فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 9

کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شدید حمایت کرتے تھے اور کچھ ان کے خلاف تھے۔ دوسری طرف حامیان علی رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ لوگ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں جو لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حامی تھے، وہ ذات معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر اسباب و محرکات کی بنا پر شریک جنگ ہوئے تھے۔ جنگ، فتنہ اور قتال جاہلیت کی طرح ایک ہی قسم کے مقاصد و اعتقادات کے تحت وقوع پذیر نہیں ہوتا بلکہ اس کے مقاصد مختلف ہوا کرتے ہیں ، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’جب فتنہ بپا ہوا تو اصحاب رسول کی تعداد کچھ کم نہ تھی۔ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس بات پر اجماع کر لیا تھا کہ جس خون ، مال یا عفت و عصمت کو بنا بر تاویل حلال کیا گیا ہو وہ ہدرہے (جس پر شرعی سزا نہ دی جائے) ؛ اور اسے جاہلیت کا سا معاملہ سمجھاجائے ۔‘‘

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے لعنت کا تعلق ہے، فریقین دعا میں ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے؛ جیسا کہ ان کے مابین جنگ بھی بپا ہوئی۔ان کے سردار اُن پراپنی دعاؤوں میں لعنت کرتے تھے ‘ اور دوسرے گروہ کے سردار پہلے گروہ کے بڑوں پر لعنت کرتے تھے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے ہر گروہ دوسرے کے خلاف دعاء قنوت پڑھ کر بددعا کرتاتھا ۔ کسی کے خلاف جنگ آزما ہونا اس پر لعنت بھیجنے سے بھی عظیم تر ہے۔ لعنت بھیجنے کا فعل خواہ گناہ ہو یا صحیح و غلط اجتہاد پر مبنی ہو، اللہ کی مغفرت کا حصول بنا بر توبہ گناہوں کا ازالہ کرنے والے اعمال صالحہ اور گناہوں کا کفارہ بننے والے حوادث و آلام کی وجہ سے ممکن ہے۔پھرعجیب بات یہ ہے کہ روافض سَبِّ علی رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرتے ہیں اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرنے اور ان کو اور ان سے محبت رکھنے والوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں شرماتے۔ بخلاف ازیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے احباب و انصار حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر نہیں کرتے ، آپ کی تکفیر صرف خوارج کرتے ہیں ، جو دین اسلام سے نکل چکے ہیں ،رافضہ ان سب سے برے ہیں ۔اگر خوارج اس گالم گلوچ کا انکار کرتے تو ان کے قول میں تناقض ہوتا۔توپھر رافضی اس کا انکار کیسے کرسکتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کوگالی دینا جائز نہیں ۔نہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کونہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور نہ ہی ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو ۔ پھر جو کوئی حضرات ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو گالی دے ‘ اس کا گناہ اس سے بڑھ کر ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دے ۔ اگرچہ ان صحابہ کو گالی دینے والا کسی تاویل کا بھی شکار ہو ؛تو اس کی تأویل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے والے کی تاویل سے بڑھ کر فاسد اور بے کار ہے۔ اگر ان صحابہ کو تاویل کی وجہ سے گالی دینے والا برانہیں ہے تو پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی برے نہیں ہوسکتے ۔اور اگریہ حرکت مذموم ہے ‘ تو پھر شیعہ جو کہ خلفاء ثلاثہ کو گالی دیتے ہیں وہ نواصب سے بڑھ کر مذمت کے مستحق ہیں جو کہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کوگالی دیتے ہیں ۔ خواہ جس زاویہ سے بھی اس معاملہ کو لیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ شیعہ سب سے زیادہ حق سے دور ہیں ۔

صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخص احد کے پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے، تو وہ ان کے عشرعشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، لو کنت متخذاً خلیلاً (ح:۳۶۷۳)، مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب تحریم سب الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم ( ح:۲۵۴۱) العواصم من القواصم: ۳۲تا ۳۴۔]

[حضرت حسن رضی اللہ عنہ کاقاتل کون؟]:

[انیسواں اعتراض]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسن کو رضی اللہ عنہ زہر کھلایا تھا۔‘‘

[جواب]:بعض لوگوں نے یہ بات کہی ہے۔[یہ شیعہ کا قول ہے، جو بلا دلیل و ثبوت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اتہام طرازی کرتے رہتے ہیں یا وہ لوگ اس کے قائل ہیں جو شیعہ کے دام فریب میں آکر ان کے جھوٹے اقوال سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔]مگر کسی شرعی دلیل و برہان سے یا کسی معتبر کے اقراریا کسی سچے ناقل کے کلام سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔اور نہ ہی اس کا علم ممکن ہے۔پس یہ کہنا کہ آپ نے حضرت حسن کو زہر دیا تھا؛ بغیر علم کے بات ہے۔ہمارے اس زمانے میں بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں بادشاہ کو زہر دے کر قتل کیا گیا ۔مگر لوگوں کا اس میں اختلاف ہوتا ہے۔یہاں تک کہ جس جگہ و مقام پرجس قلعہ میں اس بادشاہ کا انتقال ہوگیا ہو‘ وہاں کے رہنے والوں میں بھی اس حقیقت میں اختلاف ہوتا ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر آدمی دوسرے کے برعکس کوئی اور بات کہتا ہے۔کوئی ایک کہتا ہے: اس کو فلاں نے زہر دی۔دوسرا کہتا ہے: نہیں اسے فلاں نے زہر دی؛ کیونکہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آگیا تھا۔یہ حال تو آپ کے زمانے میں پیش آنے والے واقعات کا ہے۔اوران لوگوں کا بیان ہے جو خود اس قلعہ کے اندر موجود تھے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو زہر دیا گیا۔اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن بھی ہے۔ اس لیے کہ زہر دے کر قتل کیے جانے والے کی موت کسی پر مخفی نہیں رہتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آپ کو زہر کھلایا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی موت مدینہ طیبہ میں واقع ہوئی۔جبکہ معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں تھے ۔اس بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی آدمی کو بھیجاہو‘یا پھر کسی کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہو۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی بیوی نے آپ کو زہر اس لیے دیا چونکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کثرت سے طلاق دیا کرتے تھے۔ اس لیے ممکن ہے کہ ان کی بیوی نے کسی مقصد کے لیے آپ کو زہرکھلایا ہو۔ واللہ اعلم۔

صفحہ 6 از 9