فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟…

فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟

[کج فہمي]:شیعہ مضمون نگار لکھتا ہے:’’ بعض فضلاء نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ:’’ معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر تھے، کیونکہ شیطان نے تو کچھ نیکیاں بھی انجام دی تھیں ، اس کے برخلاف معاویہ اعمال صالحہ سے محروم تھے۔ البتہ میدان معصیت میں شیطان کیساتھ تھا ۔ علماء کے ہاں مسلّم ہے کہ ابلیس سب فرشتوں سے زیادہ عبادت کرتا تھا ۔اور اس نے چھ ہزار سال تک تنہا عرش معلیٰ کو اٹھائے رکھا ۔جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کوپیدا کیا ‘اور انہیں زمین میں خلیفہ بنایا۔اور اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا، تویہ تکبر کرکے ملعون ومردود ٹھہرا۔ مگر معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام لانے تک مشرک اور صنم پرست رہا‘ یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح کے ایک لمبے عرصہ بعد اسلام قبول کیا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بنا بر کبر خلیفہ [امام ]نہ مان کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبر کیا ‘حالانکہ تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی تھی ؛ اور آپ کو مسند خلافت پر بیٹھا دیا تھا؛ لہٰذا وہ ابلیس سے بد تر ٹھہرا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: ہم کہتے ہیں کہ یہ کلام جہالت و ضلالت کا آئینہ داراور دین اسلام اور ہر دین سے خروج ہے۔ بلکہ اس عقل سلیم کے بھی منافی ہے جو بہت سارے کفار کو میسر ہوتی ہے۔اس کی وجوہات کسی بھی غور کرنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتیں ۔ 

[پہلی بات] :بلاشبہ ابلیس لعین سب کفار سے بڑاکافر ہے، بلکہ سب کافر اس کے اتباع اور کشتہ ٔ ضلالت ہیں ۔ پس جو کوئی بھی جہنم میں داخل ہوگا ‘ وہ اس کے اتباع کاروں میں سے ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿لَاَمْلَاَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴾ [ص ۸۵]

’’میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان لوگوں سے بھر دوں گا، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے۔‘‘

شیطان ہر برائی کا حکم دیتا ہے ‘ اور اسے لوگوں کے لیے خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے ۔ توپھر کوئی شیطان سے بڑھ کر برا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور پھر خاص کر مسلمانوں میں سے اور خصوصاً صحابہ کرام میں سے ؟

شیعہ کا یہ کہناہے کہ : ’’ معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر تھے، کیوں کہ شیطان نے توکچھ نیکیاں بھی انجام دی تھیں ، اس کے برخلاف معاویہ اعمال صالحہ سے محروم تھے۔ البتہ میدان معصیت میں شیطان کیساتھ تھا ۔‘‘

٭ اس جملے کا تقاضا یہ ہے کہ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے ‘ وہ ابلیس سے بدتر ہو۔اس لیے کہ اس کا اطاعت میں کوئی سابق یا پیشوا نہیں ہوتا ۔اوروہ میدان معصیت میں اس کا ساتھ دیتا ہے ۔ تو پھر اس بنا پر آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد ابلیس سے بدتر ہوں گے۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے :

’’ تمام کے تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور ان میں سے بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ [ترمذی۳؍۷۰ ؛ سبق تخریجہ ]

پھر کیا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ : ’’ مسلمانوں میں سے جو کوئی گناہ کرے وہ شیطان ابلیس سے بھی بدتر ہوگا؟ کیا اس قول کا باطل اورفاسد ہونا دین اسلام میں اضطراری طور پر معلوم نہیں ہے؟ ایسی بات کا کہنے والایقیناًکافر ہے اس کا کفر دین اسلام میں ضرورت کے تحت معلوم ہے۔

اس قول کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ : شیعہ ہمیشہ گناہ کرتے ہیں ۔توان میں سے ہر ایک ابلیس سے بھی بڑھ کر برا ہوگا؟پھر اگر خوارج کہیں : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گناہ کیا ؛ لہٰذاآپ بھی ابلیس سے برے ہوئے۔‘‘تو روافض کے پاس آپ کی عصمت کے دعوی کی کوئی دلیل نہ ہوگی۔اور نہ ہی شیعہ اس پر قادر ہیں کہ[اپنے اصولوں کے مطابق]خوارج کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان ‘ امامت اور عدالت پر حجت پیش کرسکیں ۔تو پھر آپ کے معصوم ہونے پر حجت کیسے پیش کرسکتے ہیں ؟ ۔ لیکن اہل سنت والجماعت اس پر قادر ہیں کہ آپ کے ایمان اور امامت پر حجت قائم کرسکیں ۔اس لیے کہ رافضی جس چیز سے استدلال کرتے ہیں ان میں بہت سارا تناقض اور تعارض پایا جاتا ہے اس وجہ سے ان سے استدلال کرنا باطل ہوجاتاہے۔ پھر جمہور کے قول پر قرآن کریم سے دلیل بھی قائم ہے ؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی﴾ [طہ ۱۲۱]

’’ آدم سے اپنے رب کی نافرمانی ہوئی اور راہِ راست سے ہٹ گیا۔‘‘

[اگر اسے شیعہ مسلک کے مطابق لیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ] آدم علیہ السلام ابلیس سے بھی برے ہوں ۔ الغرض ان کے اس عقیدہ کی وجہ سے جو برائیاں پیدا ہوتی ہیں ‘ وہ اعداد و شمار سے بڑھ کر ہیں ۔

دوسری بات :....رافضی کا کلام بغیر کسی دلیل کے ہے۔ بلکہ وہ فی نفسہ باطل ہے ۔ تم نے یہ کیوں کہا کہ: شیطان سے بدتر وہ ہے اطاعت میں جس کا کوئی سلف نہ ہو‘ اور میدان معصیت میں اس کے ساتھ ساتھ ہو؟ ۔اس لیے کہ شیطان کاہر میدان معصیت میں مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اور نہ ہی اس کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی ایک نافرمانی میں ابلیس کے برابر ہو۔ اوروہ لوگوں کو بہکاتا اورگمراہ کرتا ہو۔

ابلیس کی سابقہ اطاعت ؛ اس کے کفر کی وجہ سے ضائع ہوگئی ۔اس لیے کہ مرتد ہوجانے بعد تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔ پس اگر اس نے اس سے پہلے کوئی اطاعت و فرمانبرداری کے کام کیے ہوں گے تو وہ کفر اور ارتداد کی وجہ سے باطل ہوگئے اور جو کچھ نافرمانی کے کام کرتا ہے ‘ ان میں اس کا کوئی مماثل و مقابل نہیں ۔ توپھر یہ کہنا غلط ہوا کہ فلاں انسان ابلیس سے بڑھ کر برا ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہوسکتی ہے جیسے کو ئی انسان مرتد ہوجائے ‘ پھر زنا کرے ‘ لوگوں کو قتل کرے ‘ اور اپنی سابقہ اطاعت گزاری کے بعد انواع و اقسام کے گناہ کرے۔ پس جو شخص اس کے بعد آئے؛ وہ ان ضائع شدہ اطاعات میں اس کے مقام کو نہ پہنچ سکے ؛ مگر وہ کچھ محدود گناہوں میں اس کے ساتھ شریک رہے ؛ تو ان کی وجہ سے وہ اس سے برا نہیں ہوجائے گا۔ توپھر کوئی ابلیس سے بڑھ کر برا کیوں ہوسکتا ہے؟ ۔

صفحہ 1 از 4