فصل:....سیف اللہ کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....سیف اللہ کون تھا؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قبیلہ حرقات کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ میں سے ہے۔ ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی۔ میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لا اِلٰہ اِلا اللّٰہ۔انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا؛ لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :

’’ اے اسامہ!کیا لا اِلہ اِلا اللّٰہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔‘‘ [صحیح مسلم:جلد: ۱، ح۲۷۸]


صفحہ 5 از 5