فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 14

’’ میں دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمہارے گھروں میں ایسے واقع ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے ۔‘‘[البخاری ۳؍ ۲۱ ؛ کتاب فضائل المدینۃ ؛ باب آطام المدینۃ ؛ مسلم ۴؍۲۲۱۱ ؛ کتاب الفتن و أشراط الساعۃ باب نزول الفتن کمواقع القطر۔]

جن صحابہ نے فتنہ سے احتراز و اجتناب کی حدیث روایت کی ہے ان میں سعد بن ابی وقاص[صحیح مسلم۔ کتاب الزہد۔ باب( ۱)، (حدیث:۲۹۶۵)] و محمد بن مسلمہ [سنن ابن ماجۃ۔ کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنۃ،(حدیث:۳۹۶۲) ]اور اسامہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ؛ انھوں نے جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی کا بھی ساتھ نہیں دیا تھا۔

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے:’’ جو شخص بھی فتنہ کی لپیٹ میں آجائے مجھے اس کے جادہ مستقیم سے بھٹک جانے کا خطرہ دامن گیر رہتا ہے، مگر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے مستثنیٰ ہیں ۔میں نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’فتنہ و فساد سے محمد بن مسلمہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[الاصابۃ(۳؍۳۸۴) سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب ما یدل علی ترک الکلام فی الفتنۃ(ح:۴۶۶۳)]

حضرت ثعلبہ بن ضبیعہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ:’’ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:’’ مجھے وہ شخص معلوم ہے جسے فتنہ پر دازی سے کوئی نقصان اور ضرر لاحق نہیں ہوتا، چنانچہ ہم باہر نکلے تو ایک خیمہ نصب کیا ہوا دیکھا جس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تشریف فرماتھے۔ہم نے اس ضمن میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا میں نہیں چاہتا کہ بلاد و امصار جس فتنہ سے دو چار ہیں میں بھی اس کی لپیٹ میں آجاؤں یہاں تک کہ فتنہ کی آگ فرو ہوجائے۔‘‘[مستدرک حاکم(۳؍۴۳۳)، طبقات ابن سعد(۳؍۴۴۴)]

تأویل کی بنا پر امت کے خون ؛ أموال اور اعراض میں بعض امور کا وقوع :

یہ جان لینا ضروری ہے کہ بلا شک و شبہ امت میں بعض امورخون ؛عزت و آبرو اور اموال میں تأویل کی بنا پر واقع ہوتے ہیں ۔ جیسے جنگ ؛ لعن وطعن اور تکفیر ۔ صحیحین میں ثابت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ حرقات کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ میں سے ہے۔ ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی۔ میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لا اِلہ اِلا اللہ۔انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا؛ لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

’’اے اسامہ!کیا لا اِلہ اِلا اللہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔‘‘[سبق تخریجہ ]

صحیحین میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ فرماتے ہیں :

’’ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ: ’’یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اگر میں کسی کافر سے بھڑ جاؤں اور باہم خوب مقابلہ ہو اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اور پھر درخت کی پناہ لے اور کہے میں اللہ پر ایمان لایا ہوں اور اسلام کو قبول کرتا ہوں ؛ تو اب اس اقرار کے بعد میں اس کو مار دوں یا نہیں ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ اسے مت مار۔‘‘

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور اس کے بعد کلمہ پڑھا ہے۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ کچھ بھی ہو اسے مت قتل کرو؛ ورنہ اس کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو تم کو اس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور پھر تمہارا وہی حال ہوجائے گا جو کلمہ اسلام کے پڑھنے سے پہلے اس کا تھا۔‘‘[صحیح مسلم:جلد:۱ : ح۲۷۸؛کتاب الإیمان ؛ باب تحریم قتل الکافر ؛ بعد أن قال : لا إلہ إلا اللہ ؛ البخاری ۵؍۸۵ ؛ کتاب المغازي ؛ باب نمبر۱۲؛سنن ابي داؤد ۳؍۶۱؛ کتاب الجہاد ؛ باب علی ما یقاتل المشرکون ۔ المسند ۶؍۵۔]

یہ بات بھی یقیناً ثابت شدہ ہے کہ ان حضرات کے ہاتھوں سے کچھ ایسے مسلمان بھی قتل ہوگئے تھے جن کا قتل کرنا حلال نہیں تھا۔ مگر اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ اور نہ ہی مقتول کو ضمانت میں قصاص یا دیت ملی ؛ نہ ہی اس قتل کا کفارہ دیا گیا۔اس لیے کہ قاتل متأول تھا۔یہ اکثر علماء کا قول ہے جیسے امام شافعی؛ امام أحمد رحمہما اللہ اور دیگر حضرات اور کچھ حضرات یہ بھی کہتے ہیں : بلکہ یہ لوگ مسلمان تھے؛ اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ تو ان کے حق میں گناہ کے ساتھ عصمت تو ثابت تھی؛ مگر کوئی ضمانت حاصل نہیں تھی۔ ان کی حالت اہل حرب کی خواتین اور بچوں کے جیسی تھی۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور بعض مالکیہ رحمہم اللہ کا قول ہے۔ پھر جمہور علماء جیسے امام مالک؛ امام ابو حنیفہ اور أحمد رحمہم اللہ کا ظاہری مذہب اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ ہے : ’’ بیشک اہل عدل اور باغی جب آپس میں تأویل کی بنا پر برسر پیکار جنگ ہوں ؛ تو حالت جنگ میں ان میں سے ایک گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کا جو نقصان ہوجائے؛ خواہ وہ جانی نقصان ہو یامالی ؛ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔ کوئی ایک گروہ کسی دوسرے گروہ کا نقصان پورا نہیں کرے گا۔

صفحہ 12 از 14