فصل:....رافضی دعوی کا فساد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی دعوی کا فساد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حق کا خیال رکھنے ‘ آپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے ‘ اور آپ کی تعظیم و توقیر بجالانے کی وصیت کی تھی۔ عمر بن سعد اس جماعت کا سردار تھا جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ۔ جب کہ اس کے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ فتنہ سے دور رہنے والے تھے۔اس بیٹے کا اپنے باپ کیساتھ طلب خلافت کے مسئلہ میں ایک مشہور مکالمہ ہے ؛ جس میں حضرت سعد اس مطالبہ سے باز رہے۔ اس وقت آپ کے علاوہ اہل شوری میں سے کوئی ایک بھی زندہ باقی نہیں تھا۔

صحیح مسلم میں ہے حضرت عامر بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں (موجود) تھے کہ اسی دوران ان کا بیٹا عمر آیا؛ تو جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو فرمایا :

’’میں اس سوار کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ جب وہ اترا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ: کیا آپ اونٹوں اور بکریوں میں رہنے لگے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے اور وہ ملک کی خاطر جھگڑرہے ہیں ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : خاموش ہوجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:’’ اللہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جو پرہیزگار اور غنی ہے اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھا ہو۔‘‘[صحیح مسلم ‘زہد و تقوی کا بیان :۱۰۶۔]

محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے میں مدد کی تھی۔ جبکہ اس کے والد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعظیم کرنے والے تھے ۔ توکیا اس بیٹے کی وجہ سے کسی ایک اہل سنت نے بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شان میں قدح کی ہے ؟

[اکیسواں اعتراض]:اگر یہ کہا جائے کہ : ’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ مقرر کردیا تھا ؛ اس کی ولایت کی وجہ سے یہ فساد پیدا ہوا ۔‘‘ 

[جواب] : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے اس کو خلیفہ مقرر کرنا جائز تھا۔ اس فعل سے آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ اگر آپ کے لیے اس کو خلیفہ مقرر کرنا ناجائز بھی ہوتا تو یہ علیحدہ سے ایک گناہ تھا؛ اگرچہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل نہ بھی کرتا۔ یزید لوگوں میں سب سے بڑھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عزت و آبرو کا خیال رکھنے کا حریص تھا چہ جائے کہ وہ آپ کے خون کا پیاسا ہوتا ۔ اس کوشش و جدوجہد کے باوجود فسادیوں کے افعال کو آپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ 

[بائیسواں اعتراض]:رافضی مضمون نگار کا یہ قول کہ ’’[معاویہ کے والد]ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے دانت توڑے تھے؛ اور اس کی والدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا۔‘‘ 

[جواب]: اس میں کوئی شک نہیں کہ ابو سفیان احد کے موقع پر مشر کین کے لشکر کا قائد تھا۔ اور اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت بھی توڑے گئے ۔مگر کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ کے دندان مبارک پر وارکرنے والاابو سفیان تھا۔ بلکہ یہ دانت توڑنے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔[دیکھیے تاریخ طبری(۳؍۱۷) طبع حسینیہ نیز(ج:۱؍۴۰۳) طبع یورپ۔ عتبہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھائی تھا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ جنتی ہیں اورعتبہ جہنمی۔ محمد بن اسحاق حضرت سعد سے روایت کرتے کہ وہ کہا کرتے تھے:’’اﷲ کی قسم! میں عتبہ سے بڑھ کر کسی شخص کو قتل کرنے کا حریص نہ تھا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ اپنی قوم میں بدخلق مشہور تھا اور سب لوگ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ میرے لیے سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کافی ہے کہ:’’ اس شخص پر اﷲ کا شدید غضب ہو گا جس نے رسول اﷲ کے چہرے کو خون آلود کیا۔‘‘(طبری:۳؍۲۰) ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگردمقسم روایت کرتے ہیں کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے حق میں بد دعا کی تھی کہ سال گزرنے سے پیشتر وہ بہ حالت کفر مرجائے گا۔‘‘ چنانچہ عتبہ ایک سال کے اندر اندر کافر ہونے کی حالت میں مر گیا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنگ بدر کے بعد حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ پر قابو پا کر اس کا سر اڑا دیا تھا۔(رواہ الحاکم فی المستدرک) اورسیرۃ ابن ہشام (ص:۳۸۶)۔]

یہ درست ہے کہ ہند زوجۂ ابو سفیان نے سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر لے کر چبایا تو اسے نگل نہ سکی؛ پھر اسے تھوک دیا تھا۔[سیرۃ ابن ہشام(ص:۳۹۳)، مسند احمد۱۰؍۴۶۳)،مطولاً] یہ اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ پھریہ تمام گھرانہ عنایت ایزدی سے مشرف بہ اسلام ہو گیا ؛ اور اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہند رضی اللہ عنہا کی اس بنا پر تکریم فرمایا کرتے تھے[ کہ رشتہ سے وہ آپ کی ساس ہوتی تھی]۔نیزیہ کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔[صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب کون الاسلام۔ یھدم ما قبلہ(حدیث:۱۲۱)] اللہ تعالیٰ فرماتے تھے:

﴿قُلْ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ﴾ (الانفال:۳۸) 

’’ جو لوگ کافر ہیں ، ان سے فرمائیں کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ معاف کردیجیے جائیں گے۔‘‘

صحیح مسلم میں حضرت عبدالرحمن ابن شماسہ سے مروی ہے؛ فرماتے ہیں :کہ ہم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے ؛وہ بہت دیر تک روتے رہے اور چہرہ مبارک دیوار کی طرف پھیر لیا۔ ان کے بیٹے ان سے کہہ رہے تھے کہ:’’ اے ابا جان آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو[جنت کی] بشارت نہیں سنائی؟ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ادھر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ:

صفحہ 8 از 9