فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

جب ان کی زیادتی لڑائی کے بعد اور اصلاح سے پہلے تھی۔ تو یہاں سے اس قتل کے جواز کا نقطہ نکالا جاتا ہے۔اور اسی قدر اس جنگ کے دوران ہوا بھی۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی ڈگمگاگئے؛ اور وہ ثابت قدم نہ رہ سکے؛ اسی لیے انہوں نے قرآنی مصاحف بلند کر لیے۔ پس جس حالت میں انہیں جنگ کرنے کا حکم تھا؛ اس میں تو انہوں نے جنگ نہیں کی۔ اور جب انہوں نے جنگ کی ؛ اس وقت وہ اس حکم کے مخاطب نہ تھے۔اگروہ لوگ باغی اور زیادتی کار تھے؛ تو یہ بھی اپنی ذمہ داری میں متساہل اور کوتاہ عمل تھے۔ اسی لیے انہیں عاجزی اورپستی کا سامنا کرنا پڑا؛ او رتفرقہ کا شکار ہوگئے۔ اورامام وقت کو ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم نہیں ہوتا۔

خلاصہ کلام! اس بحث کے انتہائی دقیق امور کو تلاش اور بیان کرنا اہل علم میں سے خاص لوگوں کا کام ہے؛ بخلاف اس کے کہ ان کی تکفیر میں کلام کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس کی خرابی کو کثیر دلائل کی بنا پر خواص اور عوام سبھی جانتے ہیں ۔

جنگ جمل و صفین کی شرعی حیثیت:

٭ شیعہ مصنف کی پیش کردہ حدیث :’’ اے علی تجھ سے لڑائی مجھ سے جنگ آزما ہونے کے مترادف ہے۔‘‘

٭ جواب : اس روایت کاکذب اس بات سے ظاہر ہے کہ اگر حرب علی، حرب رسول ہوتی تو جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کامیابی ناگزیر تھی، اس لیے کہ اللہتعالیٰ انبیاء و رسل کی نصرت و تائید کا کفیل ہے۔اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ﴾ [غافر۵۱]

’’یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔‘‘

نیز فرمایا:﴿وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ oاِِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنصُورُوْنَ o وَاِِنَّ جُندَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ ﴾ [الصافات۱۷۱۔۱۷۳]

’’اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں ۔بیشک یقیناً ان کی مدد کی جائے گی۔اور بیشک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا ۔‘‘

اس آیت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ حدیث صحیح ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعداء ہمیشہ مغلوب ہوتے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔بلکہ خوارج جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کا حکم دیا تھا‘ وہ حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والوں میں سے بھی تھے ۔ ان کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کونصرت حاصل ہوئی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مرسلین علیہم السلام کے دور میں ان کے مخالفین پر مدد کی جاتی تھی ۔ اگرچہ ان جنگوں میں بہت بڑے امتحان کا بھی سامنا کرنا پڑا ؛ مگر آخر میں اچھا انجام کار مؤمنین کے حق میں ہی ہوتا۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جنگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ ہوتی تو آخر کار آپ کو فتح و کامرانی ضرور نصیب ہوتی۔حالانکہ ایسا ہوا نہیں ۔ بلکہ آخر میں آپ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ بندی اور صلح کرنا چاہی ۔اور معاملہ ویسے ہی ہوا جیسے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شروع میں چاہتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ :یہ جنگ و قتال ؛ اگرچہ اس کی بنیاد اجتہاد پر تھی ؛ مگر یہ ایسی جنگ بھی نہیں تھی کہ اس جنگ کے لڑنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے والے سمجھ لیا جاتا۔ اور پھر اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے تھے ؛ تو ان محاربین کا حکم راہزنوں کا حکم ہوتاہے ؛ اگر یہ مسلمان ہوں تو انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا ۔ اللہتعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لوگوں کا اختلاف ہے:

﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا ﴾ (المائدۃ ۳۳]

’’ ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں ، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے۔‘‘

کیایہ آیت کفار کے بارے میں ہے یا مسلمانوں کے بارے میں ؟ جو لوگ کہتے ہیں : یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں ہے؛ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کافرمان یہ ہے :

﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَ اَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ﴾ (المائدۃ ۳۳]

’’ ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں ، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں ، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔‘‘

اگر یہ لوگ کفار اور مرتد ہوتے تو صرف ان کے ہاتھ کاٹنے یا ملک بدر کرنے پر اکتفا کرنا جائز نہ ہوتا۔ بل ان کا قتل کرنا واجب ہوتا۔ کیونکہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے۔

ایسے ہی جو کوئی اپنے محاربہ میں متأول اور مجتہد ہو تو وہ کافر نہیں ہوتا۔ جیسے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا اس مسلمان کو تأویل کی بنا پر قتل کرنا؛ اس وجہ سے آپ کافر نہیں ہوئے۔ اور اگر کوئی کسی معصوم مسلمان کے قتل کرنے کو حلال سمجھتا ہو ؛ تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ یہی حال مؤمن کی تکفیر کرنے والے کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’ جب کوئی انسان اپنے بھائی سے کہتا ہے : یا کافر ؛ تو وہ دو باتوں میں سے ایک کے ساتھ لوٹتا ہے۔‘‘[البخاری ۸؍۲۶ ؛ کتاب الأدب باب من کفر أخاہ بغیر تأویل فہو کما قال ؛ مسلم ۱؍ ۷۹ ؛ کتاب الإیمان باب بیان حال إیمان من لأخیہ مسلم : یا کافر۔ سنن الترمذي ۴؍ ۱۳۲۔]

مگراس کے باوجود اگروہ یہ جملہ تأویل کی بنیاد پر کہے تو وہ کافر نہیں ہوگا؛ جیسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا تھا:

’’مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق اور اس کے ساتھیوں کی گردن اڑا دوں ۔‘‘

صفحہ 6 از 7