اہل سنت دلیل 3 قدیم ترین ثقہ شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی…

اہل سنت دلیل 3 قدیم ترین ثقہ شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی کا اعتراف بمعہ تین  أصحاب ابن سبا کے نام

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

  سبحان اللہ اپنی ہی گفتگو میں اپنے ہی اصولوں میں واضح ترین تضادات ، موصوف اسی کتاب کے بلاسند اقوال کو ہم پر حجت پیش کر رہے ہیں جب اسی کتاب کے اقوال کو ہم بطور دلیل ان کے خلاف پیش کر رہے  ہیں تو کہتے ہیں صحیح سند کے ساتھ لاؤ۔  جبکہ ہمارا بھی تو یہی مطالبہ ہے کہ محترم

*جس قول کی بنیاد پر آپ نے دعوے کی عمارت کھڑی کر رکھی ہے اس قول کی کوئی سند تو لاؤ ، کشی سے اصحاب علی تک، نوبختی سے اصحاب علی تک ، اور اشعری قمی سے اصحاب علی تک ۔ کوئی ایک سند لاؤ کہ کس سند سے اصحاب علی کا یہ قول کشی تک ، نوبختی تک اور اشعری قمی تک پہنچا ہے۔*

  علامہ کشی کی تینوں روایات کو زبردستی موضوع کے ساتھ جوڑنے کی کوشش جاری رکھتے ہوئے  دوبارہ انہی کا ذکر جبکہ ان روایات میں دعویٰ کے اندر مذکور پانچوں عقائد میں سے ایک بھی عقیدہ مذکور نہیں ہے ۔ نتیجتا یہ تینوں روایات خارج از موضوع ہیں   اور ان پر گفتگو سوائے ممبران کو تکلیف دینے اور وقت کے ضیاع کے اور کچھ بھی نہیں۔

اصل محور علامہ کشی کا نقل کردہ وہ بلا سند قول ہے جسے مکاری کے ذریعے ان کا نظریہ اور سابقہ روایات کی وضاحت بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس قول کی سند مل جائے اور ان بعض اہل علم افراد کا تعین ہو جائے تو گفتگو آگے بڑھے گی ۔ ورنہ شرائط کے مطابق دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں دی گئی اب تک ۔

اہل سنت کی طرف سے شیعہ اشکال 2  کا رد اور شیعہ مناظر کی ذاتی تاویل  

صرف  دس الفاظ میں رد!

رانا محمد سعید شیعہ :   فضول خودساختہ اصول اور اس پر ایک خود ساختہ نظریہ ۔

اہل سنت کی طرف سے شیعہ اشکال 3  کا رد اور شیعہ مناظر کی ذاتی تاویل!



  فضول خود ساختہ اصول اور منگھڑت استدلال ، مؤرخ کیلئے لازم نہیں کہ وہ تاریخی اقوال کو نقل کر کے ان کا رد یا اثبات کرے ورنہ اسکا نظریہ اور اسکی تائید شامل حال ہوگی ۔ یہ آپ کا خود ساختہ اصول ہے اور حقائق کے برعکس ہے۔



 

  کشی کی تینوں روایات کا دعوے سے کوئی تعلق نہیں ۔ اسماء الرجال کی کتب میں کسی شخص کے بارے میں  جو بھی دستیاب اقوال ہوں وہ نقل کرنا الگ بات ہے اور کسی کے بارے  میں اپنی رائے دیکر اسکی تضعیف و توثیق کرنا ایک الگ بات ہے۔ آپ یہاں خیانت در خیانت کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ کشی جتنا بھی ثقہ ہو  ان کے کسی قول کو نقل کر دینا ان کا نظریہ یا تائید قرار نہیں دی جا سکتی جبکہ اسکی کوئی اصل اور سند ہی نا ہو ۔ وہ بھی عقائد کی بنیاد ثابت کرنے کیلئے اللہ اللہ ۔   قارئین غور فرمائیں ۔ شیخ نجاشی نے شیخ کشی کی منہج کتاب پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ شیخ کشی کسی راوی کی توثیق یا تضعیف کی بات نہیں کرتے ، وہ راوی کا ذکر کرتے ہیں اور اسکی بیان کردہ روایات ذکر کرتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ وہ *وہ باتیں ذکر کرتے ہیں جو اس راوی کے باری کہی گئیں۔

* ⬅️ بات واضح ہے کہ شیخ کشی نے یہاں کسی کی روایت کی تائید یا نفی یا کسی کے بارے میں  کسی قسم کی تائید یا نفی میں کتاب نہیں لکھی نا ان کا یہ منہج تھا۔  ان کا منہج اس راوی کی مرویات چاہے ثقات سے ہو یا ضعفاء سے انہوں نے جو ملا نقل کر دیا، نا راوی کی توثیق کی بات کی، نا کسی راوی کے بارے اپنا نظریہ لکھا ،نا ہی کسی عقیدے کی تائید یا تردید کی ۔ *تو الحمد للہ اس سے ہمارا موقف مضبوط ہوا کہ علامہ کشی نے یہ اپنا قول نہیں لکھا ، نا ہی اس مجہول قول کی تائید کی بلکہ ان تک کسی راوی کے بارے میں جو پہنچا ،چاہے وہ بات ثقہ اور ثبت تھی یا ضعیف و مجہول انہوں نے نقل کر دی*۔


صفحہ 3 از 3