فصل:....سیف اللہ کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

 فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

[اعتراض]: رافضی قلم کار رقم طراز ہے:’’ اہل سنت چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عناد رکھتے ہیں ، اس لیے ان کے بجائے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ حالانکہ آپ اس لقب کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے اپنی تلوار سے کئی کافروں کو قتل کیا ۔ اور آپ کی وجہ سے دین اسلام کو ثابت قدمی نصیب ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا کہ: ’’علی رضی اللہ عنہ اللہ کی تلوار اور اس کا تیر ہیں ۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے برسر منبر فرمایا تھا:’’ میں اعدائے دین کے لیے اللہ کی تلوار ہوں ؛ اور اس کے اولیاء کے لیے اس کی رحمت ہوں ۔‘‘

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیشہ دشمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور آپ کی تکذیب کرتے رہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے شہید کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک توڑنے کی ذمہ داری بھی خالد پر عائد ہوتی ہے ۔ آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا سبب بنے۔ جب خالد رضی اللہ عنہ نے اظہار اسلام کیا تو نبی کریم رضی اللہ عنہ نے اسے بنی جَذِیمہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات وصول کرے۔ خالد نے اس راہ میں خیانت کی۔ امر ِرسول کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو قتل کرایا۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے ہوئے تھے ؛ یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔آپ دعا کررہے تھے: ’’ اے اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بعد اس قوم کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ ان کے نقصان کی تلافی کرسکیں ۔ اور آپ کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو راضی کرکے آئیں ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو’’سیف اللہ‘‘ قرار دینا صرف آپ کے ساتھ خاص نہیں ۔ بلکہ بلا ریب حضرت خالد رضی اللہ عنہ ’’سیف من سیوف اللّٰہ‘‘ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر مسلط کیا تھا۔آپ کو اس نام سے ملقب کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔[صحیح الجامع الصغیر ؛ ۳؍ ۱۰۵؛ و ذکر السیوطي أن ابن عساکر أخرجہ عن ابن عمر ؛ و الحدیث في المسند ۱؍۱۷۳ ؛ رقم ۷۳۔وفیہ: بیشک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کو مرتدین کے خلاف جنگوں میں علمبردار بنایا۔ اور فرمایا: ’’بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؛ آپ فرمارہے تھے:’’’ بیشک بہترین انسان اور بہترین قبیلہ سے تعلق رکھنے والے خالد بن ولید ہیں ؛ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے کفار اور منافقین پر مسلط کردیا ہے۔‘‘اس حدیث کو شیخ أحمد شاکر نے صحیح کہا ہے۔ دیکھو: مجمع الزوائد ۹؍۳۴۸ ؛ وذکر الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۳؍۲۴۱ ؛ برقم ۱۲۳۷ ؛ رواہ ابن عساکر ۵؍۲۷۱؛۔] سب سے پہلے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لقب سے ملقب فرمایا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید و جعفر وابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر ملی تو آب دیدہ ہو گئے، پھر فرمایا:

’’زید نے جھنڈا سنبھالا؛ اوروہ شہید ہوگئے۔ پھر ان کے بعد جعفر نے جھنڈا تھاما؛ وہ بھی شہید ہوگئے ۔ان کے بعد ابن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا وہ بھی شہید ہوگئے۔[یہ بیان کرتے ہوئے ]آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (حضرت خالد رضی اللہ عنہ ) نے جھنڈے کو تھاما تو اللہتعالیٰ نے فتح مرحمت فرمائی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام، (حدیث:۴۲۶۵)]

اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ [حضرت خالد بن ولید اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہما نے اپنی مرضی سے ہجرت کی تھی۔ آپ کے والد مکہ کے عظیم رئیس تھے۔ اور آپ وہاں فارغ البالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔آپ نے عیش و مسرت کی زندگی کو لات مار کر اقامت حق کی خاطر عازم مدینہ ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’ مکہ نے اپنے جگر پارے تمہارے یہاں پھینک دیے ہیں ۔‘‘ سیرۃ ابن ہشام (ص:۴۸۴) مستدر ک حاکم(۳؍۲۹۷۔۲۹۸)اگرحضرت خالد اپنی عظیم فتوحات کی بنا پر جنت اور تاریخ اسلام کے اوراق میں بقا ء دوام سے بہرہ ور ہیں تو اس میں شبہ نہیں کہ وہ جن احوال و ظروف میں اسلام لائے اور نبی کریم نے ان پر مدح و ستائش کے پھول نچھاور کیے ان کی بنا پر دینی و دنیوی مجدد شرافت میں وہ اس سے زیادہ خلود و دوام سے بہرہ ور ہیں ۔ ]کے علاوہ اور کوئی شخص سیف اللہ نہیں ہو سکتا، بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’سیوف اللہ‘‘ اور بھی ہیں ۔اور آپ ان جملہ تلواروں میں سے ایک ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کی نسبت زیادہ کفار کو جہنم واصل کیا۔ آپ غزوات میں ہمیشہ نیک فال رہے۔ فتح مکہ سے پہلے اور واقعہ حدیبیہ کے بعد اسلام لائے ؛ آپ ‘ عمرو بن العاص اور شیبہ بن عثمان نے بیک وقت اسلام قبول کیا اور ہجرت کی سعادت حاصل کی ۔آپ جب سے اسلام لائے اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سپہ سالار مقرر کرنا شروع کیا۔آپ نے غزوہ مؤتہ میں شرکت کی ۔جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : 

’’تمہارا امیر زید ہوگا۔اگر وہ قتل کردیے جائیں تو پھر جعفر ؛ اور اگر وہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ۔‘‘

یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے کا ہے۔ اسی وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں کا نام نہیں ملتا۔ جب یہ امراء شہید کر دیے گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بغیر امارت کے جھنڈا سنبھالا ۔تواللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح دی ۔ غزوہ مؤتہ کے موقع پر آپ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں ۔آخر میں ایک یمانی تلوار آپ کے ہاتھ میں باقی رہی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب عزوۃ موتۃ فی ارض الشام،(حدیث:۴۲۶۵)۔ ]

صفحہ 1 از 5