Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

 فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

[اعتراض]: رافضی قلم کار رقم طراز ہے:’’ اہل سنت چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عناد رکھتے ہیں ، اس لیے ان کے بجائے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ حالانکہ آپ اس لقب کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے اپنی تلوار سے کئی کافروں کو قتل کیا ۔ اور آپ کی وجہ سے دین اسلام کو ثابت قدمی نصیب ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا کہ: ’’علی رضی اللہ عنہ اللہ کی تلوار اور اس کا تیر ہیں ۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے برسر منبر فرمایا تھا:’’ میں اعدائے دین کے لیے اللہ کی تلوار ہوں ؛ اور اس کے اولیاء کے لیے اس کی رحمت ہوں ۔‘‘

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیشہ دشمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور آپ کی تکذیب کرتے رہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے شہید کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک توڑنے کی ذمہ داری بھی خالد پر عائد ہوتی ہے ۔ آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا سبب بنے۔ جب خالد رضی اللہ عنہ نے اظہار اسلام کیا تو نبی کریم رضی اللہ عنہ نے اسے بنی جَذِیمہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات وصول کرے۔ خالد نے اس راہ میں خیانت کی۔ امر ِرسول کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو قتل کرایا۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے ہوئے تھے ؛ یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔آپ دعا کررہے تھے: ’’ اے اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بعد اس قوم کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ ان کے نقصان کی تلافی کرسکیں ۔ اور آپ کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو راضی کرکے آئیں ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو’’سیف اللہ‘‘ قرار دینا صرف آپ کے ساتھ خاص نہیں ۔ بلکہ بلا ریب حضرت خالد رضی اللہ عنہ ’’سیف من سیوف اللّٰہ‘‘ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر مسلط کیا تھا۔آپ کو اس نام سے ملقب کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔[صحیح الجامع الصغیر ؛ ۳؍ ۱۰۵؛ و ذکر السیوطي أن ابن عساکر أخرجہ عن ابن عمر ؛ و الحدیث في المسند ۱؍۱۷۳ ؛ رقم ۷۳۔وفیہ: بیشک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کو مرتدین کے خلاف جنگوں میں علمبردار بنایا۔ اور فرمایا: ’’بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؛ آپ فرمارہے تھے:’’’ بیشک بہترین انسان اور بہترین قبیلہ سے تعلق رکھنے والے خالد بن ولید ہیں ؛ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے کفار اور منافقین پر مسلط کردیا ہے۔‘‘اس حدیث کو شیخ أحمد شاکر نے صحیح کہا ہے۔ دیکھو: مجمع الزوائد ۹؍۳۴۸ ؛ وذکر الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۳؍۲۴۱ ؛ برقم ۱۲۳۷ ؛ رواہ ابن عساکر ۵؍۲۷۱؛۔] سب سے پہلے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لقب سے ملقب فرمایا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید و جعفر وابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر ملی تو آب دیدہ ہو گئے، پھر فرمایا:

’’زید نے جھنڈا سنبھالا؛ اوروہ شہید ہوگئے۔ پھر ان کے بعد جعفر نے جھنڈا تھاما؛ وہ بھی شہید ہوگئے ۔ان کے بعد ابن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا وہ بھی شہید ہوگئے۔[یہ بیان کرتے ہوئے ]آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (حضرت خالد رضی اللہ عنہ ) نے جھنڈے کو تھاما تو اللہتعالیٰ نے فتح مرحمت فرمائی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام، (حدیث:۴۲۶۵)]

اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ [حضرت خالد بن ولید اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہما نے اپنی مرضی سے ہجرت کی تھی۔ آپ کے والد مکہ کے عظیم رئیس تھے۔ اور آپ وہاں فارغ البالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔آپ نے عیش و مسرت کی زندگی کو لات مار کر اقامت حق کی خاطر عازم مدینہ ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’ مکہ نے اپنے جگر پارے تمہارے یہاں پھینک دیے ہیں ۔‘‘ سیرۃ ابن ہشام (ص:۴۸۴) مستدر ک حاکم(۳؍۲۹۷۔۲۹۸)اگرحضرت خالد اپنی عظیم فتوحات کی بنا پر جنت اور تاریخ اسلام کے اوراق میں بقا ء دوام سے بہرہ ور ہیں تو اس میں شبہ نہیں کہ وہ جن احوال و ظروف میں اسلام لائے اور نبی کریم نے ان پر مدح و ستائش کے پھول نچھاور کیے ان کی بنا پر دینی و دنیوی مجدد شرافت میں وہ اس سے زیادہ خلود و دوام سے بہرہ ور ہیں ۔ ]کے علاوہ اور کوئی شخص سیف اللہ نہیں ہو سکتا، بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’سیوف اللہ‘‘ اور بھی ہیں ۔اور آپ ان جملہ تلواروں میں سے ایک ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کی نسبت زیادہ کفار کو جہنم واصل کیا۔ آپ غزوات میں ہمیشہ نیک فال رہے۔ فتح مکہ سے پہلے اور واقعہ حدیبیہ کے بعد اسلام لائے ؛ آپ ‘ عمرو بن العاص اور شیبہ بن عثمان نے بیک وقت اسلام قبول کیا اور ہجرت کی سعادت حاصل کی ۔آپ جب سے اسلام لائے اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سپہ سالار مقرر کرنا شروع کیا۔آپ نے غزوہ مؤتہ میں شرکت کی ۔جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : 

’’تمہارا امیر زید ہوگا۔اگر وہ قتل کردیے جائیں تو پھر جعفر ؛ اور اگر وہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ۔‘‘

یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے کا ہے۔ اسی وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں کا نام نہیں ملتا۔ جب یہ امراء شہید کر دیے گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بغیر امارت کے جھنڈا سنبھالا ۔تواللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح دی ۔ غزوہ مؤتہ کے موقع پر آپ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں ۔آخر میں ایک یمانی تلوار آپ کے ہاتھ میں باقی رہی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب عزوۃ موتۃ فی ارض الشام،(حدیث:۴۲۶۵)۔ ]

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر امیر مقرر فرمایا؛ اور آپ کو عزٰی نامی بت گرانے کے لیے مہم پر روانہ فرمایا ۔ اورپھر آپ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مہمات آپ کو تفویض کیں ۔اور کبھی کبھار آپ سے کوئی ایسا کام ہو جاتا جس کا انکار کیا جاتا۔جیسا کہ بنی جذیمہ کے موقع پر آپ سے ہوگیا۔ یہ حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی جذیمہ کے ساتھ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اظہار براء ت کیا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی ، باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خالد بن الولید....(حدیث:۴۳۳۹)] البتہ انھیں معزول نہیں کیا۔بلکہ آپ اپنی امارت پر برقرار رہے ۔بنی جذیمہ کے موقع پر آپ کے اور جناب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مابین اختلاف ہوگیا تھا۔یہاں تک کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ میرے اصحاب کو برا نہ کہو ۔مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد(سیر بھر وزن) یا آدھے کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ [صحیح بخاری:جلد دوم:ح ۸۸۷]

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ میں امیر لشکر مقرر فرمایا۔ آپ نے شام اور عراق کے علاقے فتح کیے۔ دشمن کے خلاف جنگوں میں آپ کا کردار بہت اہم رہا ہے ؛ جس کا کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ۔ بلاشبہ آپ دشمن کے خلاف اللہ کی تلواروں میں سے ایک برہنہ تلوار تھے؛ جسے اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر مسلط کردیا تھا۔

[اعتراض]:رافضی قلمکار کہتا ہے : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لقب کے سب سے زیادہ حق دار تھے ۔‘‘ 

[جواب]: پہلی بات: ....یہ بھی درست ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ’’سیوف اللّٰہ‘‘ میں سے ایک سیف تھے، اس میں تنازع کی گنجائش ہی کیا ہے ؟صحیح بخاری کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی تلواریں کئی ایک ہیں ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں سے بڑے معزز اورعظیم مرتبت والے ہیں ۔ مسلمانوں میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہو۔ اور کسی نے یہ وصف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کیساتھ ہی مختص نہیں کیا۔آپ کے لیے یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’’ بیشک خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ۔‘‘ 

