صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب - ردِ رافضیت |…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب

حضرت حسن بن عمارہ رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے ؛ وہ حکیم سے اوروہ مقسم سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے یہ جانتے ہوئے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے کہ وہ باہم لڑا کریں گے۔‘‘[الشریعۃ للآجری(۱۹۷۹۔۱۹۸۰) السنۃ لابن ابی عاصم(۱۰۰۳)]

حضرت عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرمایاکرتی تھیں :

’’ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا گیا تھا، مگر لوگوں نے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب التفسیر۔ باب فی تفسیر آیات متفرقۃ(حدیث:۳۰۲۲)۔ ]

صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی نہ دو؛ اللہ کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[بخاری ۔باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لو کنت متخذا خلیلاً‘‘(ح:۳۶۷۳) صحیح مسلم۔ باب تحریم سب الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم (ح: ۲۵۴۱)۔مسلِم 4؍1967 ۔ 1968 (کتاب فضائِلِ الصحابۃِ، باب تحرِیمِ سبِ الصحابۃِ; سننِ أبِی داود 4؍297 ؛ ِکتاب السنۃِ، باب فِی النہیِ عن سبِ أصحابِ رسولِ اللّٰہِ ۔ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سننِ التِرمِذِیِ 5؍357 کِتاب المناقِبِ، باب فِی من سب أصحاب النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المسندِ ط. الحلبِیِ 3؍11 ؛ 54 ؛ سنن ابن ماجہ 1؍57؛ المقدِمۃ ، باب فضلِ أہلِ بدر۔]

صحیح مسلم میں یہی روایت بعینہٖ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ [صحیح مسلم۔حوالہ سابق۔ حدیث :۲۵۴۰) ]

نیز صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا :

’’کچھ لوگ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں سوء ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔‘‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواباً فرمایا:

’’اس میں حیرت و تعجب کی کون سی بات ہے۔ دارفانی سے کوچ کرنے کے باعث ان کے نیک اعمال کا سلسلہ بند ہو گیا تھا اللہ تعالیٰ کریم نے چاہا کہ ان کے اجرو ثواب کا سلسلہ بند نہ ہو۔‘‘[الشریعۃ للآجری(۱۹۹۹) من طریق ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ]

ابن بطہ رحمہ اللہ نے صحیح اسناد سے عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی ؛ وہ کہتے ہیں : مجھ سے معاویہ نے حدیث بیان کی ؛ ان سے رجاء نے ؛ وہ مجاہد سے روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے لیے استغفار کرنے کاحکم دیا ہے ‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ آپس میں لڑیں گے۔ ‘‘[یہ حدیث صحیح مسلم کے بعض نسخوں میں ہے۔ مصنف ابن ابی شیبۃ(۱۲؍۱۷۸)، سنن ابن ماجۃ۔ المقدمۃ۔ باب فضل اھل بدر، (حدیث: ۱۶۲)۔]

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرمایا کرتے تھے: ’’ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی سے احتراز کیجئے؛ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ایک گھڑی کی رفاقت و صحبت تمہارے چالیس سالہ اعمال سے افضل ہے۔‘‘

اور حضرت وکیع رحمہ اللہ کی روایت میں ہے:’’ تمہاری ساری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاoوَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا oوَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ وَلِتَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَہْدِیَکُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا oوَاُخْرَی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا ﴾ (الفتح:۱۸۔۲۱)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا، جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے، جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس نے معلوم کر لیا ان پر اطمینان و سکون نازل کیا اور انہیں قریبی فتح سے نوازا۔اور بہت سی غنائم جنہیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔اللہ تعالی نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنہیں تم حاصل کروگے۔ پس یہ تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے، تاکہ وہ تمہیں سیدھی راہ چلائے ۔اور تمہیں اور (غنیمتیں ) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا اللہ تعالی نے انہیں قابو کر رکھا ہے اور اللہ تعالی ہرچیز پر قادر ہے۔‘‘ [مذکورہ بالا آیت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبی اسرار کو معلوم کر کے ان سے رضا مندی کا اظہار فرمایا ہے۔ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد ۱۴۰۰ تھی۔ پھر انہی صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں حصہ لیا۔ بیعت رضوان سے اس وقت تک مسلمان ہنوز بیعت رضوان میں شرکت کرنے والے صحابہ کے بارے میں : ’’ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْن ‘‘ کی شہادت الٰہی پر قانع چلے آرہے ہیں ۔صحیح مسلم میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں نہیں جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم ۔ باب فضائل اصحاب الشجرۃ، (ح۲۴۹۶)۔]

صفحہ 1 از 4