فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9

[جواب]:بات یہ ہے کہ مقتولین کسی ایک جماعت میں محدود نہ تھے بلکہ ہر فریق نے فریق مخالف کے اعوان وانصار کو قتل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ فریقین میں سے جو جنگ آزما لوگ تھے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی کے بھی اطاعت کیش نہ تھے؛جبکہ حضرت علی اورمعاویہ رضی اللہ عنہما دونوں مصالحت چاہتے تھے اور خون ریزی سے بیزار تھے ۔ لیکن اس واقعہ کے پیش آنے میں دونوں [فسادیوں کے سامنے ] مغلوب ہوگئے تھے۔[ان دونوں کے رفقاء بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے]۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ فتنہ کی آگ جب ایک مرتبہ مشتعل ہو جاتی ہے تو دانش مندوں کے بجھائے بھی فرو نہیں ہوتی۔ فریقین میں اشتر نخعی؛ ہاشم بن عتبہ [ہاشم بن عتبہ المرقال حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھتیجا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے ساتھ جنگ قادسیہ میں حاضر ہو کر بہادری کے جوہر دکھائے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جو لشکر جلولاء کے مقام پر یزدگرد شاہ ایران سے لڑنے کے لیے بھیجا تھا۔ ہاشم اس کے سپہ سالار تھے، جنگ صفین میں ہاشم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا، یہ آپ کی فوج کے علم بردار تھے۔ یہ جنگ صفین میں مارے گئے۔ ]، عبدا لرحمن [ایک قدیم مورخ سیف بن عمر تمیمی جس سے مورخ طبری بھی استفادہ کر چکے ہیں ، لکھتا ہے:’’ عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ فتوحات شام میں شریک تھے۔ یہ اس وقت بالکل نوعمر تھے۔ ابن سعدنے ان کو تابعین مدینہ کے طبقۂ اوّل میں شمار کیا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ میں مسلمانوں نے رومیوں سے جو جنگیں لڑیں ۔ یہ ان میں سپہ سالار ہوا کرتے تھے، یہاں تک (]بن خالد بن ولید؛اور ابو الاعور السُّلَمِی [کہ ابو ایوب انصاری جیسے مقتدر صحابہ آپ کے زیر قیادت شریک جہاد ہوئے۔ عبدالرحمن اس وقت عنفوان شباب میں تھے۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عبد الرحمن نے چار عجمی کافر قید کیے اور حکم دیا کہ انھیں تیروں سے قتل کیا جائے، جب حضرت ابوایوب کو پتہ چلا تو انھوں نے اس سے منع فرمایا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ عبد الرحمن نے اس گناہ کی پاداش میں چار غلام آزاد کیے۔ (سنن ابی داؤد۔ کتاب الجہاد۔ باب فی قتل الاسیر بالنبل (حدیث: ۲۶۸۷)، و سندہ ضعیف ۔اس کی سند میں بکیر بن الاشج راوی مجہول الحال ہے۔خلافتِ عثمانی میں حضرت معاویہ نے عبد الرحمن کو ملک شام کی شمالی جانب حمص سے لے کر جزیرہ ابن عمر تک کا حاکم مقرر کیا تھا۔ آپ نے ایک بیدار مغز اور جرأت مند حاکم کی طرح اپنے فرائض منصبی ادا کیے۔ خلافت عثمانی میں جب فتنہ پردازوں نے کوفہ میں شرانگیزی کا آغاز کیا تو حضرت عثمان نے ان کو معاویہ کی خدمت میں بھیجنے کا حکم صادر فرمایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حلم و ادب کے ذریعہ ان کی اصلاح کرنا چاہی مگر وہ حلم و ادب کی لغت سے واقف ہی نہ تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت معاویہ نے ان کو عبدالرحمن بن خالد کے پاس بھیجا۔ عبد الرحمن نے ان کو متنبہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا اس میں یہ الفاظ بھی شامل تھے: ’’اے شیطان کے آلہ کارو! میں تمھیں خوش آمدید نہیں کہنا چاہتا۔ اب شیطان تھک کر عاجز آگیا ہے، مگر تمہاری پھرتی و چالاکی میں کمی نہیں آئی۔ اﷲ عبدالرحمن کو ناکارہ کردے، اگر ادب سکھا کر وہ تمھیں فرماں بردار نہ بنائے۔ اے ان لوگوں کے گروہ جن کے متعلق مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ عرب ہیں یا عجم۔ تمھیں واضح ہو کہ میں اس خالد بن ولید کا بیٹا ہوں جو بڑی مشکلات سے دوچار ہوئے۔ جنھوں نے فتنہ ارتداد کی آگ کو فرو کیا۔ اے صعصعہ بن ذلّ اگر مجھے پتہ چلا کہ میرے رفقاء میں سے کسی نے تیری ناک توڑی اور پھر تجھے دودھ پلایا تو میں تجھے عبرتناک سزادوں گا۔‘‘ (تاریخ طبری:۵؍۸۷)عبد الرحمن بن خالد کہا کرتے تھے:’’ جس کی خیر سے اصلاح ممکن نہ ہو اسے شر کے ذریعے ٹھیک کر سکتے ہیں ۔‘‘یہ سن کر سب شریرعبد الرحمن سے کہنے لگے:’’ہم بارگاہ ایزدی میں توبہ کرتے ہیں ، ہمیں معاف فرمائیے اﷲ تعالیٰ آپ کو معاف کرے۔‘‘ (طبری:۵؍۸۷۔۸۸) مگر ان کی یہ توبہ مخلصانہ نہ تھی۔ رہا ہو کر انھوں نے حج کرنے کے بہانے سے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کردی۔ عبد الرحمن بن خالد جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ہم راہ تھے، جیسا کہ شٰخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ ابو اعور کااصلی نام عمر بن صفوان ذکوانی ہے۔ ذکوان بنی سُلیم کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔یہ صحابی ہیں غزوۂ حنین کے بعد اسلام لائے۔محمد بن حبیب لکھتے ہیں :’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مختلف دیار و امصار کے امراء کو لکھا تھا کہ ہر علاقہ میں سے ایک صالح ترین شخص آپ کی خدمت میں بھیجا جائے۔ چنانچہ بصرہ، کوفہ اور شام و مصر سے چار آدمی آپ کے یہاں بھیجے گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ چاروں قبیلہ بنی سلیم سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے ایک ابو اعور سُلَمِی تھے۔ امام مصر حضرت لیث بن سعد فرماتے ہیں :’’جب ۲۳ھ میں عموریہ کی جنگ ہوئی تو اس میں مصری فوج کے امیر وہب بن عمیر جُمحی تھے اور شامی لشکر کے سپہ سالار ابو اعور سلمی تھے۔‘‘ابو زرعہ اپنی تاریخ دمشق میں لکھتے ہیں :’’۲۶ھ میں ابو اعور سلمی نے قبرص کی جنگ میں شرکت کی تھی ۔ ‘‘ جنگ صفین میں ابو اعور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اور بہت بڑے قائد خیال کیے جاتے تھے۔ ان کی شجاعت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابو اَعور نے یہ سمجھ کر اشتر نخعی کا مقابلہ کرنے سے انکار کردیا تھا کہ وہ ان کا حریف نہیں ہو سکتا۔]جیسے لوگ تھے جو جنگ کی آگ کو فرو نہیں ہونے دیتے تھے۔ 

صفحہ 5 از 9