صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں گروہ بندی کا شیعی افسانہ اور…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں گروہ بندی کا شیعی افسانہ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ oوَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ oوَالَّذِیْنَ جَاؤا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ [الحشر ۸۔۱۰]

’’(فئے کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں ۔اور (ان کیلئے)جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ)اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے لیے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو(بات یہ ہے )کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے اور (ان کے لئے) جو ان کے بعد آئیں اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دلوں میں دشمنی نہ ڈالنا۔اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

یہ آیات کریمہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے مؤمنین کی توصیف و مدح سرائی کو متضمن ہیں جو اپنے سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں کہ ان کے دل عداوت صحابہ سے پاک رہیں ۔ اور یہ ان اصناف صحابہ کو متضمن ہے جو مال فئے کے مستحق ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رافضہ ان تینوں اصناف سے خارج ہیں ۔اس لیے کہ یہ لوگ سابقین یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے دعا نہیں کرتے، بلکہ ان کے دل صحابہ کے خلاف بغض و عداوت سے لبریز ہیں ۔ان آیات میں صحابہ کرام کی ثنا خوانی کی گئی ہے اور اہل سنت والجماعت کی ثنا خوانی ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں ۔ رافضی اس سے باہر ہیں ۔ کیونکہ رافضیوں کا مذہب اس کا الٹ ہے ۔ ابن بطہ اور دوسرے علماء کرام رحمہم اللہ نے ابو بدر سے حدیث نقل کی ہے ؛کہ :

’’.... حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ تین منزلوں پر ہیں ۔ دو منزلیں گزر چکی ہیں ۔اور ایک منزل باقی رہ گئی ہے۔ پس اس کو اچھا سمجھنا جس پر تم ہونے والے ہو؛ تاکہ تم اس منزل پر ہو جاؤ جو کہ باقی رہ گئی ہے ؛ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا

’’(فئے کا مال)ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں ۔‘‘

یہ مہاجرین [صحابہ کرام ]تھے؛ اور یہ منزلت گزرچکی ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی :

﴿وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ﴾ [الحشر ۸۔۱۰]

’’اور (ان کے لئے)جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ)اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے لیے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو۔‘‘

پھر فرمایا : یہ انصار [صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ]تھے؛ اور یہ منزلت بھی گزر چکی ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی :

﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾

’’ اور جو ان کے بعد آئے اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دل میں دشمنی نہ ڈالنا۔اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

پھر فرمایا : وہ دو منزلیں گزرچکی ہیں ؛ اور یہ منزل باقی رہ گئی ہے ؛ اس کے لیے اچھے اعمال کرو تاکہ تم اس منزل کے مستحق بن جاؤ جو باقی رہ گئی ہے ؛ پس اپنے سے پہلے لوگوں کے لیے استغفار کرو۔‘‘[شائد یہ اثر الإبانۃ الکبریمیں ہو‘ اس لیے کہ الإبانۃ الصغری میں نہیں ملا۔البتہ امام مالک رحمہ اللہ ان آیات کی روشنی میں فرماتے ہیں : ’’ جو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرتا ہو؛ اس کا اسلام میں کوئی نصیب اور حصہ نہیں ہے۔‘‘ الصارم ۷۴۔ ]

نیز حضرت مالک بن انس رحمہ اللہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں :

’’ جو کوئی سلف کو گالی دے ؛ مال فئے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں :

﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا

’’ اور جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں : ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو ....۔‘‘

یہ اثر حضرت مالک رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ دوسرے اہل علم سے بھی معروف ہے ۔ جیسا کہ ابو عبید قاسم بن سلام ؛ امام احمد رحمہ اللہ کے ساتھیوں میں سے ابو حکیم نہروانی نے بھی یہ اثردوسرے فقہاء کرام سے نقل کیا ہے 


صفحہ 2 از 2