فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 14

ابوسفیان دلائل نبوت سے بے خبر نہ تھے۔ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایام صلح میں اسلام لانے سے چند ماہ قبل خود ہرقل کی زبان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے براہین و دلائل سنے تھے۔[صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۷)، صحیح مسلم کتاب الجہاد۔ باب کتاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی ھرقل ملک الشام(ح:۱۷۷۳)۔]علاوہ ازیں امیہ بن ابی الصلت نے بھی [اس موقع سے ]استفادہ کیا تھا۔تاہم حسد[حسد کے لفظ سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کی جانب اشارہ کیا ہے جسے ابن سعد نے ابوالسفر سعید بن یحمد ہمدانی ثوری المتوفی ۱۱۲ھ سے روایت کیا ہے کہ ابو سفیان نے جب مرالظہران کے مقام پر دیکھا کہ لوگ آپ کے پیچھے پیچھے آرہے ہیں اور ہر شخص آپ کے بہت قریب آنا چاہتا ہے تو آتش حسد سے جل اٹھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر دے مارے اور کہا: ’’ تب اﷲ آپ کو رسوا کرے گا۔‘‘ ابو سفیان نے کہا: ’’میں توبہ کرتا ہوں اور اﷲ سے اپنے گناہ کی مغفرت چاہتا ہوں ۔ اﷲ کی قسم! میرے جی میں یہ خیال ضرور آیا تھا۔ البتہ میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔‘‘ ابو اسحاق السبیعی نے بھی یہ روایت ذکر کی ہے مگر یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابو سفیان نے کہا ’’ مجھے اسی وقت یقین آیا کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں ۔‘‘ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ابوسفیان حضرت عباس کی معیت میں مشرف باسلام ہونے کے لیے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے۔ یہ چند لمحات ابوسفیان پر اس وقت گزرے جب وہ اپنا پرانا دین چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو رہے تھے، اس کو حسد کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ابو سفیان جاہ وریاست کی گود میں پلے تھے ایسے وقت میں ان کا کفر و ایمان کے مابین تردّد و تذبذب حبّ سیادت و قیادت کی دلیل ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابھی تک ان کی ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی تھی اور وہ کلام الٰہی سے بھی ناآشنا تھے۔ بنا بریں راہ ایمان پر مخلصانہ گامزن ہونے کے لیے ابوسفیان ایسے معجزہ کے محتاج تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان بارگاہ ایزدی میں تائب ہوئے اور دین اسلام آپ میں رچ بس گیا۔] کا جذبہ اسے ایمان سے مانع رہا، یہاں تک کہ بحالت مجبوری اس نے اسلام قبول کیا۔ مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ مصنف نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔اس کے ذکر کردہ اشعار بھی جھوٹے ہیں ۔اس لیے کہ لوگ جانتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا؛ اور تمام بتوں کو ختم کردیا گیا ۔[ان خودساختہ اشعار میں جس بت عزی کا ذکر ہے] ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یہ بت توڑنے کے لیے بھیجا تھا۔یہ بت عرفات کے قریب ایک جگہ پر نسب تھا۔ فتح کے بعد مکہ میں نہ ہی کوئی عزیٰ باقی رہا اور نہ ہی کوئی عزیٰ کی پوجا ترک کرنے پر ملامت کرنے والا باقی رہا ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اشعار کسی جھوٹے نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زبانی گھڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس کی جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ اسے واقعات کا درست علم ہی نہیں ۔ 

ایسے ہی آپ کے نانا ابو امیہ عتبہ بن ربیعہ اور ان کے ماموں ولید بن عتبہ ‘ اورآپ کی والدہ کے چچا شیبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی حنظلہ کے متعلق جوکچھ ذکر کیا گیا ہے ؛ یہ معاملہ جمہور قریش اور ان لوگوں کے مابین مشترک ہے ۔ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کے کافر رشتہ دار مکہ میں نہ ہوں ۔جو حالت کفر میں ہی قتل ہوئے ‘ یا اپنی موت مرگئے ۔ تو کیا پھر [ان کا کفر ] ان لوگوں کے اسلام لانے میں کسی رسوائی کا سبب ہوسکتا ہے؟

جو لوگ متاخر الاسلام ہیں جیسے حضرت عکرمہ بن ابو جہل ، صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ یہ بہترین مسلمانوں میں سے تھے ۔[صفوان کا شمار ان دس آدمیوں میں ہوتا ہے جو دورِ جاہلیت میں بڑے معزز سمجھے جاتے تھے۔ یہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امان دی تھی اور ان کے چچا زاد بھائی عمیر بن وہب جمحی رضی اللہ عنہ ان کو لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے۔ (طبقات ابن سعد (۴؍۱۴۳۔ ۱۴۷)] ان دونوں کے والد بدر کے موقع پر قتل ہوگئے تھے۔ اورایسے ہی حارث بن ہشام[حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ ابوجہل کے بھائی اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ابن العمّ تھے۔ امام بخاری نے ان سے بڑی اہم روایات نقل کی ہیں ۔ یہ شرفاء مکہ میں شمار ہوتے تھے اور کفار قریش کیساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ حسان بن ثابت نے جب بدر سے بھاگ جانے کی عار دلائی اور انھوں نے اشعار میں اسکا جو جواب دیا، کہا جاتا ہے کہ وہ اعتذار من الفرار میں عمدہ ترین اشعار ہیں ۔ (مستدرک حاکم ۳؍۲۷۹، الاصابۃ۱؍۲۹۳) صحیح بخاری، کتاب الحج۔ باب الحلق والتقصیر عند الاحلال (حدیث:۱۷۳۰)، صحیح مسلم، کتاب الحج۔ باب جواز تقصیر المعتمر(حدیث:۱۲۴۶)] کا بھائی بھی بدر کے موقع پر قتل ہوا ۔ ایسی باتیں سامنے رکھ کر طعن و تشنیع کرنا حقیقت میں تمام اہل ایمان پر طعن و تشنیع ہے۔ [ان پر طعن و تشنیع کرناکسی طرح بھی روا نہیں ہے]

کیا کسی کے لیے یہ جائز ہوسکتا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر صرف اس وجہ سے طعن وتشنیع کرے کہ آپ کے چچا ابو لہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمن تھے۔یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر طعن کرے کہ ان کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا ۔ یا ابو طالب کے کفر کی وجہ سے حضرت علی یا حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو طعن دلائے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ طعن صرف وہی لوگ کر رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ؟

رافضی مصنف کے پیش کردہ اشعار خود ہی اپنے من گھڑت ہونے کی شہادت دیتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابی کی شان سے صادر شدہ نہیں ۔اس لیے کہ صحابہ کے ساتھ ان اشعار کی کوئی مناسبت ہی نہیں ۔

رافضی کا یہ کہنا کہ : فتح مکہ کا واقعہ ہجرت مدینہ طیبہ کے آٹھویں سال رمضان میں پیش آیا ۔

یہ درست ہے ۔

[حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاقبولِ اسلام]:

صفحہ 5 از 14