فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس عورت کے والد اشعث بن قیس نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کھلانے کا حکم دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اندرونی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ و حسن رضی اللہ عنہ سے منحرف ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے والد کو اس بات پر مامور کیا تھا۔ یہ ظن محض ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ‘‘[صحیح بخاری،کتاب الادب۔ باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر،(حدیث:۶۰۶۴)، صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الظن والتجسس(حدیث:۲۵۶۳)۔]

’’بدگمانی سے بچو، کیوں کہ یہ بڑی جھوٹی بات ہے۔‘‘

خلاصہ یہ کہ باتفاق مسلمین شرعاً ایسی بلا دلیل بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس پر کسی کی مدح یا مذمت کا ترتب درست ہے۔

پھر یہ کہ اشعث بن کا انتقال ۳۰ہجری میں ہوا۔اور ۳۱ ہجری بھی کہا گیاہے۔ اسی لیے اس کا نام اس صلح میں نہیں آتاجواتفاق والے سال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے مابین ہوئی تھی۔یہ سن ۳۱ ہجری کا واقعہ ہے۔ اشعث بن قیس حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے سسر تھے۔ [اشعث بن قیس بن معدیکرب الکندی ابو محمد ؛ صحابی ہیں ؛ سن دس ہجری میں ستر ساتھیوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کندہ کے بادشاہوں میں سے تھے۔ آپ نے اسلام قبول کیا۔ جنگ یرموک میں شرکت کی۔ اور اس جنگ میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں زکواۃ دینے سے انکار کیا ؛ تو ان سے جنگ کی گئی ۔ جس میں آپ نے ہتھیار ڈال دیے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آزاد کردیا؛ اور ام فروہ سے آپ کی شادی کردی۔ آپ مدینہ میں قیام پذیر رہے۔ اور کئی جنگوں میں شرکت کی ۔ عراق کی جنگوں میں شریک ہوئے۔ اور صفین اور نہروان کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ پھر واپس کوفہ چلے گئے اور سن ۴۰ ہجری میں انتقال فرمایا۔ بخاری او رمسلم میں آپ سے نو احادیث روایت کی گئی ہیں ۔ دیکھیں : الاصابہ ۱؍ ۶۶؛ الأعلام ۱؍ ۳۳۳۔ ]اگر وہ اس موقع پر موجود ہوتے تو ان کا ذکر ضرور کیا جاتا۔اور اگر اس کی وفات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات سے بیس سے پہلے ہوچکی تھی؛ تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو زہر دینے کا حکم دیا ہو۔ حقیقت حال کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اور وہی ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرے گا۔اور اگر ایسی کوئی بات ہوئی ہے ؛ تو یہ پھر وہی باہمی جنگ و قتال ہے جیسے کہ پہلے گزر چکا؛ کہ مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے کو تأویل کی بنا پر قتل کیا۔اور ایک دوسرے پر سب و شتم بھی کیا۔ اور کفر کے فتوے بھی لگائے۔ یہ ایک بہت بڑا باب ہے؛ جو اس بارے میں حقیقت واجب نہ جانتا ہو تو وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔ 

[حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا]:

[بیسواں اعتراض]: کہتے ہیں : ’’ معاویہ کے بیٹے یزید نے حضرت حسین کو قتل کیااور ان کی عورتوں کو قیدی بنایا ۔‘‘

[جواب]: یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کیا ‘ اور نہ ہی آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ؛ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ مگر اس نے ابن زیاد کو یہ خط لکھا کہ آپ کو عراق کی ولایت سے روکے۔جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ اہل عراق آپ کی نصرت کریں گے ؛ اور آپ کی طرف لکھے گئے وعدے پورے کریں گے۔[ہمارے معاصر مشہورشیعہ شاعر محمد جواد خضر نے ان تاریخی حقائق کو تسلیم کیا ہے اور اس طرح اﷲ تعالیٰ نے حق و انصاف کو اس کی زبان پر جاری کردیا، حضرت علی بن حسین بال بچوں سمیت جب کربلا سے کوفہ پہنچے اور خیانت کارشیعہ مستورات سمیت روتے دھوتے اور دامن پھاڑتے آپ کے استقبال کے لیے نکلے(جیسے شیعہ آج کل عاشوراء کے موقع پر کرتے ہیں ) تو آپ نے اہل کوفہ کو مخاطب کرکے کہا:’’ اہل کوفہ! اب تم رو رہے ہو بتلائیے تمہارے سوا ہمیں اور کس نے قتل کیا ہے؟‘‘] چنانچہ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا۔ جب انھوں نے دھوکہ سے مسلم کو قتل کرکے ابن زیاد کی بیعت کرلی، تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے واپس جانے کا ارادہ کیا، مگر ابن ز یاد کی ظالم فوجوں نے آپ کو واپس جانے سے روکا۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ: مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے۔ یا ملکی سرحد کی راہ لینے دی جائے۔ یا اپنے شہر کو واپس جانے دیا جائے۔ مگر انھوں نے آپ کو قیدی بنانے کے سوا دوسری سب تجویزیں مسترد کردیں ۔ آپ نے قیدی ہونے اور عبداللہ بن زیاد کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کردیا اور ان کے خلاف لڑتے ہوئے بحالت مظلومی شہادت پائی۔ جب یزید کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی خبر پہنچی تو اس نے بڑے درد و کرب کا اظہار کیا اور اس کے اہل خانہ نے آہ و بکا کا آغاز کیا۔ یزید رحمہ اللہ نے اہل بیت کی خواتین میں سے کسی کو قید نہیں کیا تھا۔[اس فقرہ سے شیعہ کی تردید مقصود ہے، ورنہ یزید اور اس کے اہل بیت آج کل کے جھوٹے مدعیان حب اہل بیت سے کہیں بڑھ چڑھ کر بنی ہاشم کا اعزاز و احترام بجا لاتے تھے، موجودہ شیعہ حب اہل بیت کے بہانہ سے ان کے دین میں مسخ و تحریف کرنا چاہتے ہیں ایک مرتبہ حجاج ثقفی نے بنی ہاشم کے قبیلہ میں رشتہ کرنا چاہا تو بنو امیہ نے اسے ناپسند کیا کیوں کہ وہ حجاج کو بنو عبد مناف کا کفو(ہمسر) تصور نہیں کرتے تھے۔]بلکہ انھیں عطیہ جات دیے اور عزت و احترام سے انھیں مدینہ رخصت کردیا۔ [ اس لیے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو خصوصی وصیت کی تھی کہ ہر قیمت پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا اکرام و احترام ملحوظ رکھے]۔

اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ : ’’ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ‘‘ تو اس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا کیا گناہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی﴾ [فاطر۱۸]

’’ کوئی جی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔‘‘

صفحہ 7 از 9