فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 14

حضرت امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جب جنگ کا فتنہ واقع ہوا تو اس وقت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وافر مقدار میں موجود تھے؛ اس بات پر ان کااتفاق ہوگیا کہ ہر وہ خون اور مال جو تأویل قرآن کی وجہ سے ہوا؛ وہ رائیگاں ہے ۔‘‘اور اسے وہ جاہلیت کا سا معاملہ قرار دیتے تھے۔ یعنی جب قاتل اس فعل کو حرام خیال ہی نہیں کرتا تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ: یہ کام نفس امر میں حرام تھا؛ تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ یہ ثابت ہے اور مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جب حربی کافر جب کسی مسلمان کو قتل کردے؛ یا اس کے مال کا نقصان کردے ؛ اور پھر وہ اسلام قبول کرلے؛ تو نہ ہی اس پر ضمان ہوگی نہ ہی قصاص اور نہ ہی دیت۔ اور نہ ہی کفارہ ۔ حالانکہ اس مسلمان کو قتل بڑے ہی کبیرہ گناہوں میں سے ایک تھا۔ مگر چونکہ وہ تأویل کا شکار تھا ؛ بھلے وہ فاسد تاویل تھی۔

صحیحین میں حدیث افک میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ ایک ایسے شخص کے بارے میں کون میری مدد کرتا ہے جس کی اذیت رسانی اب میرے گھر پہنچ گئی ہے۔ اللہ کی قسم کہ میں اپنی بیوی کو نیک پاک دامن ہونے کے سوا کچھ نہیں جانتا اور یہ لوگ جس مرد کا نام لے رہے ہیں ان کے بارے میں بھی خیر کے سوا میں اور کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میرے گھر میں گئے تو میرے ساتھ ہی گئے ہیں ۔ اس پر سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا کہ :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کی مدد کروں گا اور اگر وہ شخص قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں یعنی خزرج میں کا کوئی آدمی ہے تو آپ ہمیں حکم دیں ، تعمیل میں کوتاہی نہیں ہو گی۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے، اس سے پہلے وہ مرد صالح تھے؛ لیکن آج ان پر قومی حمیت غالب آ گئی تھی [عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق] ان ہی کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا؛ انہوں نے اٹھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے جھوٹ کہا ہے تم اسے قتل نہیں کر سکتے، تم میں اس کے قتل کی طاقت نہیں ہے۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ سعد بن معاذ کے چچیرے بھائی تھے انہوں نے سعد بن عبادہ سے کہا : اللہ کی قسم! تم جھوٹ بولتے ہو، ہم اسے ضرور قتل کریں گے، کیا تم منافق ہو گئے ہو کہ منافقوں کی طرفداری میں لڑتے ہو؟‘‘

اتنے میں دونوں قبیلے اوس و خزرج اٹھ کھڑے ہوئے اور نوبت آپس ہی میں لڑنے تک پہنچ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے تھے۔ آپ لوگوں کو خاموش کرنے لگے۔‘‘[سبق تخریجہ ]

صحیحین میں یہ بھی ثابت ہے کہ جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے نام خط لکھا تھا؛تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اجازت دیجیے ؛ میں اس کی گردن اڑادیتا ہوں ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حاطب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شرکت کر چکا ہے؛ اور تمہیں کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا ہے :((اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔))’’جو اعمال چاہو انجام دو میں نے تمھیں بخش دیا۔‘‘[اس کی تخریج گزر چکی ہے ]۔

ایسے ہی صحیحین میں یہ بھی ثابت ہے کہ کچھ مسلمانوں نے حضرت مالک بن دخشن کے بارے میں کہا: وہ منافق ہوگیا ہے۔‘‘تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار کیا ؛ مگر ان کو کافر نہیں کہا ۔‘‘[یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے ؛ ۱؍ ۸۸؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب المساجد في البیوت ؛ حضرت عتبان بن مالک سے روایت کرتے ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میرے پاس صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص نے کہا کہ مالک بن دخشن کہاں ہے تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ لا ِلہ ِلا اللہ محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے کہتا ہے، اس نے کہا ہاں ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی اس کلمہ کو دل کے خلوص کے ساتھ کہے گا اللہ قیامت کے دن اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔‘‘ صحیح مسلم ۱؍۴۵۵ ؛ کتاب المساجدومواضع الصلاۃ باب الرخصۃ في التخلف عن الجماعۃ بعذر]

ایسے ہی صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ عبداللہ الحمار پر کسی نے کثرت مے نوشی کی وجہ سے لعنت کی ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار کیا ؛ اور فرمایا : ’’بیشک یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔‘‘

مگر آپ نے تأویل کی بنا پر لعنت کرنے والے پر کوئی عتاب نہیں کیا۔ ‘‘[صحیح بخاری:جلد سوم:ح ۱۷۱۸۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شراب پینے کے سبب کوڑے لگوائے تھے ایک دن پھر نشہ کی حالت میں لایا گیا آپ نے اس کو کوڑے مارے جانے کا حکم دیا تو اس کو کوڑے لگائے گئے، قوم میں سے ایک شخص نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، کسی قدر یہ [نشہ کی حالت میں ] لایا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘ ]

خطا کار متأول کتاب و سنت کی روشنی میں مغفور لہ ہے۔ اللہتعالیٰ مومنوں کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَا لَا تُوَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَانَا﴾ (البقرۃ:۲۸۶)

’’اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو ہم پر مواخذہ نہ کر۔‘‘

صفحہ 13 از 14