صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب - ردِ رافضیت |…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

’’اے ایمان والو!تم یہود و نصاری کو دوست نہ بنا ؤ؛ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا.... یہاں تک کہ فرمایا....(مسلمانو!)تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اسکا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع(خشوع و خضوع)کرنے والے ہیں ۔اور جو شخص اللہ تعالی سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وہ یقین مانے کہ اللہ تعالی کی جماعت ہی غالب رہے گی۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہوا:﴿ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ﴾ (التوبہ:۷۱)

مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین دوستی کو ثابت کیا ہے ‘اور ان سے دوستی لگانے کا حکم دیا گیا ہے، مگر روافض اس کے برعکس ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ؛ ان سے دوستی نہیں کرتے۔دوستی کی اصل تو محبت پر قائم ہوتی ہے ۔ اور دشمنی کی اصل بغض و نفرت پر ہوتی ہے۔ رافضی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں محبت نہیں کرتے۔

بعض جہلاء نے اپنی طرف سے یہ قول گھڑ لیا ہے کہ درج ذیل آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب آپ نے نماز میں اپنی انگوٹھی بطور صدقہ ادا کردی۔[[ تب یہ آیت اتری، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ ﴾ (المائدہ:۵۵)

’’جو نمازوں کی پابندی کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں ۔‘‘]]

محدثین کے ہاں باتفاق اہل علم یہ روایت سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ کئی ایک وجوہات کی بنا پر اس کا جھوٹ کھل کر ظاہر ہوتا ہے :

[پہلی وجہ: یہ طرز استدلال سراسر غلط ہے، جسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ] آیت میں ’’الذین‘‘جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک تھے۔ مزید برآں ’’ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ ‘‘میں واؤ حالیہ نہیں ۔ اگر واؤ کو حالیہ قرار دیا جائے تو زکوٰۃ کا حالت رکوع میں ادا کرنا ایک ضروری امر ہوگا۔توپھر صرف اس سے محبت و دوستی رکھی جائے جو حالت رکوع میں زکوٰۃ ادا کرے۔اس کے علاوہ باقی تمام صحابہ اور اہل بیت سے دوستی نہ کی جائے۔

مزید برآں کسی کی مدح امر واجب یا مستحب کی بنا پر کی جاتی ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ حالت نماز میں زکوٰۃ ادا کرنا بالاتفاق واجب ہے نہ مستحب۔اس پر تمام اہل ملت کا اتفاق ہے۔

[دوسری وجہ]: .... نیز یہ کہ نماز میں ایک طرح کی مشغولیت ہوتی ہے، [اورنماز میں زکوٰۃ کی ادائیگی اس کی منافی ہے] ۔ مزید برآں کہ اگر نماز میں ہی زکوٰۃ ادا کرنا کوئی مستحسن فعل ہوتا تو پھر رکوع او رقیام یا سجدہ کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔ بلکہ حالت قعود یا قیام میں زکوٰۃ ادا کرنا زیادہ آسان ہوتا۔

[تیسری وجہ]:.... اس پر طرہ یہ کہ عہد نبوی میں سرے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر زکوٰۃ ہی فرض نہ تھی۔

یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں انگوٹھیاں نہیں تھیں اور نہ ہی وہ انگوٹھیاں پہنا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری ایران کو خط لکھا توآپ سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں لیتے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہو۔ چنانچہ آپ نے اس وقت چاندی کی انگوٹھی بنوائی ؛ اور اس پر محمد رسول اللہ کا نقش کندہ کروایا۔

[چوتھی وجہ]:.... [اس کی حدیہ ہے کہ آپ کے پاس انگوٹھی بھی نہ تھی]۔نیزیہ کہ اگر آپ انگوٹھی کے علاوہ کسی چیز سے زکوٰۃادا کرتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔[ بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آپ کے پاس انگوٹھی موجود تھی ؛ تو آخر یہ انگوٹھی دے کر کس مال کی زکوٰۃ ادا کی گئی؟]اس لئے کہ اکثر فقہاء زکوٰۃ میں انگوٹھی دینے کو کافی خیال نہیں کرتے ۔

[پانچویں وجہ]:.... شیعہ کی کتب حدیث میں تحریر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ انگوٹھی ایک سائل کو دی تھی۔ زکوٰۃ میں مدح کا پہلو صرف یہ ہے کہ فوری طور پر بلاتا خیر ادا کی جائے کسی سائل کے سوال کا انتظار نہ کیا جائے ۔

[چھٹی وجہ]:.... یہ آیت کفار کے ساتھ دوستی کے سیاق میں چل رہی ہے۔جس میں [کفار کی دوستی ترک کر کے ] مؤمنین کے ساتھ دوستی لگانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جیساکہ اس پر سیاق کلام دلالت کررہا ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

رافضیوں کا المیہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کسی دلیل سے استدلال کرتے ہیں ‘ وہ الٹا ان کے گلے میں پڑ جاتی ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے انہوں نے ولایت پر استدلال کیا ہے ؛جس سے مراد وہ امارت لیتے ہیں ۔ یہاں پر ولایت سے مقصود امارت [حکومت ] نہیں ‘ بلکہ اس سے دوستی مراد ہے جو کہ دشمنی کی ضد ہے ۔ رافضی بالکل اس کے برعکس چلتے ہیں ۔

اسماعیلیہ ‘ نصیریہ اور اس طرح کے دیگر فرقے یہود و نصاری اور مشرکین و منافقین کفار کے ساتھ محبت اور دوستی رکھتے ہیں ۔ اور مہاجرین و انصار اور تابعین اور ان کے بعد آنے والے مسلمانوں سے دشمنی اور بغض رکھتے ہیں ۔


صفحہ 4 از 4