فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 14

ابو سفیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے غزوہ بدر کے موقع پر مکہ مکرمہ آدمی بھیج کر مشرکین سے مدد طلب کی تھی۔ غزوہ احد کے موقع پر اس نے اپنے پاس موجود اموال جمع کیے اور لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں خرچ کریں ۔ اور غزوہ احد کے موقع پر مشرکین کے لشکر کا سب سے بڑا قائد یہی تھا۔ غزوہ خندق کے موقع پر بھی کافروں کے لشکر کی قیادت اسی کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بغیر کسی عہد و عقد کے اپنے ساتھ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور یہ عرض گزاری کررہے تھے کہ : اے اللہ کے نبی ! یہ اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر عہد و پیمان کے اسے آپ کے قبضہ میں دیدیا ہے ؛ آپ اس کی گردن مار دیجیے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی باتوں کا جواب دیا۔ پس ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امن دیدیا ‘اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا:

’’ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو اسے امن دیا جائے اور جو مسجد میں داخل ہو وہ بھی امن کا مستحق ہے اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہے۔‘‘[یہ حدیث ابھی گزر چکی ہے]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خون کیسے رائیگاں قرار دیا جاسکتاتھا ‘ جب کہ آپ اس وقت کم عمر تھے ‘ اور آپ کا کوئی خاص گناہ بھی نہیں تھا۔ اور نہ ہی آپ کے متعلق یہ معلوم ہوسکا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو ابھارا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے گروہوں کے سرداروں کو امان دیدی تھی ؛ توپھر کیا سیرت کے باب میں لوگوں میں سب سے جاہل انسان کے علاوہ کوئی شخص ایسا گمان بھی رکھ سکتا ہے ؟

جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ‘ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے ‘ اور اس مسئلہ پر لکھنے والے مؤرخین نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں ۔ہم نے اس موضوع پر اپنی کتاب ’’ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ‘‘ میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ اور ان لوگوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جن کا خون فتح مکہ کے موقع پر رائیگاں قراردیا گیا تھا۔ ہم نے وہاں پر ایک ایک کرکے سب کے نام لیے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں میں سے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھے ‘ مگرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر خدمت ہوئے ۔انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا ‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خون کو محفوظ قرار دیدیا۔

[تیرھواں اعتراض] : شیعہ مصنف کہتا ہے: ’’ اہل سنت صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی سمجھتے ہیں ۔‘‘ 

[جواب] : یہ اہل سنت والجماعت پر محض ایک الزام ہے ۔ اہل سنت میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو یہ کہتا ہو۔ بلکہ ہم کہتے ہیں : ’’ آپ جملہ کاتبین وحی میں سے ایک تھے۔ جب کہ عبد اللہ بن سعدبن ابی رضی اللہ عنہ سرح مرتد ہوگئے تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی کی ؛ مگر پھر دوبارہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔‘‘ 

[چودھواں اعتراض]:شیعہ مصنف نے کہا ہے کہ یہ آیت:﴿ وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا﴾ [النحل ۱۰۶]’’ لیکن جوکوئی کفر کے لیے سینہ کھول دے ....‘‘

یہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ۔

[جواب]: یہ دعوی بالکل باطل ہے ۔ یہ آیت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کفریہ کلمات کہنے پر مجبور کیا گیا ۔‘‘ جب کہ ابن سرح کے ارتداد کا واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں پیش آیا ۔ اگر فرض محال یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ یہ آیت ابن سرح کے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی ؛ تو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ انہوں نے پھر اسلام قبول کرلیا تھا ‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَ شَہْدِوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَo اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَo خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَ لَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ oاِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [آل عمران۸۶۔۸۹]

’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقیناً یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہ لوگ! ان کی جزاء یہ ہے کہ بے شک ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے۔مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو یقیناً اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

[پندرھواں اعتراض]:شیعہ مصنف کی ذکر کردہ حدیث یعنی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کہ : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے سنا کہ فرما رہے تھے: ابھی ایک شخص نمودار ہو گا اس کی موت تارک سنت ہونے کی حالت میں ہو گی۔‘‘ اتنے میں معاویہ رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لیے اٹھے؛ اسی دوران معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کا ہاتھ تھام کر باہر چل دیے تو آپ نے فرمایا: اللہ قیادت کرنے والے اور جس کی قیادت کی گئی ہے۔ دونوں پر لعنت کرے۔‘‘یعنی جس دین امت اس گستاخ معاویہ کے ساتھ ہوگی۔‘‘ [انتہی کلام الرافضی]

جواب:اس سلسلہ میں کئی جوابات ہیں :

صفحہ 8 از 14