فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض - ردِ…

فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 14

[پہلا جواب]:اس حدیث کی صحت ثابت کیجیے۔ اس لیے کہ اثبات صحت سے پہلے کوئی حدیث قابل احتجاج نہیں ہو سکتی ۔ یہ بات ہم بطور مناظرہ کہتے ہیں ‘ ورنہ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ یہ اپنی طرف سے گھڑی ہوئی روایت ہے ۔ 

دوسرا جواب:یہ روایت باتفاق محدثین موضوع ہے اور کسی قابل اعتماد کتاب میں اس کا ذکر نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ حدیث بلاسند ہے اور اس سے احتجاج کرنے والے شیعہ مصنف نے بھی اس کی کوئی معروف سند بھی بیان نہیں کی۔ شیعہ مصنف کی جہالت کا بین ثبوت ہے کہ اس حدیث کا راوی عبد اللہ بن عمر کو ٹھہرایا ہے۔بھلا حضرت عبد اللہ ایسی حدیث کے راوی کیوں کر ہو سکتے ہیں جس میں صحابہ کے معائب و مثالب بیان کیے گئے ہیں [آپ صحابہ کرام کے متعلق لب کشائی کرنے والوں سے سب سے دور رہتے تھے] جب کہ آپ نے بہت سی وہ احادیث نقل کی ہیں جن میں صحابہ کے مناقب بیان کیے گئے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش میں معروف ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :

’’ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی رئیس ایسا بردبار نہیں دیکھا۔ ان سے دریافت کیا گیا، کیا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی آپ سے بڑھ کر نہ تھے۔؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ’’ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ان سے افضل تھے۔‘‘[اسد الغابۃ(۵؍۲۲۱۔۲۲۲)، البدایۃ والنھایۃ(۸؍۱۳۵)۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ ہیثم نے عوام سے اس نے جبلہ بن سحیم سے اوروہ ابن عمرو سے روایت کرتے ہیں ؛ فرمایا: ’’ میں نے حضرت امیر معاویہ سے بڑا سردار کسی کو نہیں دیکھا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا: حضرت عمر بھی ایسے نہیں تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے بہت بہتر تھے ۔ اوروہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑے سردار تھے۔ ابو سفیان الحیری نے یہی قول حضرت عوام بن حوشب سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ ان سے کہا گیا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ سے بڑے سردار نہیں تھے؟ تو فرمایا: حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ان سے بہتر تھے۔ جب کہ آپ بڑے سیاسی سردار تھے اوریہی بات ابن عمر سے بھی منقول ہے۔ مزید دیکھیں : العواصم من القواصم ص ۲۰۴۔] [پھر دوبارہ آپ نے فرمایا:

’’میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی رئیس ایسابردبار نہیں دیکھا۔‘‘

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :برد بار سردار معاویہ ۔’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے کریم و حلیم تھے۔‘‘

* باقی رہا شیعہ کا یہ کہنا کہ :[[نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لیے اٹھے؛ اسی دوران معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کا ہاتھ تھام کر چلدیے]]۔

* تواس کا جواب یہ ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات مختلف قسم کے ہوا کرتے تھے۔ آپ جمعہ، عیدین اور حج کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ دیگر مسلمانوں کی طرح بالالتزام آپ کے خطبات میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا معاویہ رضی اللہ عنہ ہر خطبہ سے اٹھ جایا کرتے تھے اور سنتے نہ تھے ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے موجب اہانت ہے کہ ہمیشہ دو شخص آپ کے خطبہ کے دوران اٹھ کر چلے جایا کریں [اور باقی صحابہ خاموش یہ تماشا دیکھتے رہیں ]۔ان دونوں کو جاتے رہنے دیں یہ نہ ہی کسی خطبہ میں حاضر ہوں او رنہ ہی جمعہ میں ۔ نیز یہ کہ اگر وہ دونوں ہر خطبہ میں حاضر ہوا کرتے تھے تو اس سے اٹھ کر چلے جانے کا کیا معنی؟

اس پر مزید یہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تکلیف دینے والوں کے مقابلہ میں بڑے حلیم وبردبار اور صابر تھے، جیساکہ آپ کی سیرت اور حالات زندگی میں یہ بات معروف ہے۔ مقام حیرت ہے کہ وہ اس صبر و حلم کے باوصف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرتے تھے؟ حالانکہ آپ دین و دنیا میں سب لوگوں کے سردار تھے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہر بات میں آپ کے محتاج بھی تھے ۔اور یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ آپ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔حالانکہ جب تاج و تخت سے بہرہ ور ہوئے تو لوگ آپ کے روبرو ان کو برا بھلا کہتے اور وہ خاموشی سے سنا کر تے تھے اور پھر حیرت بالائے حیرت اس بات پر ہے کہ ایسے شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب وحی بھی مقرر فرماتے ہیں جو آپ کی بات ہی نہ سنتا ہو؟ ۔

[سولہواں اعتراض]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ معاویہ نے اپنے بیٹے زید یایزید کا ہاتھ پکڑا اور باہر چل دیا۔‘‘

[جواب] :یہ صریح کذب ہے کیوں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاکوئی بیٹا زید نامی نہیں تھا ۔یزید جو آپ کے بعد تاج و تخت کا وارث بنا اور جس کے عہد میں سانحہ کربلا پیش آیا اس وقت پیدا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی ولادت عثمانی خلافت میں ہوئی؛ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔ عہد رسالت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔حافظ ابو الفضل ابن ناصر لکھتے ہیں :

’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت میں رشتہ طلب کیا تھا؛ مگر مفلس ہونے کی بنا پر ان کی یہ آرزو بر نہ آئی۔آپ کی شادی خلافت فاروقی میں ہوئی اور یزید حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۲۷ ہجری میں پیدا ہوا۔‘‘

[تیسرا جواب]: مذکورہ حدیث کا تیسرا جواب یہ ہے کہ معارضہ کے طور پر ہم اس جیسی موضوع روایات بیان کر سکتے ہیں جن سے حضرت معاویہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مشہور محدث ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ اپنی کتاب’’ الموضوعات‘‘ میں لکھتے ہیں :

صفحہ 9 از 14