فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

صحابہ کا قول ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کا مصداق تھے؛کیونکہ رعیت آپ کو چاہتی تھی اور آپ رعیت کو چاہتے اوران کے لیے دعا کرتے تھے اور رعیت آپ کے لیے دعا کرتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور کوئی مخالف ان کو ضرر پہنچا سکے گا اور نہ رسوا کر سکے گا ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب(۲۸)، (حدیث:۳۶۴۱)، صحیح مسلم ۔ کتاب الامارۃ ، باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لا تزال طائفۃ من امتی (حدیث: ۱۷۴؍۱۰۳۷)]

مالک بن یُخامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں نے سیّدنامعاذ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اس سے اہل شام مراد ہیں ۔‘‘[البخاری، ح(۳۶۴۱)]

صحابہ کا خیال ہے کہ اس سے شامی لوگ مراد ہیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج میں تھے۔

صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ اہل مغرب ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی۔‘‘[مسلم۳؍ ۱۵۲۵؛ کتاب الامارۃ،باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لا تزال طائفۃ من امتی....‘‘ (ح:۱۹۲۵) ]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ اہل مغرب سے اہل شام مراد ہیں ۔‘‘

ہم نے دوسری جگہ اس پر مکمل گفتگو کی ہے، یہ نص عسکرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو شامل ہے۔

صحابہ کا قول ہے کہ:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے مقرر کردہ امراء سے افضل تھے۔ لہٰذا ان کو معزول کرکے سیاست میں ان سے فروتر درجہ کے لوگوں کو حاکم مقرر کرنے میں کوئی مصلحت مضمر نہ تھی۔ بیشک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابیہ کو امیر مقرر کیا ۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا گیا تھاکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو امیر رہنے دیں ۔لوگوں نے کہا : انہیں چند ماہ کے لیے عامل مقرر کردیں او پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معزول کردیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسا کرلینے میں مصلحت تھی ۔خواہ ایسا کرنا آپ کے استحقاق کی وجہ سے ہو‘ یا پھر آپ کی تالیف قلب اور خیر سگالی و نرمی کے لیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد جناب ابو سفیان کو والی مقرر کیا ۔ معاویہ ان سے بہتر تھے۔ تو جو ہستی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہتر تھی اس نے ایسے انسان کو والی مقرر کیا جو معاویہ رضی اللہ عنہ سے کم تھا۔ [اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدستوروالیٔ شام رہنے دیتے تو امت فتنہ پردازی اور خونریزی سے محفوظ رہتی]

اگر یہ کہا جائے کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کی بنا پر ایسا کیا تھا ۔‘‘

تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ:’’ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی جو امورصادر ہوئے وہ ان کے اجتہاد پر مبنی ہیں ۔

مزید برآں یہ کیا اجتہاد ہے کہ بعض لوگوں کو ولایت و امارت پر فائز کیا جائے اور بعض کو محروم رکھا جائے اور اس کے پہلو بہ پہلو امت میں خون ریزی کا باب اس حد تک کھل جائے کہ مسلمان ذلیل و خوار ہو جائیں اور کفار کو نیچا دکھانے کے قابل نہ رہیں بلکہ کفار میں مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی جسارت پیدا ہو جائے۔اس بات میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر علی و معاویہ کے مابین جنگ صفین پیش نہ آتی۔[حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کے تحفظ و بقاء اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت و نگہداشت میں جس حد تک اہتمام کیا تھا، اس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ قیصر روم ایک عظیم لشکر کے ساتھ اسلامی سلطنت پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے تو آپ نے اس کو ان الفاظ پر مشتمل ایک خط لکھا:’’ اﷲ کی قسم!اگر تو اس حرکت سے باز آکر واپس اپنے وطن نہ لوٹا تو میں اپنے چچا زاد بھائی (حضرت علی) سے صلح کر لوں گا اور ہم دونوں تجھے تیرے ملک سے نکال کر دم لیں گے اور اﷲ کی زمین کو تجھ پر تنگ کردیں گے۔‘‘ شاہ روم یہ خط پڑھ کر ڈر گیا اور اپنے ارادہ سے باز رہا۔] [اور دونوں حضرات اپنے اپنے علاقہ پر قابض رہتے] حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اپنی رعایا او ران کی سیاست پر قائم رہتے ‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کی تدبیر و تنسیق و سیاست پر قائم رہتے [تو امت لڑائی کے فتنہ سے بچ جاتی؛ اور لڑائی نہ ہونے سے بڑے دو ر رس نتائج برآمد ہوتے]اور امت میں اتنا فساد اور خون خرابہ نہ ہوتا جو اس جنگ و قتال کی وجہ سے ہوا۔کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے امت ہمیشہ تفرقہ بازی کا شکار رہی اور ایک امام پر جمع نہ ہو سکی۔بلکہ خون ریزی کا سلسلہ تا دیر جاری رہا اور بغض و عداوت کے جذبات زور پکڑ گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گروہ جو أقرب إلی الحق تھا کمزور ہو کر صلح کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوا۔حالانکہ شروع میں آپ صلح کے طلبگار نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ جس فعل کی مصلحت اس کے فساد پر غالب ہو، اس کا وجود پذیر ہونا اس کے نہ ہونے کی نسبت زیادہ خیروبرکت کا موجب ہوتا ہے۔ موضوع زیر بحث میں بھی لڑائی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ لڑائی نہ ہونے کے فوائد و مصالح کہیں بڑھ کر تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کثرت تعداد اور قوت وشوکت کے لحاظ سے برتر تھی۔ اور حضرت معاویہ ان سے مصالحت وموافقت اور جنگ بندی کرنے کے لیے تیار تھے۔ جس اجتہاد سے اس قدر تباہ کن نتائج ظہور پذیر ہوں ، اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس میں بے گناہ تصور کیا جائے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد میں بالاولیٰ عفو و درگزر کے مستحق ہوں گے۔

* حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اعوان و انصار کہتے تھے:’’ لڑائی کا آغاز کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم صرف اپنی جانوں اور اپنے ملک کی مدافعت کر رہے ہیں ۔انہوں نے ہم سے جنگ کا آغاز کیا تو ہم نے اس کا جواب جنگ کی صورت میں دیا۔ اور ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ظلم و تعدی کا ارتکاب بھی نہیں کیا۔‘‘

جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے رفقاء سے یوں کہا جاتا:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ واجب الاطاعت امام ہیں اور ان کی بیعت آپ کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ بیعت نہ کرنے سے مسلمانوں میں تفرقہ بازی پیدا ہوتی ہے۔‘‘

صفحہ 2 از 9