فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے:’’ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واجب الاطاعت امام ہونا کسی دلیل سے معلوم نہیں ۔‘‘ خصوصاً شیعہ کے ہاں امامت نص سے ثابت ہوتی ہے۔ اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی نص موصول نہیں ہوئی جس کی روشنی میں آپ کی امامت اور اطاعت واجب ہوتی ہو۔‘‘

ظاہر ہے کہ اصحاب معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ عذر معقول ہے۔ اس لیے کہ شیعہ امامیہ جس نص جلی کا دعویٰ کرتے ہیں ، اگر اسے حق بھی فرض کر لیا جائے(حالانکہ وہ باطل ہے) [اہل سنت کے نزدیک وہ نص باطل ہے۔ اس لیے کہ اگر ایسی کوئی نص موجود ہوتی تو اصحاب ثلاثہ کی دین داری، اخلاق و مروّت اور حکومت و سلطنت سے بیزاری کی بنا پر توقع کی جاتی تھی کہ سب سے پہلے وہ اس نص پر عمل کرتے۔] تویہ نص ابو بکر و عمر اورعثمان رضی اللہ عنہم خلفاء ثلاثہ کے عہد خلافت میں پوشیدہ رکھی گئی تھی۔ تو پھر ہم کیسے واجب کرسکتے ہیں کہ اصحاب معاویہ رضی اللہ عنہ اس سے آگاہ ہوں ۔ یہ مفروضہ اس صورت میں ہے جب نص مذکور حق ہو؛ مگر وہ حق نہیں بلکہ باطل ہے۔ 

[مدت خلافت ]

شیعہ کا یہ کہنا کہ : ’’ خلافت تیس سال تک ہوگی ۔‘‘ وغیرہ ۔

[جواب] : یہ احادیث [اس وقت ]اتنی مشہور نہیں تھیں کہ سبھی لوگ اس کو جانتے ہوتے ۔ یہ روایت چند خاص لوگوں نے نقل کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بخاری اور مسلم وغیرہ جیسے محدثین نے یہ روایت نقل نہیں کی۔ جب عبد الملک بن مروان جیسے انسان پر یہ حدیث مخفی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:

’’ اے عائشہ !اگر تمہاری قوم سے جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کر دیتا اور[ اس میں سے جو حصہ نکال دیا گیا ہے اسے میں اس میں شامل کر دیتا] اور اس کو زمین سے ملا دیتا اور اس میں دو دروازے رکھتا۔ ‘‘[]رواہ البخاری ‘ حج کا بیان :ح:۲۳۶۔ مکہ کی فضیلت اور اس کی عمارتوں کا بیان۔

جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کو منہدم کردیا گیا‘ اور اس تک یہ روایت پہنچی تو اس نے کہا :

’’ میری تمنا تھی کہ جو کام آپ نے کیا تھا وہ میرے ہاتھوں سے ہوا ہوتا ۔‘‘

حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بالکل صحیح اور متفق علیہ ہے ۔ پس اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کہ : ’’ میرے بعد خلافت تیس سال تک ہوگی ‘ اور پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی ۔‘‘ بالاولی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب پر مخفی رہی ہوگی۔ حالانکہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتداء تھی؛ اور اس حدیث میں کسی کی ذات کاکوئی تعین نہیں تھا۔ یہ دلالت تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اس نص کی روشنی میں معلوم ہوئی۔ حالانکہ اس حدیث میں کسی متعین خلیفہ کی تحدید نہیں ۔

اور جو لوگ ایک ہی وقت میں دو خلیفہ کی تجویز دیتے ہیں ؛ وہ کہتے ہیں :

’’ان دونوں کی خلافت خلافت نبوت ہوگی؛ بیشک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آخری ایام کی نسبت شروع میں اکثر لوگوں کے نزدیک زیادہ قابل تعریف اور محمود تھے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ بیشک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اہل شان و شوکت کی بیعت کی وجہ سے ثابت ہوگئی تھی؛ جیسے ان سے پہلے حضرات کی خلافت ثابت ہوتی ہے۔ اس سے مراد حضرت طلحہ پر رد کرنا ہے جنہوں نے بحالت اکراہ ان کی بیعت کی تھی۔ اور جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی؛ انہوں نے ہی آپ سے جنگ بھی کی ؛ اس لیے اہل شان وشوکت آپ کی اطاعت گزاری پر یک زبان نہ ہوسکے۔

مزیدبرآں اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی بیعت بھی ویسے ہی واجب تھی جیسے آپ سے پھلے لوگوں کی بیعت واجب تھی؛ جب آپ اپنے متقدمین کی سیرت پر عمل پیرا رہتے۔ وہ حضرات اپنی بیعت کرنے والوں کا ظلم سے دفاع

کرنے پر قادر تھے۔ اور اس سلسلہ میں جو کچھ وہ کرسکتے تھے؛ کر گزرتے۔ جب کہ ان حضرات کا کہنا تھا کہ اگر ہم آپ کی بیعت کر لیں ؛ تو ہم آپ کی ولایت میں مظلوم ہی ہوں گے؛ اور اس پر مستزاد اس سے پہلے جو ظلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ہو چکا ہے؛ انہوں نے تو اپنی عاجزی اور مجبوری کی وجہ سے ہمیں اس سلسلہ میں انصاف نہیں دلایا۔ بھلے یہ آپ کی تأویل کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ یا پھر اس وجہ سے ہو جو کچھ دوسرے لوگ آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ آپ ان سے دفاع کرنے میں عاجز تھے۔ اور بلاشک و شبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین اور ان کے حلیف ہمارے دشمن ہیں ۔ اور ان کی بڑی تعداد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھی۔ اور آپ ان سے دفاع کرنے میں عاجز تھے۔ اس کی دلیل یوم جمل کا واقعہ ہے۔ بیشک جب آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے انتقام لینے کے لیے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے مدد چاہی تو وہ لوگ ان کے خلاف جمع ہوکر بر سر پیکار جنگ ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پر ہاتھ اٹھانے سے باز رہنا مصلحت کا تقاضا تھا۔ جیسا کہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے مشورہ کے بعد اس پر اتفاق ہوگیا تھا۔مگر جب قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو اکابرین کے اس اتفاق کا علم ہوا تو انہیں نے فتنہ و فساد پھیلادیا۔ اور انہوں نے پہل کرکے حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اورحضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے:’’ حملہ کرنے میں پہلے انہوں نے کی ہے ۔‘‘پس ان میں سے ہر دو فریق اپنے اپنے دفاع میں لڑتے رہے ۔ اس جنگ سے حضرت علی یا حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کو کوئی سر وکار نہیں تھا۔ بلکہ یہ فتنہ و فساد قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کا پیدا کردہ تھا۔[پس اس پر وہ کہتے تھے:]

صفحہ 3 از 9