فصل:....سیف اللہ کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

[ اعتراض]: نبی کریم رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدکو بنی جَذِیمہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات وصول کریں ۔ خالد نے اس راہ میں خیانت کی؛اور امر رسول کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو قتل کرایا۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے ‘ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی‘آپ دعا کررہے تھے: ’’یا اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ ان کے نقصان کی تلافی کریں ‘ اور ان کو راضی کر دیں ۔‘‘ [جواب]:اس عبارت کے نقل کرنے میں جہالت اور تحریف کا عنصر موجود ہے جو کہ کسی بھی سیرت کے عالم پر مخفی نہیں ۔ فتح مکہ کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنی جذیمہ سے لڑنے کے لیے مامور فرمایا ۔ انھوں نے اَسْلَمْنَا (ہم اسلام لائے) کی بجائے صَبَانَا(ہم صابی ہو گئے) کہنا شروع کیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام پرمحمول نہ کیا اور ان کو قتل کردیا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خالد بن الولید....(ح:۴۳۳۹)۔ ] یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔بڑے بڑے صحابہ کرام جیسے سالم مولی ابی حذیفہ ‘عبداللہ بن عمر اور دیگر نے اس فعل پر انکار کیا تھا‘ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے ؛اوریہ دعا فرمائی : ’’ اے اللہ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے براء ت کااظہار کرتا ہوں ۔‘‘اس لیے کہ آپ کو خوف محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ آپ سے یہ پوچھ لے کہ ان لوگوں پر زیادتی کیوں کی؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿فَاِِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِِنِّی بَرِیئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴾ [الشعراء ۲۱۶]

’’پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو فرما دیں کہ بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔‘‘

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا اور انھوں نے نصف دیت ادا کردی۔ جو مالی نقصان ہوا تھا اس کی تلافی کی۔ یہاں تک کہ کتا جس برتن سے پانی پیتا ہے اس کی قیمت بھی ادا کی[سیرۃ ابن ہشام(ص:۵۵۸)۔] اور پھر ان کا باقی مال بھی انہیں واپس کردیاتاکہ ان کا کچھ مال باقی نہ رہ جائے۔ مگر اس کے باوجود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امارت سے معزول نہیں کیا۔ بلکہ آپ کو برابر امیر مقرر کیا جاتا رہا اور لشکروں کی قیادت آپ کے سپرد کی جاتی رہی۔ اس لیے کہ جس امیر سے کوئی غلطی یا گناہ ہوجائے تو اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جاتا ؛ اور اسے اس کی ولایت پر باقی رکھا جاتا۔

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی نہیں کی تھی، بلکہ وہ آپ کے حد درجہ اطاعت کیش تھے۔ البتہ آپ فقہ فی الدین میں دوسرے صحابہ کی منزلت پر نہ تھے؛اس معاملہ کا حکم آپ پر مخفی تھا۔اس وجہ سے اس موقع پر ان سے اجتہادی غلطی صادر ہوئی۔

٭ کسی نے یہ بھی کہا ہیکہ: حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ اور بنو جذیمہ کے مابین عہد جاہلیت کی رنجش تھی؛ جس کی وجہ سے انہوں نے ان کو قتل کیا ؛ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا ایلچی بناکر بھیجا۔

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بنو جذیمہ روانگی :]

شیعہ کا قول کہ : ’’پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ ان لوگوں کو راضی کردیں ۔‘‘

جواب :یہ کلام جہالت پر مبنی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کریں ‘ اور ان کے نقصان کی تلافی کریں ۔ معاملہ صرف راضی کرنے کا ہی نہیں تھا۔ 

شیعہ کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ قول کہ : ’’انہوں نے خیانت کی ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی اورمسلمانوں کو قتل کیا ۔‘‘

[جواب ]: یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہے۔ اس لیے کہ آپ نے عمداً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ خیانت نہیں کی اور نہ ہی آپ کی مخالفت کا ارادہ کیا ۔اور نہ ہی ان مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو آپ کے نزدیک معصوم تھے۔ لیکن آپ سے یہ غلطی ہوئی۔ جس طرح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں غلطی کی تھی جس نے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہا اور اس کے باوجود حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا[صحیح بخاری، کتاب المغازی۔ باب بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسامۃ بن زید....‘‘(ح: ۴۲۶۹)، صحیح مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الہ الا اللّٰہ ،(ح:۶۸)۔] اور جس طرح اس لشکر سے غلطی سرزد ہوئی تھی جس نے بکریوں والے اس شخص کو قتل کردیا تھا جس نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا۔ یہ آیت کریمہ اسی موقع پر نازل ہوئی:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ للّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴾(نساء:۹۳) [صحیح بخاری۔ کتاب التفسیر، سورۃ النساء ، باب﴿ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمْ﴾ (ح۴۵۹۱) ، صحیح مسلم کتاب التفسیر، باب تفسیر آیات متفرقۃ، (ح: ۳۰۲۵)۔]

’’اے ایمان والو!جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں ؛ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں ؛ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا؛ لہٰذا تم ضرور تحقیق اور تفتیش کر لیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘

صفحہ 4 از 5