Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بین الاقوامی تعلقات

  علی محمد الصلابی

شاہان فارس کے ساتھ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمیشہ جنگی تعلقات رہے۔ سیدنا عمرؓ کی وفات کے وقت آپ کی افواج یزدگرد کو اسی کے ملک میں مات دے رہی تھیں اور اس کے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں، جب کہ شاہ روم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی وقت مصالحت کر لی تھی جب سیدنا عمر فاروقؓ نے شام اور جزیرہ فتح کر لیا تھا۔ گویا دونوں ممالک میں ایک گو نہ دوستانہ تعلقات تھے۔ سیدنا اور شاہ روم کے درمیان خطوط کے تبادلے ہوتے تھے۔ عرب مؤرخین اس بات کے قائل ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور شاہ روم ہرقل کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی لیکن یہ صراحت نہیں ہے کہ جس ہرقل سے سیدنا عمرؓ نے ملک شام چھینا تھا یہ وہی ہرقل ہے یا اس کا لڑکا قسطنطین ہے جو ہرقل ثانی کہلاتا ہے، کیونکہ ہرقل اول کی موت 541ء مطابق 21 ہجری میں ہوئی اور اسی سال یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات سے دو سال قبل اس کے لڑکے ہرقل ثانی قسطنطین نے رومی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ بہرحال خط و کتابت کا یہ سلسلہ ہرقل اول کے ساتھ رہا ہو یا ثانی کے ساتھ لیکن یہ مسلم ہے کہ دونوں میں خط و کتابت ہوتی تھی اور سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں انہوں نے مدینہ آئے ہوئے رومی بادشاہ ہرقل کے قاصد کے ہاتھ ہرقل کی بیوی کو مدینہ کا قیمتی تحفہ دیا تھا اور اس نے بھی بدلے اور شکریہ میں جواہرات کا بنا ہوا ایک قیمتی ہار سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ہدیہ میں بھیجا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی بیوی سے لے کر بیت المال میں جمع کرا دیا۔ تاریخی کتابوں میں لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اسے بیت المال میں اس لیے جمع کرا دیا تھا کہ انہوں نے وہ ہدیہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ڈاک کے ساتھ بھیجا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 259، أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 359)