فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 9

’’جب وہ ہمارے ساتھ ہماری نصرت کے بارے میں اپنی عاجزی یا تاویل کی وجہ سے انصاف نہیں کرسکتے؛ تو ہم پر بھی یہ لازم نہیں ہوتا کہ ہم اس انسان کی بیعت کریں جس کے دور میں ہم ظلم کی شکایت کرتے ہیں ‘ جو لوگ ہم سے جنگ کرنے کو جائز کہتے ہیں ؛ ان کا کہنا ہے : ’’ ہم باغی ہیں ۔‘‘ اور بغاوت کرنا ظلم ہے ۔ اگر صرف ظلم کی وجہ سے قتال حلال ہوجاتاہے ‘ تو یہی ظلم بیعت ترک کرنے کے جواز میں زیادہ اولی اور مناسب ہے ۔ اس لیے کہ جنگ کرنے میں بغیر جنگ کے بیعت ترک کر دینے سے بڑھ کر فساد ہے ۔‘‘

٭ اگرشیعہ کی طرف سے یہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر ظلم نہیں کرنا چاہتے تھے ‘ بلکہ آپ عدل قائم کرنے میں مجتہد تھے ‘وہ ان کے ساتھ بھی عدل کرنا چاہتے تھے اور ان پر عدل قائم کرنا چاہتے تھے۔

٭ تواسکے جواب میں [اصحاب معاویہ کی طرف سے] کہا جاسکتا ہے کہ :’’ ہم بھی عمداً بغاوت نہیں کرنا چاہتے ؛ بلکہ ہم ان کیساتھ اور اپنے ساتھ عدل کرنا چاہتے ہیں ۔اور اگر مان لیا جائے کہ ہم تاویل کی بنا پر باغی بھی ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ جنگ شروع کرنے کا حکم نہیں دیا؛اور فقط کسی کی بغاوت سے اسے قتل کرنا حلال نہیں ہوجاتا ۔ بلکہ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا﴾ [الحجرات۹]

’’اور اگر ایمان والوں کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دونوں کے درمیان صلح کرا دو۔‘‘

یہاں پر اللہ نے پہلے ان کے مابین صلح کرانے کا حکم دیا ہے ۔ اور پھر یہ ارشاد فرمایا: ﴿فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ ﴾ [الحجرات۹] ’’ پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔‘‘

یہ زیادتی و بغاوت قتال و جنگ کے بعد کی ہے؛ کہ دو جنگجو گروہوں میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرتا ہے۔ جنگ کے بغیر کوئی زیادتی اور بغاوت نہیں ۔پس اس بنا پر صرف زیادتی کی وجہ سے کسی کو قتل کرنا حلال نہیں ہوجاتا ۔ حالانکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ والی روایت میں موجود ہے کہ انہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو آپ کو قتل کرنے میں براہ راست ملوث رہے ہیں ۔ اس لیے کہ انہوں نے جنگ کی ضرورت کے بغیر ہی لڑائی شروع کر رکھی تھی۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنگ سے پہلے باغی نہ ہو ں ؛لیکن جب ان کے مابین جنگ واقع ہوئی تو ایک دوسرے پر بغاوت او ر زیادتی کرنے لگ گئے۔ پس اس صورت میں حضرت عمار کو ایک باغی گروہ نے ہی قتل کیا ہوگا۔ پس حدیث میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ یہاں پر بغاوت جنگ سے پہلے ہی ہوگئی ہو۔ تو جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر نے زیادتی کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لشکر انتہائی کمزوری کا شکار ہوگیا ؛ اور وہ جنگ پر قابو نہ پاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں :

’’لوگوں نے اس آیت پر عمل نہیں کیا ۔‘‘

[اٹھارھواں اعتراض]:شیعہ کا یہ قول کہ ’’ معاویہ رضی اللہ عنہ نے خیارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک کثیر جماعت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔‘‘

صفحہ 4 از 9