فصل:....سیف اللہ کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر امیر مقرر فرمایا؛ اور آپ کو عزٰی نامی بت گرانے کے لیے مہم پر روانہ فرمایا ۔ اورپھر آپ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مہمات آپ کو تفویض کیں ۔اور کبھی کبھار آپ سے کوئی ایسا کام ہو جاتا جس کا انکار کیا جاتا۔جیسا کہ بنی جذیمہ کے موقع پر آپ سے ہوگیا۔ یہ حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی جذیمہ کے ساتھ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اظہار براء ت کیا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی ، باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خالد بن الولید....(حدیث:۴۳۳۹)] البتہ انھیں معزول نہیں کیا۔بلکہ آپ اپنی امارت پر برقرار رہے ۔بنی جذیمہ کے موقع پر آپ کے اور جناب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مابین اختلاف ہوگیا تھا۔یہاں تک کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ میرے اصحاب کو برا نہ کہو ۔مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد(سیر بھر وزن) یا آدھے کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ [صحیح بخاری:جلد دوم:ح ۸۸۷]

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ میں امیر لشکر مقرر فرمایا۔ آپ نے شام اور عراق کے علاقے فتح کیے۔ دشمن کے خلاف جنگوں میں آپ کا کردار بہت اہم رہا ہے ؛ جس کا کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ۔ بلاشبہ آپ دشمن کے خلاف اللہ کی تلواروں میں سے ایک برہنہ تلوار تھے؛ جسے اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر مسلط کردیا تھا۔

[اعتراض]:رافضی قلمکار کہتا ہے : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لقب کے سب سے زیادہ حق دار تھے ۔‘‘ 

[جواب]: پہلی بات: ....یہ بھی درست ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ’’سیوف اللّٰہ‘‘ میں سے ایک سیف تھے، اس میں تنازع کی گنجائش ہی کیا ہے ؟صحیح بخاری کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی تلواریں کئی ایک ہیں ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں سے بڑے معزز اورعظیم مرتبت والے ہیں ۔ مسلمانوں میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہو۔ اور کسی نے یہ وصف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کیساتھ ہی مختص نہیں کیا۔آپ کے لیے یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’’ بیشک خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ۔‘‘ 

دوسری بات:....حضرت علی رضی اللہ عنہ علم و فضل، فصاحت و بلاغت اور سبقت اسلام کی بنا پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ کی منزلت اس چیز سے بہت بلند ہے کہ آپ کا مقابلہ کسی تلوار سے کیا جائے۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جہاد و قتال کے سواعلم و بیان ‘ دین و ایمان اور سبقت اسلام اوردیگر بھی بہت سے فضائل ایسے تھے جن کی وجہ سے آپ کی شان اس امر سے بہت بلند ہوجاتی ہے کہ آپکی صفت صرف اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہونا قراردیا جائے؛ تلوار کا کام صرف لڑنا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جملہ فضائل و اوصاف میں سے ایک وصف قتال بھی تھا۔ جبکہ حضرت خالد کا خصوصی اور امتیازی وصف قتال تھا۔آپکو نہ ہی سبقت ِ اسلام کی فضیلت حاصل ہے‘ نہ ہی کثرت علم اور بہت بڑا عابد و زاہد ہونے کی۔ ہاں آپ جنگ وقتال میں باقی لوگوں پرفائق تھے؛ یہی ان کی وجہ فوقیت ہے اور اسی بنا پر آپ کو سیف اللہ کا لقب ملا۔

[شبہ ]: رافضی کا قول ہے : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے کئی کفار کو قتل کیا ۔‘‘

[جواب] : اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے کچھ کفار کو قتل کیا ہے۔جیسا کہ دیگر مشہور جنگجو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قتال کیا ؛ جیسے حضرت عمر‘ حضرت زبیر ؛ حضرت حمزہ ؛ حضرت مقداد ؛ حضرت ابو طلحہ ؛ اورحضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام ۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی تلوار سے کفار کی ایک جماعت کو قتل نہ کیا ہو۔ براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کو لیجیے۔ انھوں نے میدان مبارزت میں سو آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ یہ تعداد ان لوگوں کے علاوہ ہے جن کے قتل میں شریک ہوئے۔[مصنف عبد الرزاق،۹۴۶۹) ،طبرانی(۱۱۷۸،۱۱۷۹)، مستدرک حاکم(۳؍۲۹۱) ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوطلحہ کی آواز لشکر میں ایک جماعت سے بہتر ہے۔‘‘[مسند احمد(۳؍۲۰۲)، طبقات ابن سعد(۳؍۵۰۵)، مستدرک حاکم (۳؍۳۵۲، ۳۵۳) ]

نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ہر ایک نبی کاایک حواری ہوتا ہے ‘ اور میرا حواری زبیر ہے۔ ‘‘[البخاری ۲؍۴؍۲۷۔مسلم ۴؍۱۸۷۹۔ ]یہ دونوں احادیث صحیح ہیں ۔ 

مغازی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے احد کے دن ؛جبکہ آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تلوار کے بارے میں فرمایا تھا : ’’اسے بغیر مذمت کے دھو ڈالو ۔‘‘ فرمایا: ’’ اگر تم نے اچھا کیا ہے تو فلاں اور فلاں نے بھی تواچھا کیا ہے۔ ‘‘[مختصر سیرۃ لابن ہشام ۳؍۱۰۶۔]

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا]:

’’ بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے نام پر قسم اٹھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کرتا ہے ‘ ان میں سے براء بن مالک بھی ہے۔ ‘‘[رواہ البخاری ۳؍۱۸۶۔ ومسلم ۳؍۱۳۰۲۔ ]

غزوات میں لوگ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے گزارش کیا کرتے تھے : اے براء! اپنے رب کی قسم اٹھائیے ‘ تو آپ کفار کے خلاف فتح کے لیے اپنے رب کی قسم اٹھاتے ؛ اوراللہ تعالیٰ فتح و کامرانی سے نوازتے ۔ پھر جب آپ نے آخری غزوہ میں شرکت کی تو یوں دعا کی : ’’ اے اللہ! تیرے نام کی قسم اٹھا کر تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ جب تو کفار کی گردنوں کو ہمارے قبضہ میں دے دے تو سب سے پہلے مجھے شہادت نصیب فرما ۔‘‘ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلعت شہادت سے سرفراز فرمایا۔

دعا سے بھی جنگ ایسے ہی لڑی جاتی ہے جیسے ہاتھ سے لڑی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صفحہ 2 از 5