دوسری بات:....حضرت علی رضی اللہ عنہ علم و فضل، فصاحت و بلاغت اور سبقت اسلام کی بنا پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ کی منزلت اس چیز سے بہت بلند ہے کہ آپ کا مقابلہ کسی تلوار سے کیا جائے۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جہاد و قتال کے سواعلم و بیان ‘ دین و ایمان اور سبقت اسلام اوردیگر بھی بہت سے فضائل ایسے تھے جن کی وجہ سے آپ کی شان اس امر سے بہت بلند ہوجاتی ہے کہ آپکی صفت صرف اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہونا قراردیا جائے؛ تلوار کا کام صرف لڑنا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جملہ فضائل و اوصاف میں سے ایک وصف قتال بھی تھا۔ جبکہ حضرت خالد کا خصوصی اور امتیازی وصف قتال تھا۔آپکو نہ ہی سبقت ِ اسلام کی فضیلت حاصل ہے‘ نہ ہی کثرت علم اور بہت بڑا عابد و زاہد ہونے کی۔ ہاں آپ جنگ وقتال میں باقی لوگوں پرفائق تھے؛ یہی ان کی وجہ فوقیت ہے اور اسی بنا پر آپ کو سیف اللہ کا لقب ملا۔

[شبہ ]: رافضی کا قول ہے : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے کئی کفار کو قتل کیا ۔‘‘

[جواب] : اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے کچھ کفار کو قتل کیا ہے۔جیسا کہ دیگر مشہور جنگجو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قتال کیا ؛ جیسے حضرت عمر‘ حضرت زبیر ؛ حضرت حمزہ ؛ حضرت مقداد ؛ حضرت ابو طلحہ ؛ اورحضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام ۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی تلوار سے کفار کی ایک جماعت کو قتل نہ کیا ہو۔ براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کو لیجیے۔ انھوں نے میدان مبارزت میں سو آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ یہ تعداد ان لوگوں کے علاوہ ہے جن کے قتل میں شریک ہوئے۔[مصنف عبد الرزاق،۹۴۶۹) ،طبرانی(۱۱۷۸،۱۱۷۹)، مستدرک حاکم(۳؍۲۹۱) ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوطلحہ کی آواز لشکر میں ایک جماعت سے بہتر ہے۔‘‘[مسند احمد(۳؍۲۰۲)، طبقات ابن سعد(۳؍۵۰۵)، مستدرک حاکم (۳؍۳۵۲، ۳۵۳) ]

نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ہر ایک نبی کاایک حواری ہوتا ہے ‘ اور میرا حواری زبیر ہے۔ ‘‘[البخاری ۲؍۴؍۲۷۔مسلم ۴؍۱۸۷۹۔ ]یہ دونوں احادیث صحیح ہیں ۔ 

مغازی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے احد کے دن ؛جبکہ آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تلوار کے بارے میں فرمایا تھا : ’’اسے بغیر مذمت کے دھو ڈالو ۔‘‘ فرمایا: ’’ اگر تم نے اچھا کیا ہے تو فلاں اور فلاں نے بھی تواچھا کیا ہے۔ ‘‘[مختصر سیرۃ لابن ہشام ۳؍۱۰۶۔]

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا]:

’’ بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے نام پر قسم اٹھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کرتا ہے ‘ ان میں سے براء بن مالک بھی ہے۔ ‘‘[رواہ البخاری ۳؍۱۸۶۔ ومسلم ۳؍۱۳۰۲۔ ]

غزوات میں لوگ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے گزارش کیا کرتے تھے : اے براء! اپنے رب کی قسم اٹھائیے ‘ تو آپ کفار کے خلاف فتح کے لیے اپنے رب کی قسم اٹھاتے ؛ اوراللہ تعالیٰ فتح و کامرانی سے نوازتے ۔ پھر جب آپ نے آخری غزوہ میں شرکت کی تو یوں دعا کی : ’’ اے اللہ! تیرے نام کی قسم اٹھا کر تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ جب تو کفار کی گردنوں کو ہمارے قبضہ میں دے دے تو سب سے پہلے مجھے شہادت نصیب فرما ۔‘‘ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلعت شہادت سے سرفراز فرمایا۔

