فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 14

آپ لوگوں کو اس جنگ میں اسلحہ بیچنے سے منع کیا کرتے تھے۔ آپ کہتے تھے کہ : یہ فتنہ میں اسلحہ کی فروخت ہے ۔ یہی قول حضرت اسامہ بن زید ‘ محمد بن مسلمہ ‘ ابن عمر ‘ سعد بن ابی وقاص ؛ اور باقی زندہ رہنے والے اکثر سابقین اولین اور مہاجرین وانصار رضی اللہ عنہم کا قول ہے۔ اس لیے اہل سنت و الجماعت کا مذہب اور عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بپا ہونے والی لڑائیوں کے بیان کرنے سے اپنی زبانوں کو روک کر رکھا جائے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ثابت شدہ ہیں اور ان سے دوستی اور محبت رکھنا واجب ہے ۔ ان کے مابین جوکچھ ہوا اس کا ایسا عذر بھی ہوسکتا ہے جو انسان پر مخفی رہا ہو۔اور ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی اس لغزش سے توبہ کرلی تھی۔اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے گناہ معاف کردیے گئے ہیں ۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین ہونے والے جھگڑوں میں پڑنے سے انسان کے دل میں بغض و مذمت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس معاملہ میں وہ صرف غلطی پرہی نہیں بلکہ اس معاملہ میں عاصی و گنہگار بھی ہوتا ہے۔ اس طرح یہ اپنے آپ کو بھی اور اپنے ان ساتھیوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جن کے ساتھ ایسے معاملات میں گفتگو کرتا ہے۔ جیسا کہ ان اکثر لوگوں کیساتھ یہ معاملہ پیش آچکا ہے جو اس موضوع کو اپنے لیے مشق سخن بنایا کرتے تھے۔ اس لیے کہ ان لوگوں نے ایسی باتیں کی تھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے ہاں نا پسندیدہ تھیں ۔ اس کی وجہ یا توان لوگوں کی مذمت کرنا ہے جو مذمت کے مستحق نہیں ہیں ۔ یا پھر ایسے امور کی مدح کرنے کی وجہ سے جو مدح کے قابل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ افاضل سلف صالحین اس سلسلہ میں اپنی زبانوں کو بہت زیادہ روک کر رکھتے تھے۔ جبکہ دوسرے لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فاسق گردانتے تھے؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں ۔ جیسا کہ بعض معتزلہ کا عقیدہ ہے۔ اور ان میں سے کچھ آپ کو کافر کہتے تھے؛ جیسا کہ روافض کا عقیدہ ہے۔ اور کچھ لوگوں ان دونوں حضرات علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو کافر کہتے تھے؛ جیسا کہ خواج کا عقیدہ ہے اور کچھ لوگ کہتے تھے ان دو میں سے کوئی ایک فاسق ہے؛ لیکن اس کو متعین نہیں کرتے۔ جیسا کہ کچھ معتزلہ کا عقیدہ ہے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حق پر تھے؛ اور حضرت امیر علی رضی اللہ عنہ ظالم تھے؛ یہ مروانیہ کا عقیدہ ہے۔

کتاب وسنت کے دلائل سے واضح ہوتا ہے یہ دونوں گروہ مسلمان تھے۔ اور جنگ کانہ ہونا ہی ہر حال میں بہتر تھا۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ o ﴾ (الحجرات:۹)

’’ اگر مومنوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں توان میں صلح کرادو۔ اگر ایک فریق دوسرے پر ظلم و تعدی کا مرتکب ہو تو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ حکم الٰہی کی جانب واپس آجائے۔ اندریں صورت بہ تقاضائے عدل ان میں صلح کرادو کیوں کہ اللہ تعالیٰ باانصاف لوگوں کوپسند کرتے ہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جنگ اور بغاوت کے باوجود مسلمان اور بھائی کہا ہے۔ [حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگ آزمائی ایسے امور کی بنا پر تھی جن کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خارج از اسلام نہیں ہو سکتے۔ یہ دوسری بات ہے کہ] بخاری و مسلم کی روایت کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اقرب الی الحق تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:

’’ جب مسلمانوں میں فرقہ بندی کا ظہور ہو گا تو ایک فریق خروج کرے گا اور دوسرا فریق اس سے جنگ آزما ہوگا۔ یہ جماعت اقرب الی الحق ہو گی۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب الزکاۃ۔ باب ذکر الخوارج و صفاتھم (حدیث: ۱۵۳؍۱۰۶۵)]

خروج کرنے والے وہی لوگ تھے جو جنگ نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کیخلاف صف آرا ہوئے۔ اس حدیث سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کی نسبت اقرب الی الحق تھی۔

صحیح بخاری میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے مابین مصالحت کرائے گا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم للحسن بن علی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (حدیث:۲۷۰۴)]

مذکورہ بالا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کرانے کی بنا پر حضرت حسن کی مدح فرمائی اور دونوں جماعتوں کو مومن قرار دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قابل ستائش فعل صلح کرانا ہے نہ کہ جنگ آزما ہونا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔اور جو آدمی گردن اٹھا کر انہیں دیکھے گا تو وہ اسے ہلاک کردیں گے اور جسے ان میں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے تو چاہئے کہ وہ پناہ لے لے ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الفتن، باب تکون فتنۃ القاعد فیھا خیر من القائم، (حدیث: ۷۰۸۱)، صحیح مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن کمواقع القطر (حدیث: ۲۸۸۶)]

آپ نے مزید فرمایا: ’’ عنقریب مومن کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوگا، جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش والی جگہوں پر چلا جائے گا اور اس طرح اپنے دین کو فتنوں کی زد سے بچا لے گا۔‘‘[صحیح بخاری ۔ کتاب الایمان۔ باب من الدین الفرار من الفتن(حدیث:۱۹)]

اور ایک صحیح روایت میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ؛ فرمایا:

صفحہ 11 از 14