Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک عادل مومن، پاک طینت و تقویٰ شعار مجاہد، قوی اور امانت دار خلیفہ کی زندہ مثال تھے، امت مسلمہ اور اسلامی عقائد کی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دین و عقیدہ اور اس کے متبعین جس کی قیادت آپ کے ہاتھوں میں تھی، کی خدمت کے لیے اپنی پوری خلافت وقف کر دی تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیک وقت پورے اسلامی لشکر کے قائد اعلیٰ (کمانڈر جنرل)، امت کے مجتہد فقیہ اور بے داغ انصاف پرور قاضی تھے۔ اپنی رعایا کے ہر چھوٹے بڑے، کمزور و طاقتور اور فقیر و مالدار کے لیے مشفق باپ کی طرح تھے، اللہ اور اس کے رسول پر صدق دل سے ایمان لائے تھے، سیدنا عمرؓ ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاستدان، دور اندیش، حکیم و دانا اور منتظم کار تھے، سیدنا عمرؓ نے اپنی قیادت میں امت کے ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ سیدنا عمرؓ کے دور حکومت میں اسلامی سلطنت کی بنیادیں مستحکم ہوئیں اور سیدنا عمر فاروقؓ ہی کی قیادت میں فارس اور دیگر جنگی محاذوں پر بڑی بڑی فتوحات ہوئیں، قادسیہ، مدائن، جلولاء اور نہاوند فتح کرنے کے ساتھ شام اور مصر جیسے بڑے ممالک کو روم کی بازنطینی حکومت سے چھینا گیا۔

(الخلیفۃ الفاروق عمر بن خطاب: العانی: صفحہ 151)

اور جزیرۂ عرب کے پڑوس کے بیشتر شہروں میں اسلام کا بول بالا ہوا۔ سیدنا عمرؓ کی خلافت فتنوں کے سدباب کے لیے ایک مضبوط و مستحکم دیوار تھی۔ فتنوں کو زیر کرنے کے لیے آپ بذات خود ایک بند دروازہ تھے، سیدنا عمرؓ کی زندگی میں شر پسندوں کو مسلم معاشرے میں فتنہ انگیزی کی جرأت نہ تھی، جب تک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حکومت رہی فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملا۔

(الخلفاء الراشدون: خالدی: صفحہ 77 )