صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب - ردِ رافضیت |…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ : سابقین اولین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ۔ یہ قول ضعیف ہے۔اس لیے کہ فقط منسوخ قبلہ کی طرف نماز میں کوئی فضیلت نہیں ۔ اس لیے کہ قبلہ کا منسوخ ہونا ان لوگوں کا اپنا فعل نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں فضیلت دی جائے۔ نیز یہ کہ دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نمازپڑھنے کی فضیلت پر کوئی حدیث [یا آیت ] دلالت نہیں کرتی؛ جیسا کہ انفاق فی سبیل اللہ میں سبقت ؛ جہاد اور بیعت رضوان کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ لیکن اس میں ان لوگوں کی بعد میں آنے والوں پر فضیلت ہے جو ایمان لانے میں سبقت لے گئے اور اس موقع کو پالیا ۔ جیسے پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے مسلمان ہونے والوں کو بعد میں مسلمان ہونے والوں پر فضیلت حاصل ہے۔ ایسے ہی جو لوگ حضر میں نماز کی چار رکعت ہونے سے قبل اسلام لائے ؛ انہیں بعد میں اسلام لانے والوں پر فضیلت حاصل ہے۔اور وہ جو لوگ جہاد کی اجازت ملنے سے پہلے ؛ یا فرض ہونے سے پہلے اسلام لائے ؛ انہیں فرضیت جہاد کے بعد اسلام لانے والوں پر فضیلت حاصل ہے۔ ایسے ہی جو لوگ رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے اسلام لائے ؛ انہیں بعد میں اسلام لانے والوں پر سبقت حاصل ہے۔ ایسے ہی حج کی فرضیت سے پہلے مسلمان ہونے والوں کو بعد میں مسلمان ہونے والوں پر سبقت حاصل ہے ۔ شراب حرام ہونے سے پہلے اسلام لانے والوں کو بعد میں اسلام لانے والوں پر سبقت حاصل ہے۔ یہی حال سود کی حرمت کا ہے۔

اسلام کے احکام آہستہ آہستہ نازل ہوتے رہے ۔ ہر وہ انسان جو کسی حکم کے نازل ہونے سے پہلے اسلام لے آیا ؛ اسے اس حکم کے نزول کے بعد مسلمان ہونے والوں پر سبقت حاصل ہے۔ اس میں اس کی ایک گونہ فضیلت ہے۔ پس جو لوگ قبلہ منسوخ ہونے سے پہلے اسلام لے آئے ؛ انہیں بعد میں مسلمان ہونے والوں پر فضیلت اسی باب میں حاصل ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے سابقین اولین بعد میں آنے والوں سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہوں ۔ اس لیے کہ ان بعض احکام میں کوئی ایسا سبب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں دوسروں سے بہتر قرار دیا جائے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت اہل حدیبیہ کی تقدیم پر دلالت کرتے ہیں ۔ پس واجب ہوتا ہے کہ اس آیت کی ایسی تفسیر کی جائے جو باقی تمام نصوص کے موافق ہو۔

یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہے کہ ان سابقین اولین میں [حضرات صحابہ کرام] ابو بکر ‘ عمر ‘ عثمان‘ علی ‘ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم شامل تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیکر اس پر بیعت کی ۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کے پاس بطور سفیر بھیجا تھا؛ اس لیے آپ اس موقع پر موجود نہیں تھے۔ آپ ہی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لی۔ اس لیے کہ آپ کو خبر ملی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَا یَدْخُلُ اَحَدٌ مِّمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ النَّارَ )) [مسلم۔ باب من فضائل اصحاب الشجرۃ (ح: ۲۴۹۶)، سنن ابی داؤد۔ باب فی الخلفاء( ح:۴۶۵۳) ۔]

’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ اِنَّہٗ بِہِمْ رَؤُو فٌ رَّحِیْمٌ ﴾ (التوبۃ: ۱۱۷)

’’اللہ تعالی نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالی ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔‘‘

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین جمع کیا ہے ‘ ارشاد فرمایا :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ....إلی قولہ تعالیٰ.... وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ٭ وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمٌ﴾[الأنفال ۷۲۔۷۵]

’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ....آگے یہاں تک فرمایا....:وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مددکی؛یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں ....۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے مابین موالات و دوستی کو ثابت کیا ہے ۔ نیز ارشاد فرمایا:

﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَO....إلی أن قال....:اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَOوَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴾ (المائدہ:۵۱۔۵۶)

صفحہ 3 از 4