اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے دوستانہ اور مخلصانہ تعلقات…

اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے دوستانہ اور مخلصانہ تعلقات رکھنے اور ان پر اعتماد کرنے کا شرعی حکم


صفحہ 2 از 2

لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ المجادلہ: آیت نمبر، 22)

ترجمہ: تم نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ تعالی پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے، خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے یہ اس لئے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے (راسخ کر دیا ہے) اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے اور (اس کے صلہ میں) داخل کرے گا اُن کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں

جو مخالف ہوئے اللہ تعالی کے اور اس کے رسول کے، خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے یہ اس لئے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے (راسخ کر دیا ہے) اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے اور (اس کے صلہ میں) داخل کرے گا اُن کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ، ہمیشہ رہیں گے ان (جنتوں) میں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی، وہ لوگ ہیں گروہ اللہ تعالیٰ کا اللہ تعالیٰ والے ) خوب سن لو! جو گروہ ہے اللہ تعالیٰ کا وہی مراد کو پہنچے۔

یعنی تم کبھی بھی اور کسی حال میں بھی کسی ایسی مسلمان قوم کو ایسا نہ پاؤ گے جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی و محبت کا اظہار کرتے ہوں، اگرچہ ان کی ان سے کتنی ہی قریبی رشتہ داری کیوں نہ ہو، اورجو مسلمان لوگ ان اعدائے اسلام سے دوستی و محبت نہیں کرتے خواہ وہ کتنے ہی اُن کے قریبی رشتہ دار اور کتنے ہی خون کے رشتہ سے نزدیک کیوں نہ ہو، اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ان کی ایمانی صداقت اور قوت یقین اُن کفار سے مولات اور دوستی کرنے سے مانع ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو آخرت میں اس کا بدلہ دیں گے اور جزاء کے سب سے زیادہ مستحق وہی لوگ ہوں گے جو اس کی سب سے زیادہ مرضی پر چلنے والے ہوں گے۔ پس اے مسلمانو! اس عظیم جزاء کی خوشخبری سن لو! ایسے ہی لوگ اللہ والے ہیں اور ایسے ہی (مؤمنوں کی مدد کرنے والے) لوگ فلاح پانے والے اور (مؤمنوں کے مددگار ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ ھود: آیت نمبر، 113)

ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔

اس آیت میں مشرکین یا کسی بھی ایسی حرکت کرنے والے شخص کی طرف جس کو ظالم کہا جا سکے ذرا میلان کو بھی منع فرمایا ہے (یعنی ان لوگوں سے کسی بھی قسم کا بھی تعلق نہ رکھنا چاہئے) اگر ذرا بھی اُن لوگوں کی طرف مائل ہوئے تو تم پر ضرور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا عذاب نازل ہو گا اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں جو تم کو اس کے عذاب سے بچا سکے اور اُن لوگوں کی طرف میلان کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرما ہی چکا ہے کہ اس کی طرف سے تمہاری مدد ہرگز نہ ہو گی۔

حق تعالیٰ جلّ جلالہٗ کا ارشاد ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ  وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران: آیت نمبر، 118)

ترجمہ: اے ایمان والوں نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا وہ کمی نہیں رتے تمہاری خرابی میں ان کی خوشی ہے تم جس قدر تکلیف میں رہو نکلی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے ہم نے بتا دیئے تم کو پتے اگر تم کو عقل ہے،

امام قرطبیؒ نے بطانة کی تشریح فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ بطانتہ الرجل سے مراد انسان کے وہ خاص دوست ہیں جو اس کے گھر کی اور دل کی باتوں پر مطلع ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان لوگوں پر اعتماد اور قلبی تعلق کی بناء پر اپنے اسرار پر ان کو گواہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا اس آیتِ کریمہ میں اللہ جلّ جلالہ نے تمام مسلمانوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ ان کفار یہود و نصارٰی اور اہلِ اہواء (گمراہ فرقوں) کو اپنے کاموں میں دخیل نہ بنائیں اور اپنے اسرار سے ان کو آگاہ نہ کریں۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ نہ کریں اور اپنے کام ان کے سپرد نہ کری،ں اور اس کی وجہ بھی اللٰہ تعالی جلّ جلالہٗ نے بیان کر دی کہ یہ لوگ ہمیشہ تمہارے کام خراب کرنے اور تمہارے ساتھ مکر و فریب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کو مشقت اور مصیبت میں ڈال دیں۔چنانچہ ان کی باتوں سے بھی ان کا بغض و کینہ ظاہر ہوتا ہے، اور جو ان کے قلوب دلوں میں تمہاری عداوت و نفرت ہے وہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے جو باتوں سے ظاہر ہوتی ہے اس لئے حکماء کا مشہور قول ہے کہ

جو شخص تمھارے دین اور مذہب کا مخالف ہو تو تم کو چاہئے کہ تم اس کو اپنا ولی دوست ہرگز نہ بناؤ یعنی جو تمہارا ہم جنس نہ ہو، تم اس کے ہم نشین بھی نہ ہو۔

(فتاویٰ بینات: جلد، 2 صفحہ، 101 تا 106)


صفحہ 2 از 2