دعا سے بھی جنگ ایسے ہی لڑی جاتی ہے جیسے ہاتھ سے لڑی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’کیا تم رزق دیے جاتے ہو ‘ اور مدد کیے جاتے ہو ‘ مگر تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ؛ ان کی دعاؤں ان کی التجاؤں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے ۔‘‘[البخارِیِ:۴؍۳۶ ؛ کتاب الجِہادِ، باب منِ استعان بِالضعفائِ والصالِحِین فِی الحرب۔ سننِ النسائِیِ:۶؍۳۷، کتاب الجِہادِ،باب الِاستِنصارِ بِالضعِیف المسندِ ط۔المعارِف:۳؍۵۱، وقال: الشیخ احمد شاِکر رحمہ اللہ فِی تعلِیقِہِ: إسنادہ ضعِیف لِانقِطاعِہِ ۔وقال ابن حجر فِی فتحِ البارِی:۶؍۸۸۔]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقراء مہاجرین سے فتح کے لیے دعاء کروایا کرتے تھے۔ اس سب کے باوجودجناب سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ جیسے کتنے ہی لوگوں سے افضل ہیں ۔تو پھر خالدبن ولید رضی اللہ عنہ سے افضل کیوں نہ ہوں گے؟[ذکر الزمخشرِی فِی ِکتابِہِ ’’ الفائِقِ فِی غرِیبِ الحدِیثِ:۲؍۲۴۶ ؛ ط۔عِیسی الحلبِیِ: ۱۹۴۷، ۱۳۶۶؛ النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یستفتِح بِصعالِیکِ المہاجِرِین،أی یفتتِح القِتال تیمناً بِہِم وقِیل: یستنصِر بِہِم ؛ وذکر ابن الأثِیرِ کلاما مقارِبا فِی ’’ النِہایۃِ ‘‘۔]

[شبہ] : رافضی کا کہنا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی تلوار اور اللہ کا تیر ہیں ۔‘‘ 

[جواب] : یہ روایت حدیث کی معروف کتابوں میں کہیں بھی موجود نہیں ۔اورنہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے۔ اس کا معنی بھی باطل ہے ۔ اس لیے کہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی اللہ تعالیٰ کا تیر اور اس کی تلوار نہیں ہیں ۔مصنف کی اس عبارت سے یہ جملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے محصور اور خاص لگتا ہے۔ 

جو صحیح روایت ہے وہ کچھ اس طرح ہے : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین کے موقع پر یوں ارشادفرمایاتھا:

’’ اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں ؛ اب ہم ایسے آدمی کے پاس جائیں گے ‘جو اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہے ‘وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے گا؛ اور ہم اسے مقتول کا مال دیں گے ۔‘‘

مزید برآں ہم کہتے ہیں کہ : اگر اس جملہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اکیلے ہی اللہ کی تلوار اور اس کا تیر ہیں ؛ تو پھر یہ دعوی باطل ہے۔ اور اگر اس سے مقصودیہ ہے کہ آپ بھی اللہ کی تلواروں میں ایک تلوار اور تیروں میں سے ایک تیر ہیں ‘ تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان اس سے کئی درجہ بڑھ کر ہے ؛یہ تو آپ کے جملہ اوصاف میں سے ایک وصف ہے ۔

[شبہ]: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے برسر منبر فرمایا تھا:

’’ میں اعدائے دین کے لیے اللہ کی تلوار ہوں ؛ اور اس کے اولیاء کے لیے اس کی رحمت ہوں ۔‘‘

[جواب]:یہ ایسی روایت ہے جس کی نہ ہی کوئی سند پائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی صحت کا کوئی اعتبار ہے ۔ لیکن اگر آپ نے ایسا فرمایا بھی ہو تو اس کا معنی بالکل صحیح ہے ۔ اور یہ قدر آپ کے اور دوسرے صحابہ کرام کے درمیان مشترک ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ﴾ [الفتح ۲۹]

’’ وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں بہت مہربان ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے : ﴿ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ﴾ [المائدۃ ۵۳]

