صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب - ردِ رافضیت |…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

جن لوگوں نے جبل تنعیم کے پاس حدیبیہ کے مقام پر[ ببول کے] درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ؛ ان کی تعداد چودہ سو سے زیادہ تھی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواور آپ کے صحابہ کو عمرہ کرنے سے روک دیا تھا۔ پھر مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرلی ؛ جسے صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ یہ ذو القعدہ سن چھ ہجری کا واقعہ ہے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن سات ہجری کی شروع میں غزوہ خیبر کیا ؛ جس میں اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت سے نوازا۔ آپ نے یہ مال غنیمت اپنے صحابہ میں تقسیم کیا ؛ اور حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے اعرابیوں میں سے کسی کو اس میں سے کچھ بھی حصہ نہیں دیا ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِِذَا انطَلَقْتُمْ اِِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلَامَ اللّٰہِ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا بَلْ کَانُوْا لَا یَفْقَہُوْنَ اِِلَّا قَلِیْلًا ﴾ [الفتح ۱۵]

’’ جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے کلام کو بدل دیں آپ فرما دیجئے!کہ اللہ تعالی ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے وہ اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں )بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (اصل بات یہ ہے ) کہ وہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں ۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر خبر دی ہے کہ اللہ ان صحابہ پر راضی ہوگیا۔ اور ان کے دلوں کاحال جان لیا ؛ اور عنقریب انہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ یہی وہ بڑے بڑے سرکردہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ مسلمانوں میں کوئی ایک بھی دوسرا ایسا نہیں تھا جسے آپ پر مقدم کیا جاتا ۔ بلکہ تمام کے تمام مسلمان آپ کی فضیلت سے بخوبی آگاہ تھے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی فضیلت کو قرآن میں بیان کیا ہے ‘ ارشاد فرمایا :

﴿لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنْ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی ﴾ [الحدید۱۰]

’’ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ خرچ کیا اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے)برابر نہیں بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے،ہاں ان سب سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھلائی کا وعدہ ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں فتح سے پہلے جہاد کرنے والوں اور اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت کا اعلان کیا ہے ۔ یہاں پر فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے ۔ اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ : کیا یہ فتح ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ ہاں ۔‘‘ [سنن أبي داؤد ۳؍۱۰۱۔]

اہل علم جانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے بارے میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی تھیں :

﴿اِِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا oلِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا oوَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا﴾ [الفتح ۱۔۳]

’’بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔تاکہ آپ کی سابقہ اور آئندہ لغزشیں ؛ سب کو اللہ تعالی معاف فرمائے اور آپ پر اپنا احسان پورا کر دے اور آپ کو سیدھی راہ چلائے۔اور آپ کو ایک زبردست مدد دے۔‘‘

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو اہل ایمان عرض گزار ہوئے : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو آپ کے لیے ہوا؛ ہمارے لیے کیا ہے ؟ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِِیْمَانًا مَّعَ اِِیْمَانِہِمْ﴾ [الفتح ۴]

’’وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ ایمان میں اور بڑھ جائیں ۔‘‘

یہ آیت فتح سے پہلے خرچ کرنے والوں کی فتح کے بعد خرچ کرنے والوں پر فضیلت کے باب میں ایک نص کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے بعض علماء کرام رحمہم اللہ نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں :

﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ﴾ (التوبۃ ۱۰۰)

’’اور جو مہاجرین اور انصارمیں سے سابق اور مقدم ہیں ....۔‘‘

سابقین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لیا ۔ بیعت رضوان والے تمام چودہ سو لوگ اس میں شامل ہیں ۔

صفحہ 2 از 4