فصل:....سیف اللہ کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

’’کیا تم رزق دیے جاتے ہو ‘ اور مدد کیے جاتے ہو ‘ مگر تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ؛ ان کی دعاؤں ان کی التجاؤں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے ۔‘‘[البخارِیِ:۴؍۳۶ ؛ کتاب الجِہادِ، باب منِ استعان بِالضعفائِ والصالِحِین فِی الحرب۔ سننِ النسائِیِ:۶؍۳۷، کتاب الجِہادِ،باب الِاستِنصارِ بِالضعِیف المسندِ ط۔المعارِف:۳؍۵۱، وقال: الشیخ احمد شاِکر رحمہ اللہ فِی تعلِیقِہِ: إسنادہ ضعِیف لِانقِطاعِہِ ۔وقال ابن حجر فِی فتحِ البارِی:۶؍۸۸۔]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقراء مہاجرین سے فتح کے لیے دعاء کروایا کرتے تھے۔ اس سب کے باوجودجناب سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ جیسے کتنے ہی لوگوں سے افضل ہیں ۔تو پھر خالدبن ولید رضی اللہ عنہ سے افضل کیوں نہ ہوں گے؟[ذکر الزمخشرِی فِی ِکتابِہِ ’’ الفائِقِ فِی غرِیبِ الحدِیثِ:۲؍۲۴۶ ؛ ط۔عِیسی الحلبِیِ: ۱۹۴۷، ۱۳۶۶؛ النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یستفتِح بِصعالِیکِ المہاجِرِین،أی یفتتِح القِتال تیمناً بِہِم وقِیل: یستنصِر بِہِم ؛ وذکر ابن الأثِیرِ کلاما مقارِبا فِی ’’ النِہایۃِ ‘‘۔]

[شبہ] : رافضی کا کہنا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی تلوار اور اللہ کا تیر ہیں ۔‘‘ 

[جواب] : یہ روایت حدیث کی معروف کتابوں میں کہیں بھی موجود نہیں ۔اورنہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے۔ اس کا معنی بھی باطل ہے ۔ اس لیے کہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی اللہ تعالیٰ کا تیر اور اس کی تلوار نہیں ہیں ۔مصنف کی اس عبارت سے یہ جملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے محصور اور خاص لگتا ہے۔ 

جو صحیح روایت ہے وہ کچھ اس طرح ہے : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین کے موقع پر یوں ارشادفرمایاتھا:

’’ اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں ؛ اب ہم ایسے آدمی کے پاس جائیں گے ‘جو اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہے ‘وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے گا؛ اور ہم اسے مقتول کا مال دیں گے ۔‘‘

مزید برآں ہم کہتے ہیں کہ : اگر اس جملہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اکیلے ہی اللہ کی تلوار اور اس کا تیر ہیں ؛ تو پھر یہ دعوی باطل ہے۔ اور اگر اس سے مقصودیہ ہے کہ آپ بھی اللہ کی تلواروں میں ایک تلوار اور تیروں میں سے ایک تیر ہیں ‘ تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان اس سے کئی درجہ بڑھ کر ہے ؛یہ تو آپ کے جملہ اوصاف میں سے ایک وصف ہے ۔

[شبہ]: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے برسر منبر فرمایا تھا:

’’ میں اعدائے دین کے لیے اللہ کی تلوار ہوں ؛ اور اس کے اولیاء کے لیے اس کی رحمت ہوں ۔‘‘

[جواب]:یہ ایسی روایت ہے جس کی نہ ہی کوئی سند پائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی صحت کا کوئی اعتبار ہے ۔ لیکن اگر آپ نے ایسا فرمایا بھی ہو تو اس کا معنی بالکل صحیح ہے ۔ اور یہ قدر آپ کے اور دوسرے صحابہ کرام کے درمیان مشترک ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ﴾ [الفتح ۲۹]

’’ وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں بہت مہربان ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے : ﴿ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ﴾ [المائدۃ ۵۳]

’’ وہ مؤمنین پر بڑے نرم اور کافروں کے لیے بڑے سخت ہیں ۔‘‘

مہاجرین و مجاہدین میں سے ہر ایک دشمن پر اللہ کی تلواروں میں سے تلواراور اللہ کے اولیاء کے لیے بڑے نرم و بردبار تھے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ میں اکیلا اللہ کی تلوار ہوں ‘ اور میں اکیلا اولیاء اللہ کے لیے رحمت ہوں ۔ یہ ایسا جھوٹ ہے جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منزہ ماننا واجب ہے ۔

ہاں اگر اس قول سے یہ مقصود ہو کہ دوسروں کی نسبت کامل تھے ؛ اور اس میں حصر کمال کے لیے ہو توپھر ایسا کہنا صحیح ہے؛ اس لیے کہ آپ اپنے زمانے میں دوسروں سے بڑھ کر کامل تھے۔ ورنہ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غیض و غضب کفار کے لیے دوسروں سے بڑھ کر تھا۔ اور آپ سے مسلمانوں کو فائدہ بھی زیادہ پہنچا۔ یہ بات ہر وہ انسان جانتا ہے جو ان دونوں خلفائے کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت سے واقف ہو۔ اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں تمام مسلمانوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں وہ رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوئیں جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل نہ ہوسکیں اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مشرکین ‘ اہل کتاب اور منافقین پر جو غلبہ و رعب حاصل تھا ‘ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نہ ہوسکا۔یہ بات خاص و عام سبھی لوگ جانتے ہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں مؤمنین کو وہ رحمت اور برکت نہ مل سکی جو اس سے پہلے حضرت ابو بکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں ملی تھی۔بلکہ آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے رہے۔کفار پر ان کا کوئی غلبہ اوردسترس باقی نہ رہی۔ بلکہ کفار ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے طمع کرنے لگے۔ اور کئی شہر اورعلاقے مسلمانوں سے چھین لیے گئے۔تو پھر کوئی یہ کیسے گمان کرسکتا ہے کہ [کفار کیساتھ جنگ و قتال کے]اس وصفمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ جناب حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما سے بڑھ کراورفائق تھے۔

پھر یہ کہ رافضیوں کے قول میں انتہائی سخت تضاد بیانی پائی جاتی ہے ۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والے اورآپ کے ناصر ہیں ؛ اگر آپ نہ ہوتے تو یہ دین قائم نہ ہوتا۔پھر دوسری طرف آپ کو انتہائی عاجزی ولاچاری اور پستی سے موصوف کرتے ہیں ۔

[اعتراض] : رافضی کہتا ہے : ’’ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن رہے اور آپ کوجھٹلاتے رہے ۔‘‘

[جواب ]: یہ اسلام لانے سے پہلے تھا۔ جیسے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنی ہاشم اور غیرِ بنی ہاشم اسلام لانے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتے تھے اور آپ کو جھٹلاتے تھے؛ جیسے ابو سفیان ‘ ربیعہ ؛ حمزہ ؛ اور عقیل وغیرہ ۔

[حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی اجتہادی غلطی پر اعتراض]:

صفحہ 3 از 5