فاروقی فتوحات کے چند اہم نتائج
علی محمد الصلابی1۔ فارس کی ساسانی اور روم کی بازنطینی حکومتوں کا صفحہ ہستی سے نام و نشان مٹ گیا اور ان دونوں کے زوال سے فارس اور روم کے درمیان زمانے سے چلی آرہی جاہلی جنگ اور قتل و خونریزی جس نے دونوں کو سخت نقصان پہنچایا تھا اور جن کا مقصد اقتدار پر قابض رہنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا، ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔
2۔ مشرق میں حدود چین سے لے کر پچھم میں مغرب تک اور جنوب میں بحیرہ عرب سے لے کر شمال میں ایشیائے کوچک تک پھیلی ہوئی کرۂ زمین کے قلب میں ایک عالمی سلطنت اور قیادت وجود میں آئی، ایسی جدید اور لیاقت مند سلطنت اور قیادت جسے دنیائے انسانیت نے کبھی نہ دیکھا تھا۔
3۔ تمام لوگوں پر ربانی منہج کی سرپرستی قائم ہوئی جب کہ عقیدہ و مذہب کی تبدیلی کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا گیا نہ کالے اور گورے کی کوئی تمیز کی گئی بلکہ سارے لوگوں کو اللہ کی شریعت کی نگاہ میں یکساں شمار کیا گیا، صرف تقویٰ معیار برتری قرار پایا اور لوگوں نے شریعت الہٰی کو اپنی زندگی میں نافذ کر کے امن و راحت، غلبہ و اقتدار، روزی میں وسعت اور زندگی میں خیر و برکت محسوس کی۔
4۔ پوری دنیائے انسانیت میں ایک امتیازی شان کے ساتھ امت مسلمہ کا ظہور ہوا، یعنی توحید اور اسلامی شریعت نے سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا، رنگ پرستی، نسل پرستی اور وطنیت پرستی جیسی غلامی کی زنجیروں سے لوگوں کو آزاد کیا۔ ہر رنگ و نسل کے لوگ قائد بنے اور امت محمدیہ کی نگاہ میں ان کا اونچا مقام و مرتبہ رہا۔ عصبیت و تفریق کی بنیاد پر نہ کبھی ان پر انگلی اٹھائی گئی اور نہ ان کا مرتبہ کم ہوا۔ چنانچہ اخلاص اور عدل و مساوات کا یہی جذبہ تھا کہ وہ اپنے مقابل کی فوج سے کہا کرتے تھے: اگر تم نے ہمارا دین قبول کر لیا تو ہم تم میں اللہ کی کتاب قرآن مجید چھوڑ کر چلے جائیں گے اور جب تک تم اس کے احکامات کے مطابق عمل کرتے رہو گے تمہیں اپنے سارے معاملات میں اختیار ہوگا، تمہیں تمہارا ملک دے کر ہم واپس چلے جائیں گے۔
(دراسات فی عہد النبوۃ: الشجاع: صفحہ 370)
5۔ کامل، متوازن اور نظم و نسق سے بھرپور ربانی تہذیب کو دنیا میں نمایاں حیثیت ملی، ایسی تہذیب جس نے شریعت ربانی کو اولیت دیتے ہوئے تمام اقوام اور امتوں کے جذبات و احساسات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ نظام الہٰی اور شرعی احکام کی پابندی کی شرط پر بلا امتیاز رنگ و نسل دنیا کے تمام انسانوں کو اپنی رکنیت میں جگہ دی۔ اس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ انسانی تہذیب کے کارواں کے مثالی قائد بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ سیدنا عمرؓ کی یہ قیادت ہمارے سامنے ایک ایسے انسان کے درخشندہ کارناموں کی تصویر کشی کرتی ہے جو قوی تھا، مومن تھا اور اسلامی شریعت کا عالم تھا، جس نے اللہ کی شریعت کو تقویت دینے، اس کے دین کو غالب کرنے، انسانوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے، انہیں دولت و انسانوں کی پرستش سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف بلانے، انسانیت کی خدمت کرنے اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اپنی حکومت، فوج، رعایا، تجربات اور تمام تر وسائل و اسباب کو میدان عمل میں جھونک دیا اور اس فرمان الہٰی کی دنیا میں سچی تصویر قائم کر دی:
اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞(سورۃ الحج آیت 41)
ترجمہ: یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔
اسلامی فتوحات نے دین اسلام کے سائے میں ایک اعلیٰ انسانی تہذیب کو جنم دیا، وہ تہذیب جسے ہم تہذیب ربانی کہتے ہیں اور اس کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ زندگی، کائنات اور انسان کے بارے میں اسلامی نظریہ کو سامنے رکھ کر ہر دور میں روئے زمین پر اللہ کی حکومت باقی رکھنے کے لیے تمام تر انسانی سرگرمیوں کو ایک کے ماتحت متحرک بنانے کا نام ربانی تہذیب ہے۔
(الإسلام والحضارۃ، الندوۃ العالمیۃ للشباب الإسلامی: جلد 1 صفحہ 90)