فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 14

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض 

[ساتواں اعتراض]: [شیعہ مصنف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ] کہتا ہے :’’ [اہل سنت]آپ کو کاتب وحی کہتے ہیں ؛حالانکہ اس نے وحی کا ایک لفظ بھی تحریر نہیں کیا۔‘‘

[جواب ]: مصنف کا یہ قول جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے۔[ اس کے دیگر دعووں کی طرح یہ بھی کذب صریح ہے]۔اس کی کیا دلیل ہے کہ آپ نے وحی کا ایک کلمہ تک نہیں لکھا ‘ بلکہ آپ خطوط لکھا کرتے تھے۔؟ [رافضی قلم کار نے خود تسلیم کیا ہے کہ حضرت معاو رضی اللہ عنہ یہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے خطوط میں بھی وہی بات ہوتی ہوگی جو بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہو۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾ (سورۃ النجم) علاوہ ازیں آپ لکھواتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھتے تھے کہ یہ وحی ہے یا غیر وحی۔ جو صحابہ بھی آپ کی خدمت میں کتابت کا کام کرتے تھے وہ ہر ایسی چیز لکھتے جس کی ضرورت ہوتی تھی۔]

[آٹھواں اعتراض]: رافضی کا کہنا کہ: ’’ کاتبین وحی کی تعداد دس سے کچھ زیادہ تھی ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے خاص اور قریب ترین کاتب وحی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔‘‘ 

[جواب ]:اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔جیسا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے مابین حدیبیہ کا صلح نامہ لکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی کتابت کا کام کیاکرتے تھے۔زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی آپ کے منشی تھے۔ اس میں کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ۔

صحیحین میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

﴿لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [النساء۹۵]

’’ نہیں برابر ہوسکتے مؤمنین میں سے بیٹھ جانے والے ....‘‘

تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کتابت وحی کا فریضہ سر انجام دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منشی گیری [ کتابت ] کاکام کرنے والوں میں حضرت ابو بکر صدیق ؛ حضرت عمر فاروق؛ حضرت عثمان غنی ؛ حضرت علی المرتضے؛ حضرت عامر بن فہیرہ؛ حضرت عبد اللہ بن ارقم ؛ حضرت ابی ابن کعب؛ حضرت ثابت بن قیس؛ حضرت خالد بن سعید بن العاص؛ حضرت حنظلہ بن الربیع الاسدی؛ حضرت زید بن ثابت ؛ حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔

[نواں اعتراض]: [رافضی کہتا ہے ]:’’امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی پوری مدت مشرک رہے ۔‘‘

[جواب]: اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امیر معاویہ ان کے والد اور بھائی رضی اللہ عنہم فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین سال پہلے کا واقع ہے۔تو پھر یہ کہنا کیسے ممکن ہے کہ بعثت کا پورا عرصہ مشرک رہے ؟جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس وقت معاویہ صغیر السن تھے۔ہند اسے کھیلایا کرتی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے والوں کے ساتھ اسلام لے آئے۔ جیسے دوسرے لوگ آپ کا بھائی یزید؛ سہیل بن عمرو ؛ صفوان بن امیہ ؛ عکرمہ بن ابو جہل؛ ابو سفیان بن حرب ؛ رضی اللہ عنہم اسلام لائے۔ یہ لوگ اسلام لانے سے قبل معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت سے بڑے کافر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے دشمن اور برسر پیکار رہنے والے لوگ تھے۔

صفوان ‘ عکرمہ اور ابو سفیان احد کے موقع پر کفار کے لشکر کے سرادر تھے۔اور غزوۃ خندق کے موقع پر بھی بڑے سردار تھے مگر اس کے باوجود یہ تینوں اصحاب بعد میں بہترین مسلمان ثابت ہوئے ؛ اور یرموک کے موقع پر شہادت پائی ۔ اسلام لانے سے قبل معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کبھی بھی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زبان یا ہاتھ سے کوئی تکلیف پہنچائی ہو۔ جو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر دشمن اور مخالفت کرنے والے تھے ؛ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والے بن گئے [یہاں تک کہ اس راہ میں اپنی جانیں قربان کردیں ] اور اللہ اور اس کا رسول ان لوگوں سے محبت کرنے لگ گئے تھے ۔ تو پھر کون سی چیز اس راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان جیسے ہوگئے ہوں ؟‘‘

اپنی ولایت کے عرصہ میں آپ سب سے بااخلاق اور اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو بہترین مسلمان ثابت ہوئے ۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ اور آپ کے بادشاہ بن جانے کا معاملہ نہ ہوتا تو آپ کا تذکرہ صرف خیر کے الفاظ میں ہی کیا جاتا ۔ جیسا کہ آپ جیسے دوسرے لوگوں کو صرف خیر کے ساتھ ہی یاد کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان کا شمار بھی فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے والوں میں ہوتا ہے ۔ان لوگوں نے اسلام لانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی ایک غزوات میں شرکت کی۔جیسے : غزوہ حنین ؛ غزوہ طائف ؛ غزوہ تبوک وغیرہ ۔آپ نے بھی ایسے ہی اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے جیسے آپ جیسے دوسرے صحابہ نے جہاد کیا تھا۔ پھر ان لوگوں کو کفار کیسے کہا جاسکتا ہے حالانکہ یہ لوگ سن آٹھ ‘ نو ‘دس اورگیارہ ہجری کا عرصہ مؤمنین اورمجاہدین تھے؟

صفحہ 1 از 14