’’ وہ مؤمنین پر بڑے نرم اور کافروں کے لیے بڑے سخت ہیں ۔‘‘

مہاجرین و مجاہدین میں سے ہر ایک دشمن پر اللہ کی تلواروں میں سے تلواراور اللہ کے اولیاء کے لیے بڑے نرم و بردبار تھے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ میں اکیلا اللہ کی تلوار ہوں ‘ اور میں اکیلا اولیاء اللہ کے لیے رحمت ہوں ۔ یہ ایسا جھوٹ ہے جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منزہ ماننا واجب ہے ۔

ہاں اگر اس قول سے یہ مقصود ہو کہ دوسروں کی نسبت کامل تھے ؛ اور اس میں حصر کمال کے لیے ہو توپھر ایسا کہنا صحیح ہے؛ اس لیے کہ آپ اپنے زمانے میں دوسروں سے بڑھ کر کامل تھے۔ ورنہ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غیض و غضب کفار کے لیے دوسروں سے بڑھ کر تھا۔ اور آپ سے مسلمانوں کو فائدہ بھی زیادہ پہنچا۔ یہ بات ہر وہ انسان جانتا ہے جو ان دونوں خلفائے کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت سے واقف ہو۔ اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں تمام مسلمانوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں وہ رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوئیں جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل نہ ہوسکیں اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مشرکین ‘ اہل کتاب اور منافقین پر جو غلبہ و رعب حاصل تھا ‘ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نہ ہوسکا۔یہ بات خاص و عام سبھی لوگ جانتے ہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں مؤمنین کو وہ رحمت اور برکت نہ مل سکی جو اس سے پہلے حضرت ابو بکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں ملی تھی۔بلکہ آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے رہے۔کفار پر ان کا کوئی غلبہ اوردسترس باقی نہ رہی۔ بلکہ کفار ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے طمع کرنے لگے۔ اور کئی شہر اورعلاقے مسلمانوں سے چھین لیے گئے۔تو پھر کوئی یہ کیسے گمان کرسکتا ہے کہ [کفار کیساتھ جنگ و قتال کے]اس وصفمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ جناب حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما سے بڑھ کراورفائق تھے۔

پھر یہ کہ رافضیوں کے قول میں انتہائی سخت تضاد بیانی پائی جاتی ہے ۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والے اورآپ کے ناصر ہیں ؛ اگر آپ نہ ہوتے تو یہ دین قائم نہ ہوتا۔پھر دوسری طرف آپ کو انتہائی عاجزی ولاچاری اور پستی سے موصوف کرتے ہیں ۔

[اعتراض] : رافضی کہتا ہے : ’’ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن رہے اور آپ کوجھٹلاتے رہے ۔‘‘

[جواب ]: یہ اسلام لانے سے پہلے تھا۔ جیسے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنی ہاشم اور غیرِ بنی ہاشم اسلام لانے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتے تھے اور آپ کو جھٹلاتے تھے؛ جیسے ابو سفیان ‘ ربیعہ ؛ حمزہ ؛ اور عقیل وغیرہ ۔

[حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی اجتہادی غلطی پر اعتراض]:

[ اعتراض]: نبی کریم رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدکو بنی جَذِیمہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات وصول کریں ۔ خالد نے اس راہ میں خیانت کی؛اور امر رسول کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو قتل کرایا۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے ‘ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی‘آپ دعا کررہے تھے: ’’یا اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ ان کے نقصان کی تلافی کریں ‘ اور ان کو راضی کر دیں ۔‘‘ [جواب]:اس عبارت کے نقل کرنے میں جہالت اور تحریف کا عنصر موجود ہے جو کہ کسی بھی سیرت کے عالم پر مخفی نہیں ۔ فتح مکہ کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنی جذیمہ سے لڑنے کے لیے مامور فرمایا ۔ انھوں نے اَسْلَمْنَا (ہم اسلام لائے) کی بجائے صَبَانَا(ہم صابی ہو گئے) کہنا شروع کیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام پرمحمول نہ کیا اور ان کو قتل کردیا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خالد بن الولید....(ح:۴۳۳۹)۔ ] یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔بڑے بڑے صحابہ کرام جیسے سالم مولی ابی حذیفہ ‘عبداللہ بن عمر اور دیگر نے اس فعل پر انکار کیا تھا‘ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے ؛اوریہ دعا فرمائی : ’’ اے اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘اس لیے کہ آپ کو خوف محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ آپ سے یہ پوچھ لے کہ ان لوگوں پر زیادتی کیوں کی؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿فَاِِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِِنِّی بَرِیئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴾ [الشعراء ۲۱۶]

