فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟…

فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

اس سے خود شیعہ کے اصولوں پر کاری ضرب لگتی ہے ۔ خواہ وہ حق ہوں یا باطل۔ اس سے سب سے کم یہ چیز لازم آتی ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وہ ساتھی جو آپ سے مل کر بر سر پیکار رہتے تھے ‘ وہ کبھی کبھار حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نافرمانی بھی کیا کرتے تھے؛ وہ ان لوگوں سے برے ہوئے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی بیعت کرنے سے رک گئے تھے۔اس لیے کہ ان لوگوں نے اصحاب علی رضی اللہ عنہ سے پہلے اللہ کی بندگی کی ؛ جب کہ یہ لوگ میدان معصیت میں ساتھ چلتے رہے ۔

تیسری بات:....کون کہتا ہے کہ ابلیس فرشتوں سے زیادہ عبادت گزار تھا؟ [اس کی کیا دلیل ہے کہ] اس نے تنہا عرش کو چھ ہزار سال تک اٹھائے رکھا؟یا پھر اس کا شمار عرش اٹھانے والوں میں ہوتا تھا؟ یایہ کہ وہ ’’ طاؤس الملائکہ‘‘(فرشتوں کا مور) تھا؟ اور اس نے زمین و آسمان پر کوئی جگہ نہیں چھوڑی جہاں سجدہ نہ کیا ہواو رایک رکعت ادا نہ کی ہو؟ یا اس طرح کی دیگر باتیں جو عوام الناس میں مشہور کی گئی ہیں ؛ظاہر ہے کہ اس کی اساس نقل صادق پر ہونی چاہیے۔ حالانکہ یہ کسی آیت میں یا صحیح حدیث میں مذکور نہیں ۔تو پھر کیا اس سے کوئی انسان استدلال کرسکتا ہے سوائے اس کے جو اصول دین میں سب سے بڑا جاہل ہو۔

[شبہ] : بڑی عجیب بات تو یہ ہے کہ : ’’ رافضی مصنف کہتا ہے:’’ علماء کے مابین اس بابت کو ئی شک نہیں کہ ابلیس ملائکہ سے زیادہ عبادت گزار تھا۔‘‘ 

[جواب]: ہم پوچھتے ہیں کہ : ’’ یہ بات کس نے کہی ؟ صحابہ کرام تابعین عظام میں سے کسی نے یا دیگر علماء کرام نے ؟ ۔ تو پھر چہ جائے کہ یہ دعوی کیا جائے کہ علماء کرام کے مابین متفق علیہ ہے ۔ یہ بات ہر گز کسی ایسے مسلمان عالم نے نہیں کہی جس کی بات قابل قبول ہو۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں صرف منقول پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ جب کہ یہ حکایت کسی طرح بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل نہیں کی گئی ؛ نہ ہی کسی صحیح سند سے اور نہ ہی کسی ضعیف سند سے ۔ شیعہ مصنف کی افتراء پردازی کا یہ عالم ہے کہ اس جھوٹ کو علماء کے ہاں مسلم قرار دیتا ہے، اگر یہ بات کسی وعظ گو ملا نے کہی ہو یا ترغیب و ترہیب[یہ وہ کتب ہیں جو عوام کو وعظ سنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں ، ان میں ترغیب و ترہیب پر مشتمل مبالغہ آمیز حکایات ہوتی ہیں ، جو تاریخ و تراجم کی کسی کتاب میں مذکور نہیں ۔ یہ مبالغہ سنت الٰہی کے منافی ہو یا نہ ہو، البتہ کتاب و سنت کی تصریحات کے ضرور خلاف ہوتا ہے، ان کتب کے مصنفین باسند یا بے سند اور مصادر کا نام لے کر یا نام لیے بغیر جو احادیث بیان کرتے ہیں ان کی صحت کے اثبات میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں کہ یہ احادیث عوام کو وعظ سنانے کے لیے ذکر کی جاتی ہیں ، استنباط احکام کے لیے نہیں ، حالانکہ ان لوگوں کو احادیث سنانے کی بجائے ان کے سامنے اپنا عملی نمونہ پیش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ احادیث سنتے تو ان میں سے اکثر کو ردّ فرما دیتے۔] کی کسی کتاب میں درج ہو۔ یا کسی ایسی بے اصل تفسیر میں منقول ہو جو اسرائیلیات سے لبریز ہو تو بھی اس سے کسی معمولی بات پر احتجاج کرنا بھی درست نہیں چہ جائیکہ اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا جائے کہ ابلیس گناہ گار بنی آدم سے افضل تھا اور صحابہ کو ان لوگوں کو شامل کیا جائے جن سے ابلیس بہتر تھا۔

اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی ابلیس لعین کا ذکر مدح وستائش کے انداز میں نہیں کیا۔نہ ہی اس کی سابقہ کی عبادت کی وجہ سے اور نہ ہی کسی دوسری وجہ سے ۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اگر اس کی کوئی عبادت تھی بھی؛ تووہ اس کے مرتد ہونے سے ضائع ہوگئی۔

اس سے بھی عجیب رافضی کا یہ کہنا ہے کہ: ’’ اکیلے ابلیس نے چھ ہزار سال تک اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے رکھا ۔‘‘

سبحان اللّٰہ! کیا یہ بات کسی ایسے مسلمان عالم نے کہی ہے جس کی بات مسلمانوں میں مقبول ہو؟ اور کیا کسی جاہل اور غلو کار کے علاوہ کوئی دوسرا بھی یہ بات کہہ سکتا ہے ؟ اگر یہ بات سچ ہوتی تو کسی بھی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور منقول ہوتی۔

پھر اکیلے فرشتہ کا بھی عرش کو اٹھانے کا کہنا صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ابلیس توحاملین عرش میں بھی شامل نہ تھا، تنہا حامل عرش ہونا تو ایک جداگانہ بات ہے ۔ یہ سب یاوا گوئی ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ ابلیس کے جملہ اعمال صالحہ اگر تھے بھی تو وہ ضائع ہو گئے تھے۔[نیز یہ کس نے کہا کہ : اکیلا ابلیس حاملین عرش میں سے تھا ؟]یہ سب سے بڑا اور کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿الَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾ [غافر۷]

’’وہ جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اورا ن لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کا عرش اٹھانے والے کئی فرشتے ہیں ‘ صرف کوئی ایک نہیں ہے۔ اور یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

اگر کوئی یہ کہے :’’ یہ عرش اٹھائے جانے کے متعلق مطلق ایک خبر ہے ۔ اس میں کہیں بھی بیان نہیں ہے کہ وہی حاملین ابھی تک عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ۔‘‘

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا : صحیح روایات میں آیا ہے کہ وہی حاملین عرش ابھی تک اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ۔ عبد اللہ بن صالح اور معاویہ بن صالح سے روایت ہے :’’ جب اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا تو فرشتوں کو عرش اٹھانے کا حکم دیا ۔ وہ عرض گزار ہوئے :ہم اس عرش کو کیسے اٹھائیں گے جب کہ اس پر آپ کی عظمت ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

’’ کہو: لا حول و لا قوۃ إلا باللّٰہ‘‘ جب فرشتوں نے یہ کلمہ کہا تو ان میں عرش اٹھانے کی طاقت پیدا ہوگئی۔‘‘ 

چوتھی بات : ان سے کہا جائے گا کہ : ابلیس نے کفر کیا تھا؛ جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق خبری دی ہے ‘ فرمایا:

صفحہ 2 از 4