فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑنے والا محارب رسول اور دین اسلام سے مرتد ہوتا تو آپ ان جنگ آزماؤں سے مرتدین جیسا سلوک کرتے۔ بلکہ بروایات متواترہ آپ سے منقول ہے کہ آپ نے جنگ جمل میں کسی بھاگنے والے کا تعاقب کیا نہ کسی زخمی کو قتل کیا ان کے مال کو مال غنیمت قرار دیا نہ ان کے بچوں کو قیدی بنایا ۔ آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ لشکر میں اعلان کرے کہ : بھاگنے والا کاپیچھا نہ کیا جائے ۔زخمی کو قتل نہ کیا جائے ‘ اور ان کے اموال کو غنیمت نہ بنایا جائے۔ اگر یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک مرتد ہوتے تو آپ ان کے زخمیوں کو قتل کرتے ‘ اور بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے ۔

خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف یہی اعتراض اٹھایا تھا۔ خوارج نے کہا:’’اگر آپ کے مخالفین مومن ہیں ، تو آپ ان کے خلاف جنگ آزما کیوں ہوئے؟ اور اگر کافر ہیں تو ان کی عورتیں اور مال کیوں کر حرام ٹھہرا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے مناظرہ کرنے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خوارج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’مخالفین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، اگر تم کہو کہ وہ تمہاری ماں نہیں تو تم نے قرآن کو جھٹلایا اوراگر یہ کہو کہ وہ ہماری ماں ہیں اور تم ان کو قید کرنے اور ان سے مجامعت کرنے کو حلال قرار دو تو تم کافر ٹھہرے۔‘‘[مسند احمد(۱؍۸۶۔۸۷) بمعناہ، طبقات ابن سعد(۳؍۳۲)، معجم کبیر طبرانی (۱۰؍ ۳۱۴) مجمع الزوائد(۶؍۲۳۹)، تاریخ الاسلام للذہبی(عہد الخلفاء: ،ص:۵۸۸۔۵۹۰)]

حضرت علی رضی اللہ عنہ اصحاب جمل کے بارے میں فرمایا کرتے تھے:

’’وہ ہمارے بھائی ہیں ، مگر انھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کر دی، اور تلوار نے ان کو گناہوں سے پاک کردیا۔‘‘[سنن کبریٰ بیہقی(۸؍۱۸۲)۔]

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے فریقین کے مقتولوں کا جنازہ پڑھایا تھا۔اس کے بارے میں تفصیلی گفتگو آگے آرہی ہے۔

’’علاوہ ازیں اگر اہل صفین مرتد تھے تو بقول شیعہ امام حسن رضی اللہ عنہ جیسے امام معصوم کے لیے خلافت سے دست برداری اور اسے ایک مرتد کو تفویض کرنا کیوں کر جائز ہوا؟ان کے عقیدہ کے مطابق معصوم نے اسلام کی باگ ڈور ایک مرتد کے سپرد کردی ۔ یہ توکسی عام مسلمان کا کام بھی نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ کوئی معصوم ایسی حرکت کرے؟ ‘‘

نیز یہ بھی کہا جائے گا کہ : اگر محض حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مؤمنین تھے‘ اور ان کے مخالفین مرتد تھے؛ تواس سے لازم آتا ہے کہ کفار اور مرتد ہمیشہ مؤمنین پر غالب رہے ۔جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ﴾ [غافر۵۱]

’’یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہونگے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ اپنی کتاب مقدس میں فرماتے ہیں :

﴿وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ oاِِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنصُورُوْنَ oوَاِِنَّ جُندَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ ﴾ [الصافات۱۷۱۔۱۷۳]

’’اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں ۔بیشک یقیناً ان کی مدد کی جائے گی۔اور بیشک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا ۔‘‘

اورایسے ہی اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [المنافقون ۸]

’’حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوں کے لیے ہے۔‘‘

یہ روافض جن کا دعوی ہے کہ ہم مؤمن ہیں یہ ہمیشہ ذلت اور پستی میں رہے ہیں ۔[فرمان الٰہی ہے]:

﴿ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ

’’ان پر ہر جگہ میں ہمیشہ کے لیے ذلت مسلط کردی گئی ہے ‘ سوائے اس کے کہ یہ لوگوں کا سہارا لیں ۔‘‘ اور کچھ اللہ کی طرف سے انہیں ڈھیل مل جائے۔

[لڑنے والے دونوں فریق مومن ہیں ]:

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ ذیل آیت میں فریقین کو آپس میں جنگ و قتال اور زیادتی کے باوجود مومن قرار دیا ہے؛ ارشاد فرمایا :

﴿وَ اِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا﴾[اہل ایمان سے خطاب کرکے فرمایا کہ: ان کا موقف یہ ہونا چاہئے کہ فریقین جب بھی برسر پیکار ہوں وہ ان کے مابین صلح کرانے کے لیے سعی و جہد کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں ۔ کسی شخص میں اصلاح بین المومنین کا جذبہ جس حد تک بھی موجزن ہو گا وہ اس قدر صادق الایمان ہوگا اور وہ اتنا ہی زیادہ روح اسلام اور اس کے غایات و مقاصد سے قریب تر ہوگا۔ اور وہ جس قدر متنازع فریقین کے مابین شقاق و نفاق کا آرزو مند ہوگا، اسی قدر ضعیف الایمان اور روح ایمان سے بعید تر ہو گا۔ مختلف مذاہب و ادیان کے لوگ اس کتاب کا مطالعہ کریں گے ۔ غیر مسلم قاری جب جملہ اختلافی مباحث کے بارے میں اہل سنت و شیعہ کے رجحانات و میلانات کا موازنہ کرے گا تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے برادران کرام صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں شیعہ کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ وہ شدت وحدت اور الحاح و اصرار سے ان کو بڑھاتا اور پھیلاتا چلا جائے ۔ اس کے عین برعکس اہل سنت اس امر میں کوشاں ہوں گے کہ حکمت و دانش اور رفق و انصاف کو کام میں لاکر فریقین کے درمیان کوئی عذر شرعی تلاش کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ دونوں فریق حق سے دور نہیں ۔ نیز یہ کہ یہ واقعات خارجی عوامل و اسباب کے تحت وقوع پذیر ہوئے۔ جن میں سب سے بڑا مؤثر اہل فتنہ کا وجود نا مسعود ہے۔ اہل سنت ہمیشہ اتحاد و یگانگت اور موافقت و مطابقت کا پہلو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مومن خالص اور زیر تبصرہ آیت کا(] (الحجرات:۹)

’’اگر مومنوں کے دو گروہ لڑپڑیں تو ان دونوں کے ما بین صلح کرادیجیے۔‘‘

صحیح حدیث میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :

صفحہ 2 از 7