’’پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو فرما دیں کہ بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔‘‘

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا اور انھوں نے نصف دیت ادا کردی۔ جو مالی نقصان ہوا تھا اس کی تلافی کی۔ یہاں تک کہ کتا جس برتن سے پانی پیتا ہے اس کی قیمت بھی ادا کی[سیرۃ ابن ہشام(ص:۵۵۸)۔] اور پھر ان کا باقی مال بھی انہیں واپس کردیاتاکہ ان کا کچھ مال باقی نہ رہ جائے۔ مگر اس کے باوجود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امارت سے معزول نہیں کیا۔ بلکہ آپ کو برابر امیر مقرر کیا جاتا رہا اور لشکروں کی قیادت آپ کے سپرد کی جاتی رہی۔ اس لیے کہ جس امیر سے کوئی غلطی یا گناہ ہوجائے تو اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جاتا ؛ اور اسے اس کی ولایت پر باقی رکھا جاتا۔

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی نہیں کی تھی، بلکہ وہ آپ کے حد درجہ اطاعت کیش تھے۔ البتہ آپ فقہ فی الدین میں دوسرے صحابہ کی منزلت پر نہ تھے؛اس معاملہ کا حکم آپ پر مخفی تھا۔اس وجہ سے اس موقع پر ان سے اجتہادی غلطی صادر ہوئی۔

٭ کسی نے یہ بھی کہا ہیکہ: حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ اور بنو جذیمہ کے مابین عہد جاہلیت کی رنجش تھی؛ جس کی وجہ سے انہوں نے ان کو قتل کیا ؛ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا ایلچی بناکر بھیجا۔

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بنو جذیمہ روانگی :]

شیعہ کا قول کہ : ’’پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ ان لوگوں کو راضی کردیں ۔‘‘

جواب :یہ کلام جہالت پر مبنی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کریں ‘ اور ان کے نقصان کی تلافی کریں ۔ معاملہ صرف راضی کرنے کا ہی نہیں تھا۔ 

شیعہ کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ قول کہ : ’’انہوں نے خیانت کی ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی اورمسلمانوں کو قتل کیا ۔‘‘

[جواب ]: یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہے۔ اس لیے کہ آپ نے عمداً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ خیانت نہیں کی اور نہ ہی آپ کی مخالفت کا ارادہ کیا ۔اور نہ ہی ان مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو آپ کے نزدیک معصوم تھے۔ لیکن آپ سے یہ غلطی ہوئی۔ جس طرح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں غلطی کی تھی جس نے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہا اور اس کے باوجود حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا[صحیح بخاری، کتاب المغازی۔ باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسامۃ بن زید....‘‘(ح: ۴۲۶۹)، صحیح مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الہ الا اللّٰہ ،(ح:۶۸)۔] اور جس طرح اس لشکر سے غلطی سرزد ہوئی تھی جس نے بکریوں والے اس شخص کو قتل کردیا تھا جس نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا۔ یہ آیت کریمہ اسی موقع پر نازل ہوئی:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ للّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴾(نساء:۹۳) [صحیح بخاری۔ کتاب التفسیر، سورۃ النساء ، باب﴿ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمْ﴾ (ح۴۵۹۱) ، صحیح مسلم کتاب التفسیر، باب تفسیر آیات متفرقۃ، (ح: ۳۰۲۵)۔]

’’اے ایمان والو!جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں ؛ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں ؛ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا؛ لہٰذا تم ضرور تحقیق اور تفتیش کر لیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قبیلہ حرقات کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ میں سے ہے۔ ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی۔ میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لا اِلٰہ اِلا اللّٰہ۔انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا؛ لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :

’’ اے اسامہ!کیا لا اِلہ اِلا اللّٰہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔‘‘ [صحیح مسلم:جلد: ۱، ح۲۷۸]