھے۔بیشک حضرت خالدبن ولید اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما حدیبیہ کے بعد اورفتح مکہ سے قبل اسلام لانے والوں میں سے ہیں ۔آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی؛آپ مہاجرین میں سے تھے۔جبکہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والوں کو ہجرت کا شرف حاصل نہیں ہوسکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

’’فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں مگر جہاد اور اس کی نیت ہے ؛اورجب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا کہا جائے تو نکل پڑو۔‘‘[البخاری ۴؍۱۵؛ کتاب الجہاد والسیر ؛ باب فضل الجہاد والسیر ؛ مسلم ۳؍۱۴۸۷؛ کتاب الإمارۃ باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ ....سنن الترمذي ۳؍ ۷۴ ؛ کتاب السیر باب ماجاء في الہجرۃ۔]

یہی وجہ ہے کہ جب ان میں سے کسی ایک کو اسلام پر بیعت کے لیے لایا جاتا؛ تو اس سے ہجرت کی بیعت نہیں لی جاتی تھی۔ ان میں سے اکثر لوگ بنی ہاشم میں سے تھے؛ جیسے حضرت عقیل بن ابی طالب؛ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ؛ ربیعہ بن الحارث؛ اور حضرت عباس؛ رضی اللہ عنہم ؛ ۔ ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ہوئی جب آپ مکہ جارہے تھے۔[اور یہ مدینہ کے راستہ میں تھے]ابھی مدینہ نہیں پہنچے تھے۔ اور ایسے ہی ابو سفیان بن الحارث؛ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد تھا ؛یہ ابو سفیان بن حرب کے علاوہ ایک دوسرا ہے؛ یہ شاعر تھا ؛ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا۔اسے بھی آپ نے راستہ میں پایا۔ یہ اچھے مسلمانوں میں سے ہوگیا تھا۔ یہ اور عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہما حنین کے موقع پر اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے تھے جب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی مہار پکڑی ہوئی تھی۔

جب اہل سنت والجماعت کے ہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یہ مراتب ہیں ؛ جیسا کہ کتاب و سنت کے دلائل سے واضح ہے ۔ اور اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے ہمنوا دوسرے لوگ وہ ہیں جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ؛ جن کا اسلام لانا حدیبیہ والوں سے متاخر ہے ۔ اور حدیبیہ والوں کا اسلام سابقین اولین سے متاخر ہے [اسی لحاظ سے ان کے فضائل و مناقب ہیں ] ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں ۔ خلفاء ثلاثہ کے علاوہ کسی کو آپ پر فضیلت حاصل نہیں ۔ تو پھر اہل سنت والجماعت پر کس منہ کے ساتھ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر سمجھتے ہیں یا آپ پر تقدیم و فضیلت دیتے ہیں ؟ ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروانیہ اور دوسرے لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا ؛ اور ان کے بعد ان کے ماننے والے کہتے ہیں : ’’ بیشک آپ [حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ] اس قتال میں اصابت رائے والے مجتہد اورحق پر تھے ۔‘‘ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی یا تو ظالم تھے؛ یا پھر مجتہد تھے ؛ مگر اجتہاد میں خطأ پر تھے۔ اس بارے میں انہوں نے کتابیں تصنیف کی ہیں جیسے جاحظ کی تصنیف کردہ کتاب ’’ المروانیہ ۔‘‘اور ایک گروہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل گھڑلیے۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایتیں نقل کیں جو کہیں بھی ثابت نہیں ۔ اس بارے میں ان کی بڑی بڑی حجتیں ہیں جنہیں بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ لوگ غلطی پر ہیں ۔ اگرچہ رافضیوں کی غلطی ان کی غلطی سے بہت بڑھ کرہے۔ رافضیوں کے لیے یہ ہر گز ممکن نہیں ہے کہ وہ امامیہ مذہب پر عقیدہ رکھتے ہوئے ان لوگوں کے دلائل کا رد کرسکیں ۔ اس لیے کہ امامیہ کے دلائل میں تناقض پایا جاتا ہے۔ایسے دلائل سے استدلال کرتے ہیں جنہیں خود ہی دوسرے موقع پر توڑدیتے ہیں ۔ عقلی اور سمعی دلائل سے حجت لیتے ہیں ؛ اور جو چیز اس سے بڑھ کر ہے؛[یعنی کتاب و سنت] اس کا انکار کرتے ہیں ۔بخلاف اہل سنت والجماعت کے ؛ ان کے دلائل صحیح اور اپنے موقع محل پر درست ہوتے ہیں ۔

[ اہل سنت و الجماعت کے ساتھ ان روافض کا معاملہ ایسے ہی ہے ] جیسے مسلمانوں کیساتھ عیسائیوں اور دیگر اہل کتاب کا معاملہ۔ اہل سنت و الجماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصرت میں ان کی مذمت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں ؛ یا آپ سے برسر پیکار لوگوں کو حق پر کہنے والوں پر حجت قائم کر سکتے ہیں ۔جیسا کہ مسلمانو ں کے لیے یہ ممکن ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جھٹلانے والے یہودیوں اور دوسرے لوگوں پر حجت قائم کرسکیں ۔ بخلاف نصاری کے۔اس لیے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کو جھٹلانے والے یہودو نصاری پرعلمی اور مدلل حجت قائم نہیں کرسکیں گے۔

شانِ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں کوتاہی:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوتاہی کرنے والے اہل بدعت کے کئی گروہ ہیں :

۱۔ خوارج کا گروہ: جو کہ آپ کو کافر کہتا ہے۔ یہ لوگ آپ کیساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اورجمہور مسلمین کو کافر قرار دیتے ہیں ۔ جب کہ اہل سنت والجماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان کو ثابت مانتے ہیں ؛ اور آپ سے محبت و دوستی کو واجب قرار دیتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایمان کو ثابت مانتے ہیں ۔ اور آپ سے محبت و دوستی کو واجب کہتے ہیں ۔

۲۔ ایک گروہ کہتا ہے : ’’ اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ مگر قتال کے مسئلہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ حق پر تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال کرنے میں حق پر نہیں تھے۔ یہ کہنے والے لوگ بہت زیاہ ہیں ‘ جیسے کہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا۔ ان کے جمہور یا اکثر لوگ کہتے ہیں :حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسے حاکم نہیں تھے جن کی اطاعت واجب ہوتی۔اس لیے کہ آپ کی خلافت نص یا اجماع سے ثابت نہیں ۔

صفحہ 9 از 18