صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں گروہ بندی کا شیعی افسانہ اور اس پر رد
امام ابنِ تیمیہؒصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں گروہ بندی کا شیعی افسانہ اور اس پر رد
[اشکال]:پہلی بات: رافضی نے جو کہا ہے:’’ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مصیبت عام ہوگئی اور لوگ اختلاف کا شکار ہو گئے ؛ان کی خواہشات نفس کے مطابق ان کے فرقے بھی متعدد ہوگئے۔اہل سنت میں سے بعض لوگ بلا استحقاق امارت و خلافت کے طلب گار تھے۔ اور اکثر لوگ محض دنیا طلبی کے نقطہ خیال سے ان کے پیرو بن گئے تھے، مثلاً عمر بن سعد بن مالک[جوکہ کچھ عرصہ کے لیے بلاد رے کا حاکم رہ چکا تھا]؛ کو جب یہ اختیار دیا گیا کہ اگر چاہے تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہو اور اگر چاہے توجنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لے؛ تو اس نے لڑنا پسند کیا۔ حالانکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل جہنمی ہیں ۔‘‘ پھر اس کے لیے اس نے شعر ذکر کیے ہیں ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]
[جواب]: ہم کہتے ہیں : اس پیرائے میں اتنے جھوٹ اور باطل باتیں اورامت کے بہترین لوگوں کی مذمت ہے جو کسی بھی عقلمند پر پوشیدہ نہیں ۔ اس [کلام کے جھوٹ ہونے]کی کئی وجوہات ہیں :
شیعہ کا کہناکہ’’ان کی خواہشات نفس کے مطابق ان کے فرقے بھی متعدد ہوگئے۔‘‘ توان میں سے ہر ایک اپنی خواہشات کا پیروکار ہوگیا۔ان میں کوئی ایک بھی حق کا طلبگار نہ تھا۔ او رنہ ہی کو ئی ایک اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت میں کامیابی چاہتا تھا۔ اورنہ ہی کسی کی بات اجتہاد و استدلال پر مبنی تھی۔ ان الفاظ کا عموم حضرت علی رضی اللہ عنہ او ردوسرے صحابہ کرام کو شامل ہے۔ یہ گل افشانی انہی صحابہ کے بارے میں کی جا رہی ہے جن کی تعریف و توصیف اللہ اور اس کے رسول نے کی ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے جنت کی خوشخبری دی تھی۔ جن کی شان میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴾ (توبۃ۱۰۰)
’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں ؛اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
نیز فرمان الٰہی ہے :
﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَوَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا﴾ (الفتح: ۲۹)
’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت آپس میں رحمدل ہیں ، آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں ؛ اللہ تعالی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں ۔ ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے نشان پڑگئے ہیں ۔ ان کی یہ مثالیں تورات میں ہے اور ان کی مثالیں انجیل میں ہیں ۔ مثال اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سید ھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگاتاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔‘‘
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ....إلی قولہ تعالی.... وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ٭ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمٌ﴾
’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ....آگے یہاں تک کہ فرمایا....: یہی لوگ سچے مومن ہیں ، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں ....۔‘‘
نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
﴿لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنْ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی ﴾ [الحدید ۱۰]
’’ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ؛ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے، ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے ۔‘‘
اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ oوَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ oوَالَّذِیْنَ جَاؤا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ [الحشر ۸۔۱۰]
’’(فئے کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں ۔اور (ان کیلئے)جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ)اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے لیے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو(بات یہ ہے )کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے اور (ان کے لئے) جو ان کے بعد آئیں اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دلوں میں دشمنی نہ ڈالنا۔اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
یہ آیات کریمہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے مؤمنین کی توصیف و مدح سرائی کو متضمن ہیں جو اپنے سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں کہ ان کے دل عداوت صحابہ سے پاک رہیں ۔ اور یہ ان اصناف صحابہ کو متضمن ہے جو مال فئے کے مستحق ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رافضہ ان تینوں اصناف سے خارج ہیں ۔اس لیے کہ یہ لوگ سابقین یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے دعا نہیں کرتے، بلکہ ان کے دل صحابہ کے خلاف بغض و عداوت سے لبریز ہیں ۔ان آیات میں صحابہ کرام کی ثنا خوانی کی گئی ہے اور اہل سنت والجماعت کی ثنا خوانی ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں ۔ رافضی اس سے باہر ہیں ۔ کیونکہ رافضیوں کا مذہب اس کا الٹ ہے ۔ ابن بطہ اور دوسرے علماء کرام رحمہم اللہ نے ابو بدر سے حدیث نقل کی ہے ؛کہ :
’’.... حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ تین منزلوں پر ہیں ۔ دو منزلیں گزر چکی ہیں ۔اور ایک منزل باقی رہ گئی ہے۔ پس اس کو اچھا سمجھنا جس پر تم ہونے والے ہو؛ تاکہ تم اس منزل پر ہو جاؤ جو کہ باقی رہ گئی ہے ؛ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :
﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا﴾
’’(فئے کا مال)ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں ۔‘‘
یہ مہاجرین [صحابہ کرام ]تھے؛ اور یہ منزلت گزرچکی ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی :
﴿وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ﴾ [الحشر ۸۔۱۰]
’’اور (ان کے لئے)جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ)اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے لیے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو۔‘‘
پھر فرمایا : یہ انصار [صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ]تھے؛ اور یہ منزلت بھی گزر چکی ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی :
﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾
’’ اور جو ان کے بعد آئے اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دل میں دشمنی نہ ڈالنا۔اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
پھر فرمایا : وہ دو منزلیں گزرچکی ہیں ؛ اور یہ منزل باقی رہ گئی ہے ؛ اس کے لیے اچھے اعمال کرو تاکہ تم اس منزل کے مستحق بن جاؤ جو باقی رہ گئی ہے ؛ پس اپنے سے پہلے لوگوں کے لیے استغفار کرو۔‘‘[شائد یہ اثر الإبانۃ الکبریمیں ہو‘ اس لیے کہ الإبانۃ الصغری میں نہیں ملا۔البتہ امام مالک رحمہ اللہ ان آیات کی روشنی میں فرماتے ہیں : ’’ جو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرتا ہو؛ اس کا اسلام میں کوئی نصیب اور حصہ نہیں ہے۔‘‘ الصارم ۷۴۔ ]
نیز حضرت مالک بن انس رحمہ اللہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں :
’’ جو کوئی سلف کو گالی دے ؛ مال فئے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں :
﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا ﴾
’’ اور جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں : ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو ....۔‘‘
یہ اثر حضرت مالک رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ دوسرے اہل علم سے بھی معروف ہے ۔ جیسا کہ ابو عبید قاسم بن سلام ؛ امام احمد رحمہ اللہ کے ساتھیوں میں سے ابو حکیم نہروانی نے بھی یہ اثردوسرے فقہاء کرام سے نقل کیا ہے