فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 14

آپ کا بھائی یزید آپ سے بھی افضل تھا۔ بعض لوگ اسے بھی وہ یزید خیال کرتے ہیں جو آپ کا بیٹا تھا اور آپ کے بعد مسند خلافت پر متمکن ہوا۔ اوراسی کے زمانہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے۔ پس وہ یزید بن معاویہ کو بھی صحابہ میں سے شمار کرتے ہیں ۔ یہ ایک کھلی ہوئی جہالت ہے۔ اس لیے کہ یزید بن معاویہ کی ولادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی۔ جب کہ اس کا چچا یزید ایک نیک انسان تھا جس کا شمار نیک دل صحابہ میں ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے شام کا امیر مقرر کیا تھا۔ اوروہ آپ کا ہم رکاب رہا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے بھائی امیر معاویہ کوشام کا امیر مقرر کیا گیا۔ پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے اس کی حدود امارت بڑھا دی۔ اوراسے یوں ہی امیر باقی رکھا۔ حتی کہ جب فتنہ برپا ہوا اورپھر حضرت علی رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین قتل ہوئے ؛ اور اہل عراق نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت کرلی؛ اور چھ ماہ تک خلیفہ رہنے کے بعد خلافت کی زمام امیر معاویہ کے سپرد کردی؛ اور صحیح حدیث میں وارد یہ عظیم بشارت نبوی پوری ہوئی؛ جس میں آپ نے فرمایا تھا:

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اورعنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘[صحیح بخاری، حوالہ سابق(ح:۳۶۲۹)۔]

اس کے بعد امیر معاویہ بیس سال تک خلیفہ رہے؛ اور سن۶۰ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔

جس چیز سے رافضی کا جھوٹ کھل کر واضح ہوتا ہے وہ یہ کہ اہل مکہ میں سے کسی ایک نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے میں اتنی دیر نہیں کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن نو ہجری میں فتح مکہ کے سوا سال بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بناکر روانہ فرمایا۔ اور یہ اعلان کروایا کہ اس سال کے بعد کوئی بھی مشرک حج نہ کرے۔اور کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اس سال مشرکین کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے واپس کردیے گئے۔ اور انہیں چارماہ کی مہلت دی گئی ۔ یہ مدت سن دس ہجری میں پوری ہوگئی۔ یہ امان تمام مشرکین عرب کے لیے عام تھی۔ سن نو ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل شام عیسائیوں سے جنگ لڑنے کے لیے غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے۔اس موقع پر اسلام پورے عرب میں غالب ہوچکا تھا۔

معاویہ رضی اللہ عنہ کے خواہ جتنے بھی گناہ ہوں ‘ وہ ان کے اسلام لانے سے ختم ہوچکے۔ تو پھر کیسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بغیر کسی معلو م شدہ گناہ کے آپ بھاگتے پھرتے ہوں ‘ یا پھر آپ کا خون رائیگاں قرار دیا جائے؟ مغازی اور سیرت نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ معاویہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جن کا خون فتح مکہ والے سال رائیگاں قرار دیا گیا تھا۔ عروہ بن زبیر کی مغازی ؛ [ان کے علاوہ مغازی] الزہری ؛ موسی بن عقبہ ‘ ابن اسحق ‘ واقدی؛ سعید بن یحی اموی ؛ محمدبن عائذ؛ ابو اسحق الفزاری اور دوسرے لوگ ہیں ۔ اور ان کے علاوہ کتب تفسیر و حدیث تمام اس رافضی کے دعوی کے خلاف بول رہی ہیں ‘ ان تمام مصنفین نے ان لوگوں کے نام ذکر کیے ہیں جن کا خون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رائیگاں قرار دیا تھا؛ جیسا کہ: قیس بن صبابہ ؛ عبد اللہ بن اخطل ‘ ان دونوں کو قتل کردیا گیا ؛ ایسے ہی عبد اللہ بن ابی سرح کا خون بھی رائیگا ن قرار دیا تھا ؛ مگر اس نے بعد میں [اسلام قبول کرتے ہوئے ] بیعت کرلی ۔ جن لوگوں کا خون رائیگاں قرار دیا تھا وہ گنتی کے چند آدمی تھے ؛ جن کی تعداد دس کے قریب ہے۔ [حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے مروہ پہاڑی پر تیر کے پھالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کاٹے۔‘‘ صحیح بخاری، کتاب الحج ۔ باب الحلق والتقصیر عند الاحلال (حدیث:۱۷۳۰)، صحیح مسلم، کتاب الحج ۔ باب جواز تقصیر المعتمر(حدیث:۱۲۴۶)۔یہ واقعہ یاتو عمرہ قضا سن سات ہجری کا ہوسکتا ہے ‘ یا فتح مکہ اور غزوہ حنین کے بعد عمرہ جعرانہ کا۔ اس لیے کہ سن دس ہجری میں آپ نے عمرہ کرکے بال نہیں کٹوائے تھے۔ آپ حج قران کررہے تھے ‘اورقربانی تک احرام میں ہی رہے تھے۔ حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں معاویہ بن ابی سفیان کے حالات زندگی میں تصریحاً لکھا ہے کہ حضرت معاویہ صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضا کے درمیان اسلام قبول کر چکے تھے۔ البتہ قریش کے ڈر سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔‘‘واقعہ یہ ہے کہ دین اسلام قریش کے ذہین نوجوانوں کی رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا، صرف اتنا فرق ہے کہ جو لوگ ہجرت مکہ کی قدرت سے بہرہ ور تھے وہ مدینہ کا رخ کرتے اور مسلمانوں میں جا ملتے تھے، حضرت خالد بن ولید و عمرو بن العاص اور کعبہ کے کنجی بردار عثمان بن طلحہ عبدری رضی اللہ عنہم نے یونہی کیا تھا۔ جو نوجوان مکہ سے ہجرت نہیں کر سکتے تھے وہ مکہ میں اقامت گزیں رہ کر دعوت اسلام کی کامیابی کے منتظر رہتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم نوا انہی لوگوں میں شامل تھے۔]

صفحہ 7 از 14