فصل:....حضرت خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ - ردِ…

فصل:....حضرت خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فصل:....حضرت خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ 

[اعتراض]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ سے لڑنے کے لیے لشکر روانہ کیا؛ جنہوں نے اظہار اسلام کے باوجود ۱۲۰۰ آدمیوں کو قتل کردیا۔ مالک بن نُویرہ کو گرفتاری کی حالت میں قتل کیا گیا ‘ جب کہ وہ مسلمان تھا ؛ اور اس کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ زکوٰۃ نہ ادا کرنے کی بنا پر بنو حنیفہ کو مرتد قرار دیا؛ جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہیں بھیجی تھی اور آپ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ ان کے خون و اموال اور عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا انکار کیا ۔ ان لوگوں نے زکوٰۃ روکنے والوں کو مرتد کا نام دیا ۔اس کے برعکس جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزماہوئے اور جنھوں نے مسلمانوں کے خون کو مباح قراردیا تھا، ان کو مرتد قرار نہ دیا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: 

’’ اے علی! تجھ سے لڑائی کرنا میرے خلاف جنگ آزما ہونا ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف صف آرائی کر نے والااجماعاً کافر ہے۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب] :ان سے کہا جائے گا : اللہ اکبر ! یہ جھوٹے مرتد ؛ مفتری ؛ مرتدین کے پیروکار جنہوں نے اللہ ‘ کتاب اللہ ‘ رسول اللہ اور دین اللہ کے لیے اپنی دشمنی کا کھل کر اظہار کیا ہے؛ یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہوچکے ہیں ‘ اور اسلام کو پس پشت پھینک دیا ہے۔یہ اللہ و رسول اور نیک بندوں کی مخالفت کرتے اور اہل ارتداد و شقاق سے الفت و محبت رکھتے ہیں ۔ روافض کے ایسے بیانات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف روافض کا بغض و عناد کسی طرح ان مرتدین سے کم نہیں جن کے خلاف حضرت صدیق رضی اللہ عنہ صف آراء ہوئے تھے۔

واقعہ یہ ہے کہ اہل یمامہ بنو حنیفہ کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے؛جو کہ مشہور مدعی نبوت مسیلمہ کذاب پر ایمان لا چکے تھے۔ مسیلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں نبوت کا دعوی کیا تھا۔اس سے پہلے وہ مدینہ طیبہ آکر اسلام کا اظہار کر چکا تھا ۔ پھرجب یمامہ جانے لگا تو اس نے یہ کہا کہ : اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد یہ زمام کار میرے سپرد کردی تو میں اس پر ایمان لے آؤں گا۔ پھر جب یہ انسان واپس یمامہ پہنچا تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت میں شریک ہے اوریہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بابت اس کی تصدیق کردی ہے ۔ اس بات پر رجال بن عنفوہ نامی انسان نے گواہی بھی دے دی ۔

مسیلمہ نے اپنا الگ قرآن تصنیف کیا تھا۔جس میں یہ کہتا ہے:

۱....’’ والطاحنات طحناً فالعاجنات عجناً فالخابزات خبزاً إھالۃ و سمناً إن الأرض بیننا و بین قریش نصفین ؛ ولکن قریشاً قوم لا یعدلون۔‘‘

اس کی جھوٹی وحی میں یہ بھی تھا:

۲....’’یَا ضِفْدَعُ بِنْتُ ضِفْدَ عَیْنِ نَقِیٌّ کَمْ تَنَقِّیْنَ ، لَا الْمَائَ تُکَدِّرِیْنَ وَ لَا الشَّارِبَ تَمْنَعِیْنَ، رَاسُکِ فِی الْمَائِ وَ ذَنْبُکِ فِی الطِّیْنِ۔‘‘

۳....’’اَلْفِیْلُ،وَمَا الْفِیْلُ وَ مَا اَرْدَاکَ مَا الْفِیْلُ، لَہٗ زَلُوْمٌ طَوِیْلٌ ، اِنَّ ذَالِکَ مِنْ خَلْقِ رَبِّنَا الْجَلِیْلِ۔‘‘

مسیلمہ نے جو قرآن مرتب کیا تھا، وہ حد درجہ مضحکہ انگیز اور اس کی حماقت وسفاہت کا آئینہ دار تھا۔جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کلام سنا تو فرمایا: ’’تمہارے لیے ہلاکت ہو ! مسیلمہ تمہاری عقلوں کو کہاں لیے جا رہا ہے، یہ کلام اللہ کا نازل کردہ نہیں ۔‘‘

اس کذاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط بھی لکھا تھا:

’’ مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف ؛ اما بعد :

’’ بیشک میں اس امر [نبوت و رسالت ] میں آپ کا شریک ہوچکا ہوں ۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ خط تحریر فرمایا :

’’ محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی جانب ۔‘‘

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کی طرف بھیجا ۔ آپ نے اپنے ساتھ موجود مسلمان لشکر سے مل کر ان لوگوں سے جنگ کی۔ اس سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ طلیحہ اسدی سے قتال کرچکے تھے؛ اس نے بھی جھوٹی نبوت کا دعوی کیا تھا۔اور اہل نجد کے کچھ گروہ اس کے پیروکار بن گئے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف مؤمنین کی مدد کی ‘ تو انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔اس موقع پر جناب حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔اس کے بعد طلیحہ اسدی نے بھی اسلام قبول کرلیا۔اس کے بعد مؤمنین کا لشکر یمامہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس جنگ میں مؤمنین کو بہت سخت امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔اس جنگ میں خیار [بہترین ] صحابہ کرام کا ایک پورا گروہ شہید کردیا گیا ۔جیسے زید بن خطاب ؛ ثابت بن قیس بن شماس ‘ اسید بن حضیر اوردوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ۔ [[مسیلمہ اس کے علاوہ بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کر چکا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نامہ اعمال میں سب سے افضل عمل یہ لکھا جا چکا ہے کہ آپ نے ان مرتدین سے لڑنے کے لیے بہترین صحابہ کا ایک لشکر بھیجا اور اس کی سپہ سالاری حضرت خالد سیف اللہ کو تفویض کی]]

بہر کیف مسیلمہ کذاب کا دعوائے نبوت، بنو حنیفہ کا اس پر ایمان لانا اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا ان کے خلاف نبرد آزما ہونا تاریخ اسلام کے مشہور واقعات ہیں اور متواتر کی حد تک معروف ہیں ۔ عام و خاص سب ان سے آشنا ہیں اور ان کا علم صرف طبقہ خواص ہی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ لوگ ان واقعات کو جنگ جمل و صفین سے بھی بڑھ کر جانتے ہیں ۔بعض متکلمین نے جنگ جمل و صفین سے انکار کیا ہے، اگرچہ یہ باطل ہے، مگر اہل یمامہ کی لڑائی اور مسیلمہ کے دعوی نبوت سے کسی شخص کو مجال انکار نہیں ہوئی۔اور یہ کہ مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعوی کیا تھا؛ اور اسی بنا پر اس سے جنگ لڑی گئی۔

صفحہ 1 از 2