فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 7

فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے

[اعتراض]:شیعہ مصنف کہتا ہے کہ ’’ بنو حنیفہ نے چونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہ دی تھی۔ اس لیے انھیں مرتدین کا نام دیا۔‘‘

[جواب ]: یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بنو حنیفہ کے خلاف اس لیے صف آراء ہوئے تھے کہ انھوں نے مسیلمہ کذاب کو نبی تسلیم کیا تھا،اور اس کے نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ باقی رہے مانعین زکوٰۃ تو وہ بنو حنیفہ نہ تھے، بلکہ دیگر قبائل تھے۔ مانعین زکوٰۃ کے خلاف جنگ لڑنے میں بعض صحابہ کو شبہ لاحق ہوا تھا ۔ البتہ بنو حنیفہ کے خلاف جنگ آزما ہونے میں سب صحابہ یک زبان تھے اور کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا تھا۔جب کہ مانعین زکاۃ کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :اے خلیفہ ء رسول اللہ ! آپ ان لوگوں سے جہاد کس طرح کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ گواہی دین کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں تومجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بجز اس کے حق کے بچا لیں گے؛ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا یہ نہیں فرمایا :’’ اس کے حق کے ساتھ‘‘ بیشک زکوٰۃ اسلام کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر ان لوگوں نے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے، تو میں اس کے نہ دینے والوں سے جنگ کروں گا۔‘‘ [صحیح بخاری:ح۲۱۶۰؛ ۹؍۹۳ ؛ کتاب الاعتصام ؛ باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ مسلم ۱؍ ۵۱؛ کتاب الإیمان ؛ باب الأمر بقتال الناس حتي یقولوا لا إلہ إلا اللّٰہ ؛ سنن النسائی ۵؍۱۰ ؛ کتاب الزکاۃ ؛ باب مانع الزکاۃ۔]

ان لوگوں سے اس وجہ سے قتال نہیں کیا گیا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃادا نہیں کرتے تھے۔کیونکہ اگر یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے زکوٰۃ ادا کرتے ‘ اور خود فقراء و مساکین میں تقسیم کردیتے تو ان کے خلاف جنگ نہ لڑی جاتی۔یہی جمہور علماء کرام کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام ابو حنیفہ ؛ امام احمد رحمہم اللہ وغیرہ ۔

ان کا کہنا ہے : اگر کوئی یہ کہے کہ: ہم اپنی زکوٰۃ حکمران کو نہیں دیں گے ‘ بلکہ اپنے ہاتھوں سے تقسیم کریں گے۔توان کے خلاف لڑنا جائز نہیں ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کسی ایک سے بھی اپنی اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے جنگ نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی ایک پر اپنی بیعت کو لازم ٹھہرایا ۔ اسی لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ آپ کی بیعت کرنے سے پیچھے رہے ‘ مگر آپ نے انہیں بیعت کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا ۔

٭ شیعہ کا یہ کہنا کہ : ’’ بنو حنیفہ نے چونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہ دی تھی؛ اور آپ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس لیے انھیں مرتدین کا نام دیا۔‘‘

٭ جواب : ہم کہتے ہیں : یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔اسی طرح یہ دعوی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بنو حنیفہ سے جنگ کا انکار کیا ۔صاف دروغ گوئی پر مبنی ہے ۔ [جیسا کہ ابھی سطور بالا میں واضح کیا ]۔ 

[دوبارہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کا جواب ]

[اعتراض]: شیعہ مصنف رقم طراز ہے:’’جن لوگوں نے مسلمانوں کو مباح الدم قرار دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہوئے، اہل سنت ان کو مرتد نہیں کہتے، حالانکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہوا ہے :

((یَا عَلِیُّ حَرْبِیْ حَرْبُکَ وَ سَلْمِیْ سَلْمُکَ۔))

’’ اے علی تیری جنگ میری جنگ ہے ‘ اور تیری صلح میری صلح ہے ۔‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والا بالاتفاق کافر ہے۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: یہ دعوی کرنا اہل سنت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سن رکھی تھی ؛محض کذب ودروغ ہے ۔ کس نے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہوئی تھی؟حدیث کی کتب معروفہ میں موجود نہیں اس کی کوئی سند معروف نہیں اور یہ جھوٹی اور موضوع حدیث ہے۔ اگر تسلیم کرلیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر ایسا فرمایا بھی تھا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سب نے سنا ہو۔ اس لیے کہ جو کچھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ‘ تمام لوگ اسے نہیں سنا کرتے تھے[بلکہ وہ صحابہ جو موقع پر موجود ہوتے ‘ وہی سنا کرتے تھے]۔ تو پھر اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی ہی نہ ہو۔ اور نہ ہی وہ معروف اسناد کیساتھ منقول ہو۔ بلکہ اس پر مستزاد کہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑی گئی ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم و محدثین کا اتفاق ہے۔ 

علاوہ ازیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل و صفین سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بنا پر نہیں لڑی تھی بلکہ اپنے اجتہاد کی بنا پر لڑی تھی۔امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں حضرت قیس بن عباد سے نقل کیا ہے ‘وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ جنگ لڑنے کا عہد لیا تھا یا آپ اپنی مرضی سے جنگ کر رہے ہیں ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہیں بلکہ میری رائے پر مبنی ہے۔‘‘[مسند احمد(۱؍۱۱۴) و فضائل الصحابۃ لامام احمد (۴۴۷)، والسنۃ لعبد اللہ بن احمد (۱۳۲۷)۔قیس بن عباد اصحاب علی رضی اللہ عنہ سے ہیں ، ان سے روایت کردہ احادیث بخاری، مسلم، ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ میں موجود ہیں ۔یہ حضرت حسن بصری کے استاد تھے۔]

صفحہ 1 از 7